عوامی جمہوریہ چین کی ملکیتی تعمیراتی کمپنیاں ماحولیات کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور پوری دنیا کی اقوام کی معیشتوں اور خود مختاری کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

"چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی” (سی سی سی سی) چین کی ایک مواصلاتی تعمیراتی کمپنی ہے۔ یہ کمپنی   بڑے پیمانے پر سمندری تہہ کی صفائی کرکے، تعمیر اور مصنوعی جزیروں اور دور دراز کے متنازع علاقوں کو عسکری شکل دے کر بحیرہ جنوبی چین میں پی آر سی کی فوجی توسیع کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سی سی سی سی  بیجنگ کے "ون بیلٹ ، ون روڈ” منصوبے کو چلا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترقی پذیر ممالک کے ساتھ نئے بنیادی ڈھانچوں کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر اس کے برعکس اِس کا نتیجہ ناقص تعمیرات، مزدوروں کے ساتھ زیادتیوں، غیر مستحکم قرضوں اور ماحولیاتی نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 26 اگست کو کہا، "سی سی سی سی اور اس کی ذیلی کمپنیاں پوری دنیا میں بدعنوانی، نقصان پہنچانے والے قرضوں، ماحولیاتی تباہی اور دیگر زیادتیوں میں ملوث ہیں۔ پی آر سی کو سی سی سی سی اور دیگر سرکاری کمپنیوں کو ایک توسیع پسندانہ ایجنڈا مسلط کرنے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہونا چاہئیے۔ ”

سی سی سی سی کی ذیلی کمپنیوں پر دور دراز کی فوجی چوکیوں کی وجہ سے پابندیاں عائد

سی سی سی سی اپنی 34 ذیلی کمپنیوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچوں کے بڑے بڑے پراجیکٹ چلاتی ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ کمپنی چین میں بندرگاہوں کی تعمیر اور ڈیزائن کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہونے کے ساتھ ساتھ سمندروں کی تہہ کی صفائی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بھی ہے۔ یہ ریلوے کی تعمیر کے علاوہ سڑکوں اور پلوں کو ڈیزائن کرنے اور تعمیر کرنے والی ایک سرکردہ کمپنی بھی ہے۔

سی سی سی سی کی پانچ ذیلی کمپنیاں پی آر سی کی ان دو درجن سرکاری کمپنیوں میں شامل ہیں جن پر 26 اگست کو امریکہ کے محکمہ تجارت نے پابندیاں لگائی ہیں کیونکہ اِن کمپنیوں نے بحیرہ جنوبی چین کے دور دراز علاقوں میں وہ فوجی چوکیاں تعمیر کی ہیں جو خودمختاری کو پامال کرتی ہیں اور ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

محکمہ تجارت نے سی سی سی سی کی ذیلی کمپنیوں کو اپنی ‘ اکائیوں کی اُس فہرست’ میں شامل کیا ہے جس کے تحت کمپنیوں کو امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر امریکی ساختہ اشیاء خریدنے کی ممانعت ہوتی ہے۔

امریکہ کہہ چکا ہے کہ  بحیرہ جنوبی چین میں پی آر سی کے سمندری دعوے دوسری قوموں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے  ہیں۔ محکمہ خارجہ چین کی سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے عسکریت سازی کے ذمہ داروں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنا شروع کردے گا۔

سی سی سی سی ‘ون بیلٹ، ون روڈ’ کی تزویراتی پالیسی کو عملی جامہ پہناتی ہے

سی سی سی سی کی طرف سے مچائی جانے والی تباہی بحیرہ جنوبی چین سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ ون بیلٹ، ون روڈ کے سرکردہ ٹھیکیدار کی حیثیت سے، سی سی سی سی کے وابستگان رشوت ستانی اور گھٹیا معیار کی تعمیرات سے لے کر مزدوروں کے استحصال تک ہر قسم کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ سی سی سی سی کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ سی سی سی سی اپنے تمام حریفوں کو باقاعدگی سے کم بولی دے کر مقابلے سے باہر کر دیتی ہے اور اسے پی آر سی کی جانب سے شفافیت یا احتساب  کے بین الاقوامی معیاروں کا پابند نہیں بنایا جاتا۔

