دنیا بھر میں کورونا وائرس کے خلاف امریکی جنگ [تازہ ترین جھلکیاں]

حفاظتی لباس پہنے لوگ پلاسٹک کے پردوں والے کمرے کو صاف کر رہے ہیں (U.S. Air Force/Senior Airman Milton Hamilton)
امریکی فضائیہ کے جوان ایک طیارے کے ' علیحدگی کے اُس یونٹ' کو جراثیموں سے پاک کر رہے ہیں جس میں 8 مئی کو وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ایک شخص کو جرمنی میں ریمشٹائن کے ہوائی اڈے پر لے جایا گیا۔ (U.S. Air Force/Senior Airman Milton Hamilton)"

تصاویر، ٹویٹس اور مضامین کے روزبروز تازہ کیے جانے والے اس مجموعے میں دنیا بھر میں کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں امریکی عزم کی جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں۔ ہم اس میں تازہ ترین جھلکیوں کا اضافہ کرتے رہیں گے۔

03 جون

02 جون

01 جون

29 مئ

28 مئ

ملک بھر میں اور بیرون ملک میڈیکل کے طلبا کو ایم این کووڈ سٹرز کے بارے میں پتہ چلا۔ آج امریکہ کے اندر کووڈ سٹرز کے 21 پروگرام اور کینیڈا، برطانیہ اور سوڈان میں اسی طرح کے کئی ایک پروگرام ہیں۔

چہرے پر ماسک پہنے اور ہاتھ میں پیکٹ پکڑے ایک عورت اور اُس کے برابر ہاتھوں کے انگوٹھوں سے کامیابی کا اظہار کرتا ہوا ایک آدمی (© COVIDsitters)
این وائی سی کوڈ سٹرز کے ڈینیئل الیاحوزاده (دائیں) نے کورونا وائرس کی مسلسل چھ شفٹوں میں کام کرنے والی ڈاکٹر نیلم خان (بائیں) کا ایک کام کیا۔ الیاحوزادہ نے ڈاکٹر خان کی طرف سے اُن کے بعد والی شفٹ میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو حفاظتی لباس کا ایک سوٹ بھی پہنچایا۔ (© COVIDsitters)

27 مئ

دنیا کے کووڈ-19 کے خلاف ردعمل میں امریکہ بدستور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ 10 ارب ڈالرسے زائد وقف کر چکا ہے۔

بار گراف کے ذریعے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین کی دو ارب ڈالر اور امریکہ کی 10.2 ارب ڈالر کی امداد کا ایک تقابلی جائزہ (State Dept.)
(State Dept.)

کووڈ-19 کو شکست دینے کی خاطر امریکہ بین الاقوامی برادری کے ایک رکن ملک کی حیثیت سے علاج تلاش کرنے، اپنے تحقیقی نتائج میں دوسروں کو شامل کرنے اور شراکت کاریاں قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔
امریکہ کا نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور حکومتی ادارے اکٹھے مل کر نئے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنے حلیفوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اور پائیدار تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

حفاظتی لباس پہنے لوگ ایک آدمی کے اردگرد جمع ہیں جس کا منہ کھلا ہوا ہے (State Dept.)

26 مئ


امریکہ کی طرف سے کورونا کی دسیوں ہزاروں مطالعاتی رپورٹوں کا اجرا، دنیا بھر کے ماہرین کو کوووڈ-19 کے علاج کی تلاش کو تیز تر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کرنے کے قابل بنا رہا ہے۔

22 مئ

21 مئ

20 مئ

ملک کے اندر اور ملک کے باہر بڑے بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے امریکی عطیات دہندگان کووڈ-19 کے خلاف جنگ میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
امریکہ کے متنوع مذہبی طبقات ایمرجنسی ہسپتال قائم کر رہے ہیں، ملک کے طول و عرض میں ٹرکوں کے ذریعے کھانے بھجوا رہے ہیں، اور دنیا بھر میں چھوٹے کاروباروں کی مدد کر رہے ہیں۔

