Chilean President Sebastian Pinera shaking hands with Mike Pompeo (©  Martin Bernetti/AFP/Getty Images)
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو (دائیں) 12 اپریل کو سانتیاگو کے صدارتی محل میں چلی کے صدر سیبسٹین پائنیرا سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ (© Martin Bernetti/AFP/Getty Images)

وزیر خارجہ مائیک پومپیو 12 اپریل کو جنوبی امریکہ کے چار روزہ دورے کے پہلے پڑاؤ سانتیاگو، چلی پہنچے۔ اس دورے کے دوران وہ پیراگوئے، پیرو اور کولمبیا بھی جائیں گے۔

اس دورے سے اُن علاقائی شراکت کاروں کے ساتھ  امریکی وابستگیاں اجاگر ہوتی ہیں جو جمہوری، کھلے، اور اقتصادی لحاظ سے متحرک ہیں۔ ایسے موقع پر جب ٹرمپ انتظامیہ نکولس مادورو پر سیاسی دباؤ بڑھا رہی ہے، پومپیو امریکہ کے اتحادیوں اور کیوبا، نکارا گوا اور وینیزویلا  کی جابر حکومتوں کے درمیان فرق واضح کر رہے ہیں۔

چلی میں پومپیو نے چلی کی کانگریس کے اراکین اور کاروباری افرد کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ چلی اور امریکہ کے پاس “مغربی نصف کرہ ارض کی تمام اقوام کے لیے جمہوریت، خوشحالی کو مضبوط بنانے” کا موقع موجود ہے۔ ممکن ہے کہ چند سال پہلے ہم ایسا نہ سوچ سکتے ہوں مگر [آج]  یہ خواب ناممکن دکھائی نہیں دیتا۔” انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ چلی نے پرامن طور پر جمہوریت کی جانب منتقلی کی اور اب علاقائی امور میں قائدانہ کردار اپنا رہا ہے۔ پومپیو کا یہ دورہ، وینز ویلا کے بارے میں تبادلہ خیالات کرنے کے لیے 15 اپریل کو سانتیاگو میں ہونے والے ‘لیما گروپ’ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے چند دن قبل ہو رہا ہے۔

پومپیو صدر ایبدہ بینیٹز سے ملاقات کرنے کے لیے 13 اپریل کو پیرا گوئے کا دورہ کریں گے۔ 1965ء کے بعد کسی امریکی وزیر خارجہ کا پیرا گوئے کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ سرحدوں سے ماورا جرائم اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے، اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے اور وینیز ویلا میں جمہوریت کی حمایت پر امریکہ اور پیرا گوئے کے درمیان دوطرفہ مضبوط شراکت کاری پر تبادلہ خیالات کریں گے۔

اس کے بعد وزیر خارجہ لیما جائیں گے جہاں توقع کی جاتی ہے کہ وہ وینیز ویلا کے  730,000 شہریوں کی مدد کرنے پر پیرو کی فیاضی کی تعریف کریں گے۔ وہ اینڈین خطے میں واقع اس ملک کی لیما گروپ کی قیادت کرنے  پر بھی شکریہ ادا کریں گے۔ یہ گروپ وینیز ویلا کے بحران کے پرامن حل کے لیے کام کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکہ اس گروپ کا رکن تو نہیں ہے تاہم وہ اس بین الحکومتی تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔ اس کے رکن ممالک میں برازیل، کینیڈا، کولمبیا اور میکسیکو شامل ہیں۔

آخر میں وزیر خارجہ وینیز ویلا کے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی تنظیموں کا 14 اپریل کو دورہ کرنے کے لیے کولمبیا کے شہر ککوتا میں رکیں گے۔

چلی میں پومپیو نے کہا، ” امریکہ شراکت کاری چاہتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب یہ خطہ بڑے قدم اٹھا رہا ہے،  بالخصوص ایسے اقدامات جو  بہت زیادہ مشکل ہیں۔ اس وقت امریکہ شراکت کاری چاہتا ہے۔ وینیز ویلا میں اکٹھے مل کر ہم یہی کام کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے  لاطینی امریکی شراکت کار پیرو میں ایک وزارتی اجلاس بلائیں گے جس میں بے گھر ہونے والے افراد کی صحت کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، “کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ امریکہ اور اس کے تمام اتحادی شراکت کار مادورو کو تنہا کرنے کے لیے مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔”