حانوکا، روشنیوں کا میلہ اور ‘ڈرائیڈل’ کا کھیل

یہ مضمون موقعے کی مناسبت سے شائع کیے جانے والے اُن مضامین کے سلسلے کا حصہ ہے جن میں بتایا جاتا ہے کہ امریکی لوگ مذہبی تہوار کیسے مناتے ہیں۔ دیگر مضامین میں روش ہاشانا اور یوم کپور، دیوالی اور وائٹ ہاؤس میں کرسمس‘ شامل ہیں۔

دنیا بھر میں یہودی بچے سال میں ایک مرتبہ  ‘ ڈرائیڈل’ کہلانے والا کھیل کھیلتے ہیں۔ اس کھیل میں ایک مکعب نما لٹو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے چاروں جانب عبرانی  زبان کے حروف لکھے ہوتے ہیں۔ ‘ حانوکا ‘ کے تہوار کے دوران کھیلا جانے والا یہ کھیل اس معجزاتی واقعے کی یاد دلاتا ہے جو 2000 سال قبل یروشلم میں پیش آیا تھا۔

حانوکا کی طرح یہ کھیل بھی پرعزم یہودی جنگجوؤں کے ایک گروہ کی یاد میں کھیلا جاتا ہے جو یہودا مکابی کی قیادت میں حملہ آور فوج کے خلاف لڑے تھے۔ دشمنوں کو یروشلم شہر سے نکالنے کے بعد یہودی اپنی مقدس عبادت گاہ کو مینورا یعنی شمع دان روشن کر کے مذہبی سرگرمی دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہوئے تھے۔

Mother lighting menorah, sitting next to father with child on lap (© Tony Bock/Toronto Star via Getty Images)
ایک خاتون اپنے گھرانے کے ہمراہ مینورا روشن کر رہی ہے۔ مینورے کی ہر ایک شمع حانوکا کی ایک رات کو ظاہر کرتی ہے۔ (© Tony Bock/Toronto Star//Getty Images)

ایک روایت کے مطابق یہودیوں کو یہ شمع روشن رکھنے کے لیے ایک دن کا تیل ہی میسر آ سکا۔ تاہم اس تیل سے یہ شمع  آٹھ دن تک  روشن رہی یہاں تک کہ انہوں نے مزید تیل کا بندوبست کر لیا۔ اسے معجزہ سمجھا گیا اور اسی دن کی مناسبت سے یہودی اپنے گھروں میں مینورا روشن کر کے اس واقعے کی یاد مناتے ہیں۔ اس موقع پر خصوصی عبادات کی جاتی ہیں، گیت گائے جاتے ہیں اور روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔

اس تہورار پر آٹھ  روز تک شمع کو روشن رکھنے والے تیل کی روایت کی مناسبت سے عموماً تلے ہوئے کھانے بنائے جاتے ہیں جن میں لیٹک (آلو کے کلچے) اور سفگانیہ (جیلی بھرے ڈونٹ) شامل ہیں۔

اسرائیل میں ‘ڈرائیڈل’ کھیلنے والے بچے عبرانی زبان میں ‘ نیس گیڈول ہایا پو‘ گاتے ہیں جس کا مطلب ہے ‘ یہاں بہت بڑا معجزہ رونما ہوا۔’ جبکہ امریکہ میں اور اسرائیل سے باہر یہودی گھرانوں میں بچے ‘ نیس گیڈول ہایا شام‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ‘ وہاں بہت بڑا معجزہ رونما ہوا۔’

اس موقع پر امریکہ بھر کے کنیسوں (یہودی عبادت گاہوں) میں آلووں سے تیار کیے گئے کلچوں اور دیگر کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور حانوکا کی داستان سنائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر واشنگٹن میں ہونے والے عبرانی اجتماع میں کنیسوں میں  یہودی گھرانوں کے لیے ‘کون مکابی بننا چاہتا ہے’ نامی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں گیت کے ذریعے مکابیوں اور روشنی کے معجزے کی داستان بیان کی جاتی ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میدان میں ہر سال مینورا روشن کرنے کی قومی تقریب ہوتی ہے جہاں موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور گرما گرم روایتی کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔

Woman clapping beside man holding thumb-sucking toddler (© AP Images)
صدر ٹرمپ کی معاون، ایوانکا ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے مشیر اعلٰی اُن کے شوہر، جیرڈ کشنر اپنے بیٹے تھیوڈور کشنر کو وائٹ ہاؤس میں 2017 میں دیئے جانے والے حانوکا استقبالیے کے دوران اٹھائے ہوئے ہے۔ (© AP Images)

7 دسمبر 2017 کو وائٹ ہاؤس میں حانوکا استقبالیے کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا، ” حانوکا دنیا بھر میں یہودی گھرانوں کے لیے ماضی کے معجزوں کی یاد منانے اور مستقبل کی امیدوں کا وقت ہوتا ہے۔ ہمیں اسرائیلی عوام کا ساتھ دینے اور اپنے پائیدار رشتے کی تجدید پر فخر ہے۔”

حانوکا دنیا بھر میں عقیدتمندوں کی ایک پرمسرت رسم ہے جس میں اس مذہب کے پیروکار یہودی تاریخ کے ایک معجزاتی واقعے کی یاد مناتے ہیں۔ یہ یہودی کیلنڈر میں شامل اعلٰی مقدس ایام کے بڑے تہواروں کا حصہ نہیں ہے جن میں ‘روش ہاشانا (یہودی نیا سال) اور یوم کپور (کفارے کا دن) شامل ہیں۔

حانوکا کی تاریخیں یہودی کیلنڈر کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اس سال حانوکا 22 دسمبر کی شام سے شروع ہو کر 30 دسمبر کی شام ختم ہو گا۔

یہ مضمون ایک مختلف شکل میں 13 دسمبر 2017 کو پہلے بھی شائع ہوچکا ہے۔