خواتین کی کامیابی کے لیے کوشان خواتین کے کالج

ماؤنٹ ہولی اوک کالج کی آخری سال کی طالبہ ہینان خان کو پہلی نظر میں ہی یہ کالج اچھا لگا۔

کالج کا سرسبز و شاداب کیمپس، سعودی عرب کی رہنے والی ہینان خان کو “ایلس ِان ونڈر لینڈ” کے سحرانگیز جنگل کی یاد دلاتا ہے۔ خان کو کیمپس میں جاپانی مراقبے کے باغ کے عبادت کرنے والے کمرے اور چائے خانے میں سکون ملتا ہے۔

سٹوڈیو آرٹ میں ڈگری حاصل کرنے والی ہینان، کیمپس کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ میساچوسٹس کے اِس کالج میں بہت سی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ جب زیادہ تر امریکی طلباء یوم تشکر منانے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں تو ہینان 60 دیگر ممالک کے طلباء کے ساتھ بین الاقوامی طلباء کے کلب کے زیر اہتمام ٹرکی کے گوشت سے پکائے گئے کھانے کھاتی ہیں اور گھاس ڈھونے والی گاڑیوں کی سواری کرتی ہیں۔

جب پڑھائی میں مشکل پیش آنے لگتی ہے تو ہینان مدد کے لیے اپنے پروفیسروں اور ساتھی طالبات سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ کیمپس کے وسائل سے بھی  استفادہ کرتی ہیں۔ وہ ماؤنٹ ہولی اوک کو اپنے خاندان کی طرح سمجھتی ہیں۔ اُن کے اِس “خاندان” میں پوری دنیا سے آئی ہوئی اُن کی سہیلیاں بھی شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ “میری زندگی میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ میں کسی سے مقابلہ نہیں کر رہی۔ بلکہ میں محض … اپنا ایک نیا روپ بنتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔”

جو کچھ آپ ہیں کالج میں اُسی طرح رہنا

امریکہ میں خواتین کے تقریباً 40 کالج ہیں۔ یہ کالج غیرمنفعتی ہیں اور ان کی نوعیت نجی ہے۔

روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کہ ہر سال 2% سے بھی کم طالبات اِن کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں مگر ان کالجوں کی بہت سی سابقہ طالبات نے اپنے شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان میں آنجہانی شاعرہ زورا  نیل ہرسٹن (برنارڈ کالج) اور سابق وزیر خارجہ ہلری روڈہیم کلنٹن اور آنجہانی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ (دونوں ویلزلی کالج) شامل ہیں۔

ویلزلی کالج میں اپنے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی معذوروں کے بین الاقوامی حقوق کی خصوصی مشیر، سارہ منکارا اپنے اُن پروفیسروں اور ساتھی ہم جماعتوں کو آج بھی یاد کرتی ہیں جنہوں نے قانونی طور پر نابینا ہونے کی وجہ سے اُن کی مدد کی۔

 ایک بڑی کھڑکی کے سامنے میز کے گرد بیٹھی دو عورتیں (Courtesy of Mount Holyoke College)
ہینان خان (دائیں) ماؤنٹ ہولی اوک کالج کے ڈائننگ کامنز کے اندر اپنی سہلیلی سوانا پیریز کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی ہیں۔ Courtesy of Mount Holyoke College)