(© Mary Altaffer/AP Images)خیموں کے درمیان کھڑے لوگ۔ (© Mary Altaffer/AP Images)
یکم اپریل کو نیوِیارک کے سنٹرل پارک میں قائم سماریٹن پرس کے فیلڈ ہسپتال میں طبی عملہ اپنے کام میں مصروف ہے۔ (© Mary Altaffer/AP Images)

19 مئ

جہاں درجنوں بھر یونیورسٹیاں ویکسینوں کی تیاری پر کام کر رہی ہیں اور کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں رہنمائی کر رہی ہیں وہیں وہ مقامی کمیونٹیوں کی مدد کرنے کے لیے ساز و سامان اور ہنر بھی فراہم کر رہی ہیں۔

حفاظتی لباسوں میں ملبوس ایک عورت اور مرد لیبارٹری میں کام کر رہے ہیں۔ (© Carlos Osorio/AP Images)
وین سٹیٹ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کی طالبہ لوسیا لونا-وونگ، بائیں اور طالب علم مائیکل موئنٹ مین 24 اپریل کو ڈیٹرائٹ میں کووڈ-19 کے ٹیسٹنگ سنٹر میں کام کر رہے ہیں۔ اس سنٹر میں پولیس افسران، آگ بجھانے والے عملے کے اراکین، بس ڈرائیوروں اور دیگر ضروری شعبہائے زندگی کے کارکنوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ (© Carlos Osorio/AP Images)

18 مئ

کووڈ-19 عالمی وبا کے خاتمے کے لیے امریکی محققین دنیا بھر کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
اس اشتراک کا دائرہ کار خسرے کی ویکسین میں ردوبدل کرکے کووڈ-19 کو روکنے کے تجربات سے لے کر اُن کوششوں تک پھیلا ہوا ہے جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ انسانی دفاعی نظام کے مدافعتی خلیات کورونا وائرس پر کس طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔

15 مئ

دنیا بھر میں ایسے ٹھگ موجود ہیں جو کووڈ-19 سے پیدا ہونے والے خوف سے جعلی دافع امراض دواؤں اور علاجوں سے پیسے کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سان انٹونیو کے فیلڈ آفس میں سپیشل ایجنٹ، کرسٹوفر کومبز کہتے ہیں کہ وہ (ٹھگ) اپنے شکاروں کے پیسے چراتے اور غلط معلومات پھیلاتے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف میں کومبز اور اُن کے رفقائے کار اس طرح کی دھوکے بازی کو روکنے پر کام کررہے ہیں

ایک تصویری خاکہ جس میں جج کا ہتھوڑا ایک لیپ ٹاپ پر رکھا ہوا ہے اور سکرین پر ویکسین کے اشتہار کی ڈرائنگ بنی ہوئی ہے۔ (State Dept./D. Thompson)
(State Dept./D. Thompson)

ورجینیا یونیورسٹی کے بائیو کمپلیکسٹی (حیاتیاتی پیچیدگی) کے انسٹی ٹیوٹ کے محققین امریکی حکومت کی نیشنل فاؤنڈیشن سے پانچ سال کے عرصے پر محیط ایک کروڑ ڈالر کی کمپیوٹنگ (حساب کتاب لگانے) کے لیے امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ امداد کورونا وائرس کے نئے مریضوں سے متعلقہ حالات کی نقشہ نویسی اور اس بات کا جائزہ لینے پر خرچ کی جائے گی کہ اس وائرس سے لوگوں پر مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

 

تحتہ سفید کے سامنے کھڑا ایک آدمی۔ (© Dan Addison/University of Virginia)
کمپیوٹر سائنسدان، مادہاو مراٹھے ورجینیا یونیورسٹی کے حیاتیاتی پیچیدگی کی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ (© Dan Addison/University of Virginia)

14 مئ

روائتی طور پر مسلمان رمضان کے پورے مہینے میں اپنے خیراتی کاموں کو بڑہانے کی خصوصی کوششیں کرتے ہیں۔ اسی لیے کووِڈ-19 کی وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ماسک پہنے ہوئے لوگ ڈبے اٹھا کر کاروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ (© Paul Hennessy/NurPhoto/Getty Images)
9 اپریل کو اورلینڈو، فلوریڈا میں وسطی فلوریڈا کی اسلامی سوسائٹی کے رضاکار کھانے پینے کی اشیا تقسیم کر رہے ہیں۔ (© Paul Hennessy/NurPhoto/Getty Images)

