دنیا بھر میں امداد پہنچانے کے عملی تجربے کا حامل انسان دوست: کین آئزکس

جب 1985 میں کین آئزکس نے اپنی ماہرانہ خدمات مغربی افریقہ کے ملک ٹوگو میں پانی کے ایک منصوبے کے لیے پیش کیں تو اُس وقت وہ شمالی کیرولائنا میں پانی کے کنویں کھودنے کے علاوہ کاروبار بھی کیا کرتے تھے۔

آئزکس کہتے ہیں، "میرے لیے یہ کام فرحت بخش اور ولولہ انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ اور مشکل بھی تھا۔ سچ کہوں تو ایک ماہ بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے خدا نے مجھے خاص طور پر دنیا میں بھیجا ہے۔”

65 سالہ آئزکس آج ایک مذہبی خیراتی ادارے، "سماریٹن پرس” کے نائب صدر ہیں اور انہیں جنگوں، قحط اور قدرتی آفات سے متاثرہ بہت سے ممالک میں انسانی بحرانوں سے نمٹتے ہوئے تین دہائیاں ہو چکی ہیں۔ وہ عالمی تنظیم برائے  مہاجرت (آئی او ایم) کے آئندہ ڈائریکٹر جنرل کے لیے ہونے والے انتخاب میں امریکہ کے امیدوار بھی ہیں۔ جنیوا میں قائم یہ تنظیم ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد 169 ہے۔ یہ تنظیم مہاجرت کو محفوظ، باضابطہ اور ہمدردانہ بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

اُن کا کہنا ہے، "میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ اچھا کام کرنا سب سے اہم بات ہے۔ ہر کوئی میرے عقیدے سے متفق نہیں ہو گا۔ میں ہمیشہ یہ جاننے کا خواہش مند رہا ہوں، "‘آپ ہمارے کام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟’ کیا یہ صاف پانی ہے؟ کیا یہ اچھا طبی علاج معالجہ ہے؟ کیا خوراک کی تقسیم مساویانہ ہوتی ہے؟ میں عقیدے اور رنگ و نسل کو نہیں دیکھتا۔”

Ken Isaacs standing under hut, with men standing and seated around him (Samaritan's Purse)
کین آئزکس جنوبی سوڈان کے قحط زدہ شہر، یدا میں سامان کی تقسیم کے سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ (Samaritan’s Purse)

آئزکس عراق، ایتھوپیا، ایریٹریا، جنوبی سوڈان، ہیٹی، کوسووو، افغانستان، پاکستان، فلپائن اور دوسرے بہت سے ممالک میں امدادی کاموں کی رہنمائی کر چکے ہیں۔ وہ 2004 اور 2005 میں امریکی ادارے برائے عالمی ترقی میں بیرون ملک سانحات میں معاونت کے شعبے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران انہوں نے بعض انتہائی پیچیدہ انسانی مسائل کو حل کرنے کی خاطر بعض عظیم لوگوں، حکومتوں اور طبقوں کے ساتھ کام کیا۔

آئزکس ہائی سکول میں تعلیم مکمل کرنے کے  بعد کنویں کھودنے کے کام سے منسلک ہو گئے اور کالج کی ڈگری کا انتظار کیے بغیر نصف دنیا پرے ہولناک مشکلات میں گھِرے لوگوں کی مدد کے پیچیدہ کام میں جت گئے۔

کروڑوں ڈالر بجٹ کے حامل کاموں کے نگران ہونے کے باوجود وہ سونامیوں، زلزلوں اور جنگوں سے بری طرح متاثرہ لوگوں میں امدادی سامان کی تقسیم اور طبی سہولیات کی فراہمی کی ذاتی نگرانی کے لیے باہر نکلے۔ وہ کہتے ہیں، "مجھے کام کرنا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا اچھا لگتا ہے۔”

وہ اعتراف کرتے ہیں کہ "انسانی بنیادوں پر کیے جانے والے امدادی کام کرنے سے پہلے میں نے این جی او [غیرسرکاری تنظیم] کے الفاظ کبھی نہیں سنے تھے۔ تاہم کنویں کھودنے کا کام ایسے حالات میں کارکنوں اور سامان کو تیار رکھنے کے انتظامی  تقاضے کے لیے ایک اچھی تیاری تھی جہاں تاخیر اور سرخ فیتے کا مطلب زندگی و موت بھی ہو سکتا ہے۔

خیراتی ادارے ‘سماریٹن پرس’ کے صدر اور آنجہانی تقدس مآب پادری بلی گراہم کے بیٹے فرینکلن گراہم نے آئزکس سے ایتھوپیا میں ایک منصوبے کی خامیاں دور کرنے کو کہا۔ اس کام کے نتیجے میں آئزکس ‘سماریٹن پرس’ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بن گئے جو کہ بلی گراہم کی قائم کردہ ایک انجمن کا جڑواں ادارہ ہے۔ بلی گراہم دنیا بھر میں تبلیغ کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔

آئزکس اور ان کے اہلخانہ دو جنگوں کے دوران تین برس تک ایتھوپیا میں مقیم رہے۔ وہ اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، "یہ وہ وقت تھا جب میں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو اچانک بے گھر ہوتے دیکھا۔ 1991 میں جب حکومت ختم ہوئی تو لاکھوں [بے گھر] لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔”

‘سماریٹن پرس’ جنگوں، غربت، آفات، بیماریوں اور قحط کے متاثرین کو روحانی و مادی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کا نام انجیل کے ایک بند میں متذکر سماریٹن کے نام پر رکھا گیا ہے جو تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جنہیں دوسرے لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔

‘سماریٹن پرس’ کا بجٹ 60 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ ادارہ آفات اور سانحات کے موقع پر رضاکاروں کو متحرک کرتا ہے۔ ہاروی طوفان کے بعد ہیوسٹن میں امداد کی تقسیم میں نائب صدر پینس نے بھی اس ادارے کی مدد کی تھی۔ یہ ادارہ ضرورت مند بچوں کو کرسمس کے تحائف ڈبوں میں بند کر کے دیتا ہے اور این جی اوز، انسانی امور سے متعلق رابطہ کاری کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر، عالمی پروگرام برائے خوراک اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ امدادی سامان اور ہنگامی ضروریات کے لیے عملہ پہنچانے کے لیے اس ادارے کے پاس اپنے جہاز ہیں۔

آئزکس کا کہنا ہے  کہ جب بحرانی صورت حال جنم لیتی ہے تو متاثرہ علاقوں میں پہنچ رکھنے والی ان کے ادارے جیسی این جی اوز عموماً زیادہ تیزی سے امداد بہم پہنچاتی ہیں جب کہ اکیلی حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

آئزکس سمجھتے ہیں کہ امدادی ادارے خواہ لادینی ہوں یا مذہبی، انہیں ان کے نتائج کی بنا پر پرکھا جانا چاہیے۔

وہ خوش ہیں کہ’ آئی او ایم’ کی صورت میں ملنے والے موقع سے مزید لوگوں کی مدد ہو سکے گی۔ ان کا کہنا ہے، "یہ میری مہارت کا میدان ہے۔ میں یہی کچھ کرتا چلا آ رہا ہوں۔” آئی او ایم کے سربراہ کا انتخاب جون میں دو تہائی اکثریت سے ہو گا۔

اِس مضمون میں 28 جون کو ترمیم کی گئی۔