منکارا کے [ریاضی کی ایک شاخ] ٹوپولوجی یعنی مقامیات کے پروفیسر اس بات کو یقینی بنایا کرتے تھے کہ منکارا کو وہ سب کچھ میسر ہو جس کی انہیں ضرورت تھی اور کلاس کے بعد بھی منکارا کی مدد کے لیے تیار رہتے تھے۔ آج منکارا اپنے بہت سے دوستوں میں سے اپنے اُس قریبی دوست کا ذکر کرتی ہیں جو اُن کے لیے کلاس کے نوٹ تیار کیا کرتا تھا اور منکارا کا ہوم ورک انہیں پڑھکر سنایا کرتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ویلزلی نے مجھے جو کچھ میں ہوں اسی طرح رہنے کی اجازت دی۔ مثلاً سکول کی کلاسوں میں طالبات کی  تعداد کم ہوتی تھی جس سے مجھَ اپنی معذوری کو قبول کرنے کے سیکھنے میں مدد ملی کیونکہ بقول اُن کے وہ لوگوں سے کم ملتی جلتی تھیں۔ منکارا کے کالج نے اُن کے ثقافتی اور مذہبی پس منظر کے تقاضے بھی پورے کیے۔ وہ لبنانی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے کالج کی عرب طالبات کی “ویلزلی عرب ویمن ایسوسی ایشن” میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے علاوہ وہ مسلم خواتین کے “المسلمات کلب” کی رکن بھی بنیں۔ رمضان کے مہینے میں کلب کی اراکین اکٹھی نماز پڑھا، روزے رکھا اور افطاری کیا کرتی تھیں ۔ منکارہ ایک ڈائننگ ہال سے حلال کھانا لے کر کھایا کرتی تھیں۔ انہیں یہ بھی یاد ہے کہ کیمپس میں دیگر مذاہب کی طرح مسلمان طالبات کی راہنمائی کے لیے بھی ایک خاتون موجود رہتی  تھیں۔

منکارا کہتی ہیں کہ “کسی ایسی جگہ ہونا جہاں پر آپ کو اپنی پہچانوں کو مضبوطی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی اجازت ہو، جہاں آپ کی پہچان کو ایک قدر کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی اجازت ہو، ایک ایسی جگہ جہاں سب لوگ تنوع کا احترام کرتے ہوں اور ایک ایسی جگہ جہاں آپ کو بھرپور طریقے سے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی اجازت ہو  … میرے خیال میں بہت سے حوالوں سے یہ سب کچھ ویلزلی نے فراہم کیا۔”  منکارا نے 2011 میں ویلزلی کالج سے گریجوایشن کی۔

باحفاظت رہنا

2005 میں عراق کی مہا کریم فلبرائٹ کے ایک سالہ پروگرام کے تحت غیر ملکی زبان کی تدریسی معاون کے طور پر امریکہ آئیں۔ انہوں نے ورجینیا کے سویٹ برائیر کالج میں عربی کی دو کلاسیں پڑھائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خود بھی کئی ایک کورسز کیے جن میں امریکی اور فرانسیسی ادب کے کورس بھی شامل تھے۔

مہا اب میزوری-کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی تعلیم میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب، معیاری تعلیم اور نسلی تنوع کی وجہ سے کیا۔ وہ چٹانوں پر چڑھنے، غاروں میں جانے اور تیراکی کے کلب میں شامل ہونے سمیت کئی ایک مہم جوئیوں میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سویٹ برائیر کی بہت سی پراعتماد خواتین کے درمیان پا کر اطمینان محسوس کرتی ہیں۔

مہا بتاتی ہیں کہ انہوں نے میڈیا میں جو کچھ پڑھ  رکھا تھا اس کی بنیاد پر اُن کے ذہن میں حفاظت اور امریکی اقدار کے بارے میں سوالات اٹھتے تھے، تاہم انہیں احساس ہوا کہ کیمپس محفوظ ہے۔ کالج کے معلوماتی سیشن میں انہیں جو معلومات فراہم کیں گئیں اُن سے انہوں نے سیکھا کہ ہنگامی صورت حال میں کیا کرنا ہے، کن علاقوں میں جانے سے گریز کرنا ہے اور کون کون سی دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں۔

تاہم اِن سب حفاظتی اسباق کی انہیں کبھی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہتی ہیں کہ “خواتین کے ان چھوٹے کالجوں میں آپ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ محفوظ کبھی بھی محسوس نہیں کیا۔”

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے بین الاقوامی طلباء 175 سے زائد ممالک اور خطوں میں موجود امریکی محکمہ خارجہ کے  EducationUSA[ایجوکیشن یو ایس اے] مشاورتی  نیٹ ورکوں کے مراکز سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