خواتین اولمپینز: نئی نسل کی رہنماء

پیانگ چانگ میں سرمائی اولمپکس ختم ہو چکے ہیں مگر اُن کروڑوں بچوں پر پڑنے والے ان کے اثرات کے نتائج کی ابتدا ہو چکی ہے جنہوں نے ان کھیلوں میں خواتین کھلاڑیوں کے کارنامے دیکھے اور ‘تیزتر، بلندتر اور مضبوط تر’ بننے کی تحریک پائی۔

13 سال کی عمر تک کھیلوں میں حصہ لینے والی لڑکیوں کی تعداد بھی لڑکوں جتنی ہی ہوتی ہے مگر اس کے بعد یہ تعداد لڑکوں کے مقابلے میں دو گنا کم ہو جاتی ہے۔ یہ بات اس لیے پریشان کن نہیں ہے کہ اس سے لڑکیوں  کے اولمپین بننے کے کمیاب مواقع جاتے رہتے ہیں بلکہ ماہرین کے مطابق پریشانی کی بات یہ ہے کہ کھیل ترک کرنے سے وہ خوداعتمادی میں اضافے اور زندگی کی مہارتوں کے حصول کے مواقع کھو دیتی ہیں۔

لڑکیوں کے کھیل چھوڑنے کی شرح پر قابو پانے کے لیے امریکی الپائن سکی ریسر، لبی لڈلو نے "زی گرلز” نامی غیرمنفعت بخش ادارہ قائم کیا ہے جو 11 سے 14 سال عمر کی لڑکیوں کو رہنمائی اور ٹیم بنانے کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ 2006 کے سرمائی اولمپکس میں شرکت کرنے والی لڈلو کہتی ہیں کہ انہوں نے کھیلوں سے متعلق ماہرین نفسیات، پیشہ ور کھلاڑیوں، ماہرین تعلیم اور ذہنی صحت کے مشیروں کو ایسا نصاب تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا جو لڑکیوں کی صلاحیتوں میں اضافے میں مدد دیتا ہو اور انہیں ایسے ذرائع فراہم کرتا ہو جن کی مدد سے وہ عورت کی حیثیت سے بڑا ہونے کے دوران پیش آنے والی اندرونی مشکلات پر قابو پا سکیں۔

2012 میں شروع ہونے والا یہ پروگرام گرلز سکاؤٹ کے نمونے پر ترتیب دیا گیا ہے جس میں ٹیمیں ہر دو ماہ بعد اکٹھی ہوتی ہیں۔ ان ملاقاتوں کو ‘ہڈلز” کہا جاتا ہے جن میں نوجوان خواتین کھلاڑیوں جیسا کہ کالج کی طالبات یا کوچز کو نمایاں مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس موقع پر وہ اپنی کامیابیوں کا ایک روزنامچہ تیار کرتی ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کھیل کے میدان میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کا عام زندگی کے میدان میں کیسے اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

امریکی اولمپک کمیٹی سے وابستہ کھیلوں کے اعلیٰ سطحی ماہر نفسیات، شان مکین کا کہنا ہے، "نوجوان خواتین کھلاڑیوں پر کھیلوں کے تمام مثبت اثرات کا سائنسی ثبوت واضح ہے۔” وہ کہتے ہیں کہ ‘زی گرلز’ لڑکیوں کی زندگیوں میں انہی مثبت قوتوں کو بڑھاوا دیتی ہے۔

Women and girls working at table (© U.S. Ski & Snowboard)
کراس کنٹری سکی انگ میں سونے کا تمغہ حاصل کر نے والی، جیسی ڈگنز، درمیان میں، فاسٹ اینڈ فیمیل یو ایس اے کی ایک تقریب میں اپنا آٹوگراف دے رہی ہیں۔ (© U.S. Ski & Snowboard)