13 مئ

امریکہ صحت کی عالمی سلامتی کی صف اول میں کھڑا ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں سامنے آنے والے صحت کے خطرات کا مقابلہ کرتا ہے اور متعدی بیماریوں کے خلاف کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

دیکھیے کہ امریکہ نے ایچ آئی وی، زیکا، ایبولا اور دیگر بیماریوں کے خلاف عالمی برادری کو کووِڈ-19 عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے کس طرح تیار کیا ہے۔

12 مئ

چھوٹے اور بڑے، دونوں ہی قسم کے امریکی کاروبار اپنی پیداواری صلاحتیوں کو ایسی مصنوعات کی طلب پوری کرنے پر تیزی سے منتقل کرتے جا رہے ہیں جن سے کورونا وائرس کا سامنا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ ویڈیو دیکھیے اور جانیے کہ امریکی کارکن کس طرح طبی عملے اور شہریوں کو کووِڈ-19 سے محفوظ رہنے میں مدد کر رہے ہیں۔

کیلی فورنیا میں قائم ایک امریکی کمپنی گھانا کے دیہی علاقوں سے کووِڈ-19 کے ٹسٹوں کے نمونوں کو ملک کے دو بڑے شہروں کی لیبارٹریوں میں پہنچانے کے لیے ڈرون استعمال کر رہی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے میدان میں نکلنے والی بہت سی نجی امریکی کمپنیوں کی ایک مثال، زپ لائن انٹرنیشنل انک ہے۔ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کووِڈ-19 کے ٹسٹوں کی خاطر لیے جانے والے نمونوں کو لے جانے کے لیے ڈرون پہلی مرتبہ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

10 مئ

9 مئ

8 مئ

وسطی اور جنوبی امریکہ کے ممالک میں کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے امریکی حکومت کئی ملین ڈالر کی امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تربیتی سہولتیں اور امدادی سامان بھی مہیا کر رہی ہے۔ اس عالمی وباء کے نتیجے میں مغربی نصف کرے کے لیے مجموعی امریکی امداد 73 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

عارضی دیواروں سے علیحدہ کیے گئے بستروں کے سامنے ماسک پہنے کھڑا ایک گارڈ۔ (© Orlando Sierra/AFP/Getty Images)
16 اپریل کو ہنڈوراس یونیورسٹی کے ایک فیلڈ ہسپتال میں کھڑا ایک گارڈ۔ (© Orlando Sierra/AFP/Getty Images)

7 مئ

جب امریکیوں کو کووِڈ-19 کے بارے میں ڈیٹا یعنی اعداد و شمار کی ضرورت پیش آتی ہے تو امریکہ کا صحت عامہ کا نظام اُن کی یہ ضرورت پوری کرتا ہے۔
بیماریوں کی روک تھام اور اُن پر قابو پانے کے مراکز (سی ڈی سی) ڈیٹا جمع کرتے ہیں، کسی بیماری کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیوں کی نگرانی کرتے ہیں، اور انفیکشن کو روکنے کے لیے حفاظتی رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔
نئے مریضوں کا پتہ چلانے کے لیے اس کے ماہرین بیرونی ممالک میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر بھی کام کرتے ہیں۔

لیبارٹری کا کوٹ اور دستانے پہنے ایک عورت نلکی کو دیکھ رہی ہے۔ (© David Goldman/AP Images)
اٹلانٹا میں بیماریوں کی روک تھام اور اُن پر قابو پانے کے مرکز میں کھانوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر ایک تحقیق کے دوران مائکرو بیالوجسٹ مولی فری مین ایک نلکی سے بیکٹیریا نکال رہی ہیں۔ (© David Goldman/AP Images)

6 مئ

کووِڈ-19 کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے لیے امریکہ بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کی مدد کرنے کے لیے تقریباً 40 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں امریکہ نے بحرالکاہل کے جزائر میں پانچ ارب ڈالر سے زائد کی رقم امداد کے طور پر خرچ کی اور اس میں سے گزشتہ دہائی میں 620 ملین ڈالر سے زائد صحت کے شعبے میں خرچ کیے گئے۔

