جنوبی امریکہ کو آزادی دلانے والے سائمن بولیوار کو خراج تحسین

24 جولائی کو سائمن بولیوار کی سالگرہ کے موقع پر وینیز ویلا میں قومی تعطیل ہوتی ہے۔ ہہت ہی کم لوگ کسی ملک کی بنیاد رکھنے کا دعوی کر سکتے ہیں۔ مگر سائمن بولیوار نے ہسپانوی حکمرانی سے چھ ممالک کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وینیز ویلا، بولیویا، کولمبیا، ایکویڈور، پیرو اور پانامہ تمام ممالک اپنی آزادی کے لیے ” ایل لبرتادور” کے نام سے مشہور اس انسان کے احسان مند ہیں۔

وینیز ویلا کے ساتھ بولیوار کی سب سے زیادہ منسوبیت ہے۔ آج بولیوار کے ورثے کے ساتھ سب سے زیادہ  بے وفائی کرنے والی مادورو کی سابقہ حکومت کے ہاتھوں اٹھائے جانے والے نقصانات کی وجہ سے وینیز ویلا مصیبتوں میں گرفتار ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے وینیز ویلا کے لیے نمائندہ خصوصی، ایلیٹ ابرامز نے کہا کہ 40 سال قبل، "لاطینی امریکہ میں دو جمہوریتیں تھیں۔ اِن میں سے ایک وینیز ویلا اور دوسری کوسٹا ریکا تھی۔ یہ ملک ایک ایسے خطے میں استحکام کا ستون تھا جو اکثر شورش انگیز رہتا تھا۔ یہ نہ صرف بولیوار کی جائے پیدائش تھا بلکہ اُن کے آدرشوں کا روشنیوں کا مینار بھی تھا۔”

کراکس میں پیدا ہونے والے بولیوار کو نوعمری میں فوجی تعلیم کے لیے یورپ بھیج دیا گیا۔ وہ 24 سال کی عمر میں وینیز ویلا واپس لوٹ آئے۔ ایک سال بعد انہوں نے نئی دنیا میں ہسپانوی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اپنی پہلی مہم کا آغاز کیا۔

"بولیوار: آزادی دلانے والا امریکی ” کے نام سے لکھی جانے والی کتاب کی مصنفہ، ماری آرانا نے این پی آر (ریڈیو) کو بتایا کہ بولیوار حقیقی معنوں میں "امریکی انقلاب اور امریکیوں کی آزادی کی لگن کو سراہتے تھے۔”

Man at microphone with fist raised, with large portrait of elaborately uniformed man behind him (© Ariana Cubillos/AP Images)
سائمن بولیوار کی مصور کی بنائی تصویر کے سامنے نکولس مادورو تقریر کر رہا ہے۔ (© Ariana Cubillos/AP Images)

بولیوار نے اپنی حیثیت ایک عظیم جنگی منصوبہ ساز اور انتھک مہم جو کے طور پر منوائی اور 1819ء میں انہیں وینیز ویلا کا صدر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے نیو گریناڈا (جدید دور کے کولمبیا اور پانامہ) کے ساتھ ساتھ  پیرو، ایکویڈور اور بولیویا کو بھی آزاد کرانے کے لیے جنگیں لڑیں۔ بولیویا کا نام انہی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

جن ممالک کی بنیاد رکھنے میں بولیوار کا ہاتھ رہا اُن میں سے پیرو اور کولمبیا آج بھی اُن کے آدرشوں کی عملی جامہ پہنانے کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس سال وینیز ویلا کے یوم آزادی پر وہاں کے عوام سے کہا، "جیسا کہ بولیوار کے وقتوں میں تھا، وینیز ویلا کی جمہوریت کی راہ آسان نہیں ہے، مگر آپ دنیا کو اپنی آوازوں اور زبردست جرات سے متاثر کر رہے ہیں۔”