جیمز ویب خلائی دور بین سے بنائی جانے والی کائنات کی انتہائی متاثرکن تصاویر

 جیمز ویب خلائی دورین سے لی گئی کہکشاؤں کے جھرمٹ کی ایک تصویر (NASA/ESA/CSA/STScI)
انفرا ریڈ روشنی کے ذریعے دکھائی گئی دور دراز کہکشاؤں کی اب تک کی واضح ترین تصویر۔ (NASA/ESA/CSA/STScI)

ناسا کی جیمز ویب نامی خلائی دوربین سے لی گئیں کائنات کے دور دراز حصوں کی تازہ  جاری کی جانے والی شاندار اور مفصل تصاویر لوگوں کو کائنات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوں گیں۔

اِس خلائی دوربین کی پہلی مکمل طور پر رنگین تصویر (دائیں طرف) میں ہزاروں کہکشائیں دکھائی دے رہی ہیں۔ صدر بائیڈن اور ناسا کے ماہرین نے کائنات کی اس انفراریڈ تصویر کو 11 جولائی کو وائٹ ہاؤس سے جاری کیا۔۔ یہ تصویر خلائی گہرائیوں کی اب تک کی واضح  ترین تصویر ہے۔

ڈیپ فیلڈ آبزرویشن [خلائی گہرائیوں کا مشاہدہ] آسمان کے کسی حصے کی ایک ایسی تصویر ہوتی ہے جسے دھندلی دکھائی دینے والی اشیاء کا پتہ چلانے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے کیمرے کے طویل ایکسپوژر کے ذریعے کھینچا جاتا ہے۔

ایک تصویر میں ویب نے کہکشاؤں کے ‘سمیکس 0723 ‘ نامی جھرمٹ کو ایسے دکھایا ہے جیسا کہ یہ 4.6 ارب سال قبل دکھائی دیتا تھا۔ آسمان کی گہرائیوں کی یہ تصویر ویب کے قریبی-انفراریڈ کیمرے سے بنائی گئی۔ اس کیمرے کو دوری پر واقع اشیاء پر بہترین انداز سے فوکس کیا جا سکتا ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا، “آپ ایسی کہکشائیں دیکھ رہے ہیں جو اُن دوسری کہکشاؤں کے گرد چمک رہی ہیں جن کی روشنی مڑی ہوئی ہے۔ آپ اس کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہیں۔”

خلائی دوربین ویب کی مختلف طول موجوں پر لی گئی یہ تصویر مختلف تصاویر کا مجموعہ ہے۔ ہبل خلائی دور بین کی کامیابیوں کو لے کر آگے چلتے ہوئے ویب نے انفرا ریڈ کی اُن گہرائیوں تک تصویریں کھینچی ہیں جن تک ہبل نہیں پہنچ سکتی تھی۔

12 جولائی کو ویب خلائی دور بین کی جو دیگر تصاویر جاری کی گئیں ہیں اُن میں مندرجہ ذیل تصاویر شامل ہیں:-

  • ‘سٹیفن کی پانچ کا جوڑا ‘ نامی پانچ کہکشائیں۔
  • کیرینا نیبولا کی اُن نرسریوں اور ستاروں کی تصویر جو پہلے پوشیدہ تھے۔
  • گیس کا “سدرن رِنگ نیبولا” نامی بادل جو تقریباً 2,500 نوری سال کی دوری پر تباہ ہوتے ہوئے ایک ستارے کے ارد گرد چھایا ہوا ہے۔
  • Wasp-96 b کا ماحولیاتی ڈیٹا۔ یہ ایک بہت بڑا سیارہ ہے جو سورج نما ستارے کے گرد چکر لگانا ہے اور 1,150 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
 جیمز ویب خلائی دور بین کی تصاویر میں سے ' سدرن رِنگ نیبولا' کی دو تصاویر (NASA/ESA/CSA/STScI)
تباہ ہوتے ہوئے گیس اور گرد میں گھرے ایک ستارے کی تقابلی جائزے کے لیے پہلو بہ پہلو دکھائی گئی تصاویر (NASA/ESA/CSA/STScI)

یہ تصاویر امریکی خلائی ادارے، ناسا؛ یورپی خلائی ادارے؛ اور کینیڈا کے خلائی ادارے کے مابین بین الاقوامی سائنسی تعاون کا نتیجہ ہیں۔ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے بنائی جانے والی یہ خلائی دور بین محققین کی کہکشاؤں کے حجم، عمروں، تاریخ اور ہیئت ترکیبی کے بارے میں مزید جاننے میں مدد کرے گی۔

بائیڈن نے کہا اِس طاقتور دوربین نے کائنات کی تاریخ کا ایک نیا دروازکھول دیا ہے۔ صدر نے کہا کہ “ہم ایسے امکانات دیکھ سکتے ہیں جو پہلے کسی نے نہیں دیکھے۔ ہم ایسی جگہوں پر جا سکتے ہیں جہاں پہلے کبھی کوئی نہیں جا سکا۔”

 جیمز ویب خلائی دوربین خلا میں (© Northrop Grumman/NASA/AP Images)
جیمز ویب خلائی دوربین: ایک آرٹسٹ کی نظر میں (© Northrop Grumman/NASA/AP Images)