عورت نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا ہے۔ (© Laszlo Mates/Shutterstock)
امریکہ بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کی کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ اس کی ایک مثال اوپر مئی 2019 کی اس تصویر میں دکھایا گیا ونوآٹو میں صحت کا یہ مرکز ہے۔ (© Laszlo Mates/Shutterstock)

5 مئ

4 مئ

امریکہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 110 ملین ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اِن میں دیگر ملکوں کے علاوہ شام، عراق، اردن، لیبیا، لبنان، مراکش کے ممالک اور مغربی کنارے کا علاقہ شامل ہیں۔

قریب ہی کھڑی ایمبولینس کے پاس ایک وین جس میں ڈبے پڑے ہوئے ہیں اور اس کا پچھلا دروازہ کھلا ہے۔ (DVIDS/Courtesy Photo)
شمال مشرقی شام میں 27 مارچ کو طبی امدادی سامان لیے کھڑی گاڑیاں، امریکہ اور اتحایوں کی اُن کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد جیلوں اور ہسپتالوں میں کووِڈ-19 کی روک تھام کرنا ہے۔ (DVIDS/Courtesy Photo)

1 مئ

جب جنوب مشرقی ایشا کی تنظیم (آسیان) کے ممبر ممالک میں تحقیق، بیماریوں سے نمٹنے اور طبی شعبے کے پیشہ ور افراد کی تربیت کی بات کی جاتی ہے تو امریکہ آسیان کے ایک بنیادی شراکت کار کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔

30 اپریل

مارچ میں جب ریاست نیویارک کے پورٹ واشنگٹن کی ڈیانا بیرنٹ کا کووِڈ-19 کا مثبت ٹیسٹ سامنے آیا تو انہیں علم نہیں تھا کہ اُن کا شمار اِس وباء سے صحت یاب ہونے والے اولین امریکیوں میں ہوگا۔
اِس امید سے حوصلہ پاکر کہ وہ صحت یاب ہو جائیں گیں اور اُن کے اینٹی باڈیز دوسروں کو بچائیں گے، اس فوٹوگرافر یعنی بیرنٹ نے سروائیور کور کی (جس کا اپنا ایک فیس بک گروپ ہے) ابتدا کی۔ سروائیور کور کا مقصد کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں پر خون اور پلازمے کے عطیات دینے کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ اُن کے عطیات طبی محققین کو اس مرض کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں اور ممکن ہے کورونا کے مریضوں کا زیادہ موثر طریقے سے علاج کیا جا سکے۔ ( اینٹی باڈیزانفیکشن کا مقابلہ کرنے والے پروٹین کے خون کے سفید رنگ کے خلیے ہوتے ہیں۔)

نیویارک بلڈ سنٹر کے سامنے ایک عورت کی سیلفی۔ (© Diana Berrent)
(© Diana Berrent)

29 اپریل

28 اپریل

27 اپریل

کورونا وائرس کی عالمی وباء سے پیدا ہونے والے حالات سے متاثر ہوکر لوگ اپنی اپنی کمیونٹیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

لیبارٹری میں ایک عورت دوسرے آدمی سے باتیں کرتے ہوئے اہم نکات لکھ رہی ہے۔ (© Thomas Angus)
لندن میں نیشنل ہیلتھ سروس کے ساتھ کام کرنے والی ماہر طبیعات، جیسیکا ویڈ رضاکارانہ طور پو کووِڈ-19 کے خطرات کا سامنا کرنے والے افراد کو دوائیں اور کھانے پینے کی اشیا پہنچاتی ہیں۔ (© Thomas Angus)

24 اپریل

23 اپریل

عالمی صحت عامہ کے لیے امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والا ملک ہے۔ امریکہ ایچ آئی وی/ایڈز، ایبولا، ملیریا، اور اب کووِڈ-19 جیسی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر کے عطیات دیتا ہے۔

امریکہ ایسے میں بھی عالمی صحت عامہ سے متعلق اپنے عزم کے بارے میں ثابت قدم ہے جب وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ووہان، چین میں کورونا وائرس پھیلنے سے متعلق بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے میں ناکامی کی تحقیقات کررہا ہے۔

تصویری خاکہ جس پر یہ عبارت تحریر ہے: "امریکہ نے دنیا بھر میں کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 775 ملین ڈالر سے زائد کی رقم وقف کی ہے۔ (State Dept.)
(State Dept.)

