جرات حملے کی زد میں: ایک سفارت کار کی کہانی

امریکی پرچم والی وین عمارت سے باہر نکل رہی ہے (© Pascal Le Segretain/Sygma/Getty Images)
12 جون 1997 کو ری پبلک آف کانگو کے شہر برازاویل میں بدامنی کے دوران امریکی شہریوں کو شہر سے نکال کر لے جایا جا رہا ہے۔ (© Pascal Le Segretain/Sygma/Getty Images)

ولیم ایس رولینڈ کی ایک فارن سروس آفیسر کی حیثیت سے شروع ہونے والی طویل پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز 1997ء میں ری پبلک آف  کانگو میں خانہ جنگی کے دوران خطرات اور بہادری سے ہوا۔

 مسکراتا ہوا شخص (Courtesy of William Rowland)
ولیم رولینڈ (Courtesy of William Rowland)

امریکی محکمہ خارجہ نے سفارت کاری کے ہیروز کے عنوان سے شروع کیے جانے والے ایک سلسلے میں، 29 ستمبر کو تشدد اور  جنگ کے دوران رولینڈ کی دلیری اور حاضر دماغی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

رولینڈ کی فارن سروس آفیسر کی حیثیت سے اولین بیرون ملک تعیناتی برازاویل میں ہوئی۔ اپنی تعیناتی کے دوسرے سال  یعنی جون1997ء میں وہاں خانہ جنگی شروع  ہوگئی۔ باغی فوجیوں نے صدر کے گھر کو گھیر لیا اور شہر پر قبضہ کر لیا۔

برازاویل میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو نکالنے کی کوشش کی مگر ملیشیا اور حکومتی دستوں کے درمیان جاری لڑائی میں ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے باہر نکلنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ لڑائی کے دوسرے دن لڑنے والے دستوں نے سفارت خانے کے گیٹ توڑ دیئے۔ سفارت کاروں کو عمارت کے اندر ایک محفوظ مقام پر بھیج دیا گیا۔

سفارت خانے کا عملہ ڈاک کے تھیلوں میں کتری ہوئی دستاویزات کے چھوٹے چھوٹے کاغذی ٹکڑے بھر کے بنائے جانے والے تکیوں پر سویا۔ عمارت سے باہر، ملیشیا گروپوں کی لڑائی جاری تھی۔

رولینڈ نے بتایا، "میں اتنا مصروف تھا کہ میرے پاس خوفزدہ ہونے کے لیے کوئی وقت نہ تھا۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اردگرد بہت کچھ ہو رہا تھا، اور (اگر) آپ صورت حال میں اتنے الجھے ہوئے ہوں تو آپ پھر اس (خوف) کے بارے میں آپ اِس طرح  سے نہیں سوچتے۔”

جب یہ خبر پہنچی کہ ایک ملیشیا گروپ نے  دو امریکی سفارت کاروں کو پکڑا ہوا ہے تو رولینڈ نے انہیں بازیاب کرانے کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ وہ سفیر کی بلٹ پروف گاڑی لے کر باغیوں کے علاقے میں مذاکرات کرنے اور اُن (سفارت کاروں) کو رہا کرانے نکل گئے۔

اس قسم کے خطرناک مشن کے لیے مجھے رضاکار کس نے بنایا؟ وہ بتاتے ہیں، "بس ایسے لگا کہ کرنے کا یہ ایک درست کام ہے۔”

چند دنوں کے بعد سفارت خانے نے عملے کے کچھ لوگوں کو ایک مشنری جہاز پر روانہ کرنے کا انتظام کیا۔ مگر ایئرپورٹ جاتے ہوئے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اور وہ جہاز تک وقت پر نہ پہنچ سکے۔

رن وے پر صرف ایک ہی جہاز تھا جس کا عملہ روسی تھا۔ خوش قسمتی سے رولینڈ کو روسی زبان آتی تھی۔ انہوں نے اُن کے ساتھ بات چیت کی اور بالآخر اپنے لیے اور اپنے رفقائے کار کے لیے ڈیمو کریٹک ری پبلک آف کانگو جانے کے لیے ایک پرواز کا بندوبست کیا۔ وہاں سے، سب لوگ بخیریت وطن واپس آئے۔

اس کے بعد رولینڈ نے فارن سروس میں مزید 23 برس تک کام  کیا اور اس سال گرمیوں میں ریٹائر ہوئے۔ دنیا میں کہیں بھی موجود سفارت کاروں کے لیے اُن کا یہ مشورہ ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔

انہوں نے بتایا کہ جس چیز نے پوری پیشہ وارانہ زندگی میں اُن  کی ہمت بندھائے رکھی وہ یہ مقصد تھا کہ "امریکیوں کی اس وقت مدد کرنا جب وہ کسی ایسے صورت حال سے دوچار ہو جائیں جس میں وہ اپنی مدد آپ نہ کر سکیں۔”