فاسٹ اینڈ فیمیل نامی ایک اور غیرمنفعت بخش ادارہ کینیڈا اور امریکہ بھر میں ایسے ہی اہداف کے حصول کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کو کینیڈا کی سکی ریسر چندرا کرافورڈ نے 2006 میں اولمپکس کھیلوں کے کراس کنٹری مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتنے سے ایک سال قبل یعنی 2005 میں شروع کیا تھا۔ اس ادارے کی امریکی شاخ ان کی دوست اور سابقہ حریف کیکان رینڈل نے قائم کی جنہوں نے اپنی ٹیم کی رکن جیسی ڈگنز کے ساتھ حالیہ پیانگ چانگ اولمپکس میں امریکہ کے لیے کراس کنٹری مقابلے میں سونے کا اولین تمغہ جیتا ہے۔

"فاسٹ اینڈ فیمیل” کے زیراہتمام پورے دن پر مشتمل ‘چیمپ چیٹ’ نامی گفت و شنید اور رہنمائی کے دورانیے میں کامیاب خواتین کھلاڑی مختلف سرگرمیوں اور گفت و شنید کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کے لیے ‘سفیر’ کا کردار ادا کرتی ہیں۔

امریکہ میں” فاسٹ اینڈ فیمیل” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارا سیلو کہتی ہیں، "یہ سفیرکھلاڑیوں کی نئی نسل پروان چڑھاتے ہوئے انتہائی زیادہ خوشی محسوس کرتی ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے …  لڑکیوں کے ساتھ دوستانہ اور دیانت دارانہ بات چیت کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔”

یہ کام امریکی ٹیم کے لیے صلاحیتوں کو جلا بخشنے یا کڑے مقابلوں سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ ڈگنز "فاسٹ اینڈ فی میل” کے پروگراموں میں رقص کا اہتمام بھی کرتی ہیں تاکہ لڑکیوں کو تفریح کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔

اوریگن میں بینڈ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ لی براڈی ہائن نے جب ایک امریکی اولمپین روزی برینن کو "فاسٹ اینڈ فیمیل” کے پروگرام میں سکی انگ مقابلوں میں حصہ لینے سے متعلق اپنی داستان بیان کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے متاثر ہو کر انہوں نے خود بھی اپنی ہائی سکول کی نارڈک سکی ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی۔

براڈی ہائن نے اپنے آبائی شہر کے اخبار کو بتایا، "سکی انگ مقابلوں کے حوالے سے یہ میرا پہلا حقیقی موقع ہے۔ اس سے مجھے واقعتاً بے حد حوصلہ ملا کیونکہ کئی لحاظ سے ہماری کہانیاں ایک جیسی ہیں۔”

"زی گرلز” کی بیشتر کوچز کھیلوں کے میدان میں مشہور نہیں ہیں مگر ان کوچز کے حالات ان لڑکیوں جیسے ہی تھے۔ کالج کے لیے کھیلنے والی سابقہ فٹبالر بیانکا پیری کہتی ہیں، "ان کا سب سے زیادہ پراثر کام یہ کہنا ہے کہ ‘میں آپ کو سن رہی ہوں، میں آپ ہی کی طرح تھی، میں نے یہ سب کچھ کیا۔ آپ اِن لڑکیوں کو دیکھیں۔ اِن کی آنکھیں چمک رہی ہوتی ہیں۔”

Lyndsey Vonn holding up her skis (© Gabriele Facciotti/AP Images)
سکی باز لنڈسی وون زی گرلز کے کلوریڈو میں ہونے والے ایک سمر کیمپ کی میزبانی کررہی ہیں۔ (© Gabriele Facciotti/AP Images)

پیانگ چانگ اولمپکس میں حصہ لینے والی امریکی سکی ٹیم کی متعدد ارکان ‘زی گرلز’ اور ‘فاسٹ اینڈ فیمیل’ یو ایس اے کے ساتھ ہیں:

  • سیڈی بورنسن (کراس کنٹری سکی انگ)
  • روزی برینن (کراس کنٹری سکی انگ)
  • سوفی کالڈویل (کراس کنٹری سکی انگ)
  • جیسی ڈگنز (کراس کنٹری سکی انگ)
  • سوسن ڈنکلی (بائی ایتھلن)
  • میگن میک جیمز (الپائن سکی انگ)
  • ایڈا سارجنٹ (کراس کنٹری سکی انگ)
  • لیزا سٹیفن (کراس کنٹری سکی انگ)
  • لنڈسی وون (الپائن سکی انگ)