ویکسین نے پولیو اور چیچک سمیت بہت سی مہلک بیماریوں پر قابو پانے بلکہ ان کا خاتمہ کرنے میں مدد دی ہے۔ اب کووِڈ۔19 بیماری کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تلاش جاری ہے ۔

دستانے پہنے ہاتھ سے باکس سے ایک شیشی نکالی جا رہی ہے۔ (© Andrew Caballero-Reynolds/AFP/Getty Images)
20 مارچ کی اس تصویر میں دکھائی دینے والی شیشی میں کووِڈ۔19 کی ممکنہ ویکسین موجود ہے جسے راک وِل میری لینڈ میں نووا ویکس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ (© Andrew Caballero-Reynolds/AFP/Getty Images)

نئے کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد امریکہ کے محکمہ دفاع نے افریقہ، ایشیا، یورپ اور جنوبی امریکہ میں درجنوں شراکت دار ممالک کو بیماری کے تجزیے اور تشخیص سے متعلق 1.1 ملین ڈالر مالیت کا سامان مہیا کیا ہے۔

گلابی دستانے اور بنفشی رنگ کے حفاظتی لباس میں ملبوس عورت بند بوتلوں کو ایک بڑے ڈبے میں ڈال رہی ہے۔ (U.S. Marine Corps/Staff Sergeant Michael Walters)
فوج کے والٹر ریڈ ادارے کی ابھرتے ہوئی وبائی امراض کی برانچ میں کام کرنے والی، مائسک چو کووِڈ-19 پر تحقیق کے دوران ایک تجربہ کر رہی ہیں۔ (U.S. Marine Corps/Staff Sergeant Michael Walters)

امریکہ نئے کوروِنا وائرس پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے مشرقی ایشیا میں اپنے جمہوری شراکت کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ماسک پہنے لوگ ڈبوں کے پیچھے کھڑے ہیں۔ (© Sam Yeh/AFP/Getty Images)
15 اپریل کو تائیوان کے خارجہ امور کے وزیر، جوزف وُو (درمیان) اُس تقریب میں ہاتھوں کی مدد سے اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں جس میں تائیوان نے اپنے سفارتی اتحادیوں کو قریباً 100 انفراریڈ تھرمل سکینر بطور عطیہ دیئے ہیں۔ (© Sam Yeh/AFP/Getty Images)

22 اپریل

کووِڈ-19 کے مقابلے کے لیے امریکہ اور یورپ کا اشتراک

21 اپریل

کووِڈ-19 کے دور میں امریکی رضاکاریت کا جذبہ فروغ پا رہا ہے [تصاویر کے آئینے میں]

کھانے پینے کی اشیاء کے ڈھیروں کے قریب لوگ اشیائے خوردونوش کو تھیلوں میں ڈال رہے ہیں۔ (© John Minchillo/AP Images)
(© John Minchillo/AP Images)

20 اپریل

19 اپریل

17 اپریل

امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریئٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے اتحادی دونوں براعظموں میں کووِڈ-19 کا مقابلے کرنے کے لیے اپنے اتحادی اور شراکت کار ممالک کی مدد کر رہے ہیں۔

ہال میں موجود اور دیوار پر لگی سکرینوں پر دکھائی دینے والے افراد کا ایک اجلاس۔ (NATO)
نیٹو کے سیکرٹری جنرل، جینز سٹولٹنبرگ نیٹو کے ارکان کے وزرائے دفاع کے اجلاس کی ٹیلی کانفرنس کے ذریعے صدارت کر رہے ہیں۔ (NATO)

16 اپریل

افریقی ممالک کی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے امریکی حکومت کئی ملین ڈالر، تربیتی سہولتیں اور آلات فراہم کر رہی ہے۔