فلپائن میں سڑک کے ایک پراجیکٹ کے لیے بولی لگانے کے عمل میں دھوکہ دہی سے کام لینے کے بعد 2009ء میں عالمی بینک نے سی سی سی سی پر اپنے سڑکوں اور پلوں کے منصوبوں میں شامل ہونے پر آٹھ سال کی پابندی لگا دی تھی۔

 کتبے اٹھائے ہوئے لوگ (© Bullit Marquez/AP Images)
اپریل 2019 کی اس تصویر میں نظر آنے والے فلپائنی احتجاجی مظاہرین اپنی حکومت پر چین کے ساتھ کیے جانے والے تمام سمجھوتوں کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ (© Bullit Marquez/AP Images)

یہ کہانی عام ہے۔ 2018ء میں بنگلہ دیش نے سی سی سی سی کی ایک ذیلی کمپنی ‘چائنہ ہاربر انجنیئرنگ کمپنی پر پابندی لگائی کیونکہ اس کمپنی نے سڑک کے ایک بڑے پراجیکٹ کے معاہدے میں منافع بخش شرائط شامل کرانے کے لیے ایک سرکاری ملازم کو رشوت دینے کی کوشش کی تھی۔

بلومبرگ کے مطابق بدعنوانی اور زیادہ بل بھجوانے کی تفتیشوں کے پیش نظر اسی سال ملائشیا کی حکومت نے سی سی سی سی کے ایک ریلوے کے پراجیکٹ کو روک دیا۔

کینیا میں مزدوروں کے نمائندوں نے سی سی سی سی کی ‘چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن’ نامی ایک ذیلی کمپنی پر الزام لگایا ہے کہ ٹرین چلانے والے اُن کے ہم منصب چینی ڈرائیوروں کے مقابلے میں کینیا کے ٹرین ڈرائیوروں کو ایک تہائی سے بھی کم  تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ اس کمپنی کے پاس ریلوے کو چلانے کا  10 سال کا ٹھیکہ ہے۔

 ریلوے لائن پر ایک آدمی بیلچے سے پتھر ڈال رہا ہے (© Yasuyoshi Chiba/AFP/Getty Images)
2018ء میں ایک کینیائی مزدور ریلوے کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ چین کی مواصلاتی تعمیراتی کمپنی پر کینیا کے ریلوے کے مقامی کارکنوں کو کم تنخواہ دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ (© Yasuyoshi Chiba/AFP/Getty Images)

2014ء میں ایکویڈور میں سی سی سی سی کی ایک ذیلی کمپنی کو جدید ٹکنالوجی کی تعلیم کے ایک مرکز کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا۔ مقامی خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ برسوں پر محیط تعمیر کے بعد بھی ناقص ڈہانچے کی وجہ سے کیمپس کی 80 فیصد عمارتیں ابھی تک ناقابل استعمال ہیں۔

واشنگٹن میں قائم سکیورٹی کے معاملات پر کام کرنے والے ایک غیر منفعتی ادارے، ‘سی 4 اے ڈی ایس’ کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق، پی آر سی کی سرکاری ملکیتی کمپنیوں نے انتہائی اہم آبی گزرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا میں بندرگاہوں میں اربوں کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔

سی سی سی سی کی ایک ذیلی کمپنی نے سری لنکا میں ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ تعمیر کی۔ جب سری لنکا کی حکومت بیجنگ کو واجب الادا قرضہ ادا نہ کر سکی تو حکومت نے 99 سال کے پٹے پر بندرگاہ کا کنٹرول پی آر سی کی ایک کمپنی کے حوالے کر دیا۔

اپنے حالیہ انٹرویوز میں پومپیو کہہ چکے ہیں کہ دنیا کے ممالک کی چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کی سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کے بارے میں آنکھیں کھلتی جا رہی ہیں۔

پومپیو نے 9 جولائی کی نیوز کانفرنس میں کہا کہ ‘ون بیلٹ، ون روڈ’ کے بہت سے پراجیکٹ شروع شروع میں تو اچھے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ملکوں کو جلد ہی پتہ چل جاتا ہے کہ "چینی کمیونسٹ پارٹی نے جو کچھ کرنے کا وعدہ کیا تھا، خواہ اس کا تعلق کسی سڑک سے ہو یا کسی پل سے ہو یا ڈیم جیسے کسی بنیادی ڈھانچے سے ہو، وہ وعدہ اکثر دھوکا ثابت ہوتا ہے۔”