امریکہ بدعنوانی سے نمٹنے اور پوری دنیا میں ایماندار حکمرانی کی حمایت کے لیے اپنی کوششیں تیز سے تیز کر رہا ہے۔

صدر بائیڈن نے 3 جون کی ایک یادداشت میں عالمی بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی سلامتی کی ایک ترجیح کا درجہ دیا۔ بائیڈن کی میزبانی میں 9 اور 10 دسمبر کو ہونے والی جمہوریت کی سربراہی کانفرنس کے تین ستونوں میں سے ایک ستون انسداد بدعنوانی کی کوششیں ہیں۔ آمریت کے خلاف دفاع کرنا اور انسانی حقوق کے احترام کا فروغ دیگر دو ستون ہیں۔

بائیڈن نے 21 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا، “بدعنوانی عدم مساوات کو ہوا دیتی ہے، کسی بھی قوم کو وسائل سے محروم کر دیتی ہے، سرحدوں کے آرپار پھیل جاتی ہے اور انسانی مصائب پیدا کرتی ہے۔ یہ اکیسویں صدی میں کسی بھی قومی سلامتی کے خطرے سے کم نہیں۔”اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زائد کی رشوتیں دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا کہ بدعنوانی کی دوسری اقسام کے ذریعے عالمی معیشت سے 2.6 کھرب ڈالر کی اضافی رقم نکال لی جاتی ہے۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حاشیے پر ہونے والی ایک گول میز گفتگو کے دوران امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) کی منتظمہ، سمنتھا پاور نے کہا کہ بدعنوانی ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے جو جمہوریتوں اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے “انسداد بدعنوانی کی ایک نئی ٹاسک فورس اور ریسپانس فنڈ” کے قیام کا اعلان کیا تاکہ یو ایس ایڈ کی دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کی مدد کو بڑہاوا دیا جا سکے۔ پاور نے کہا کہ یہ ٹاسک فورس “اُن تفتیش کاروں اور اصلاح کاروں  کی ایک نئی نسل کی مدد کرے گی جو نہ صرف بدعنوان کرداروں کو بے نقاب کرنے بلکہ بدعنوان نظاموں کو بھی بے نقاب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔”

 ستون کے اوپر لگے کرنسی نوٹ اور ستون کو کاٹنے والے شخص کا تصویری خاکہ۔ (State Dept./Doug Thompson)
(State Dept./Doug Thompson)

محکمہ خارجہ کی انڈر سیکریٹری برائے شہری تحفظ، جمہوریت اور انسانی حقوق عذرا ضیا نے پینل کو بتایا کہ امریکہ بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خیال شراکت داروں کا اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔ محکمہ خارجہ دنیا بھر میں حکومت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے اور اثاثوں کو برآمد کیا جا سکے۔

پینلسٹ مرانڈا پیٹرچِک، منظم جرائم اور بدعنوانی کی رپورٹنگ کے پراجیکٹ کی ڈپٹی ایڈیٹر انچیف ہیں۔ یہ ایک نیٹ ورک ہے جو زیادہ تر یورپ، وسطی ایشیا اور افریقہ میں کام کرنے والے صحافیوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے لیے صحافی سرحدوں سے بے نیاز ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، “کسی نیٹ ورک کے خلاف لڑنے کے لیے بھی ایک نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔”

تیونس میں “آئی واچ” نامی ایڈووکیسی گروپ کی بنیاد رکھنے والے، اشرف اوادی نے کہا گو کہ روائتی طور پر وکلاء اور صحافی بدعنوانی سے نمٹتے ہیں تاہم اس میں شہریوں کا بھی ایک کردار ہوتا ہے۔

اوادی نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف تحفظ میں ہر کسی کا کوئی نہ کوئی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا، “ہمارا شہریوں کی شمولیت کا ایک شعبہ ہے جو فن کاروں، اساتذہ کے ساتھ کام کرتا ہے۔”

گوئٹے مالا میں بدعنوانی کے مقدمات چلائے  والے، خوان فرانسسکو سینڈوال الفارو نے کہا کہ حکومتی اداروں سے لے کر انتخابی عمل اور کاروباروں اور محنت کی تنظیموں تک معاشرے کے تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔

پاور نے دیگر پینلسٹوں کی طرف سے شہریوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور تعاون کے لیے کیے جانے والے مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، ” بدعنوانی کے خلاف جنگ میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے، ہمیں شہری شراکت داروں کے ساتھ ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے اُن پینلسٹوں کی تعریف کی جو ایک انصاف پسند معاشرے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “آپ کا سرحدوں سے ماورا بدعنوانی کا بلا خوف مقابلہ کرنے پر شکریہ جس کا مقصد یہ ہے کہ دیگر لوگوں کو بھی روشن مستقبل میں آواز [کا حق] اور موقع مل ہو سکے۔”