افریقہ کی تصویر جس میں ہاتھوں کی شکل کا ایک خاکہ پورے براعظم پر چھایا ہوا ہے۔ (© Adiyatma/Shutterstock)
(© Adiyatma/Shutterstock)

15 اپریل

14 اپریل

13 اپریل

کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں امریکہ اس عالمی وباء کو روکنے کے اپنے عزم کو مضبوط بناتے ہوئے 225 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا وعدہ کر رہا ہے۔

ایک تصویری خاکہ جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کووِڈ-19 اور ایبولا کے لیے ایک ارب ڈالر وقف کر چکا ہے۔ (State Dept.)
(State Dept.)

11 اپریل

10 اپریل

امریکی سائنسدان کووِڈ-19 سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین تیار کرنے کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔

لیبارٹری میں کام کرتی ہوئی ایک خاتون سائنسدان۔ (© David L. Ryan/Boston Globe/Getty Images)
ایک خاتون سائنسدان ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں ماڈرنا کی لیبارٹری میں کام کر رہی ہیں۔ (© David L. Ryan/Boston Globe/Getty Images)

9 اپریل

کووِڈ-19 عالمی وباء کے پھوٹ پڑنے کے بعد سے امریکی حکومت نے جنوب مشرقی ایشائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے رکن ممالک کو صحت کی ہنگامی ضروریات کے لیے اور انسانی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے طور پر 18 ملین ڈالر سے زائد فراہم کیے ہیں۔

آسیان کے جھنڈے کو چھوتے ہوئے ہاتھوں اور کاٹے والی کورونا وائرس کی تصویر کا گرافک۔ (State Dept.)
(State Dept.)

8 اپریل

7 اپریل

امریکہ کے لوگ چین کے لوگوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں جب عوامی جمہوریہ چین کووِڈ-19 کی عالمی وباء سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا تو امریکی کمپنیاں امداد، سامان  فراہم کرنے اور وباء کی روک تھام کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔

ایک قطار میں کھڑے طیارے جن کی دُموں پر فیڈ ایکس لکھا ہوا ہے۔ (© Greg Campbell/AP Images)
فیڈ ایکس کا کہنا ہے کہ اس کی مہارت اور 200 چینی شہروں تک پھیلا ہوا اس کا نیٹ ورک اس کمپنی کو لوگوں تک تیزی سے عطیات اور سامان پہنچانے کے قابل بناتا ہے۔ (© Greg Campbell/AP Images)

6 اپریل

4 اپریل

3 اپریل

امریکہ کی بہت سی کامیاب ترین کمپنیاں ملک کے اندر اور بیرون ملک کووِڈ-19 سے نمٹنے کے لیے پیسہ اور سامان دینے کے ساتھ ساتھ علم و ہنر بھی مہیا کر رہی ہیں۔

چہرے پر ماسک چڑہائے امتحانی نلکی کو دیکھتا ہوا ایک شخص۔ (Sven Hoppe/picture alliance via Getty Images)
سائنس دانوں کی کووِڈ-19 کے خلاف جنگ کے لیے کاروباری اداروں کی طرف سے رقومات آنا شروع ہو گئی ہیں۔ (Sven Hoppe/picture alliance via Getty Images)

2 اپریل

امریکہ بھر میں چھوٹے کاروبار کووِڈ-19 کے خلاف ملک بھر میں باہر نکلنے والوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایتھلیٹک سامان سے لے کر کشتیوں کے کپڑے سے تیار کیے جانے والے غلافوں تک اور وہسکی تک ہر چیز کے تیار کنندگان نے بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو سست کرنے کے لیے اپنے ہاں مال کی پیداوار کو ماسک، چہرے کی ڈھالوں اور ہاتھوں کے سینی ٹائزروں کی تیاری میں تبدیل کر دیا ہے

چہرے پر ماسک اور ڈھال چڑہائے ایک عورت کشتی کے سامنے کھڑی ہے۔ (© Rick Bowmer/AP Images)

یوٹاہ کی کشتیوں کے لیے کپڑے سے چھتیں اور غلاف تیار کرنے والی ایک صنتعتی فیکٹری، شوگر ہاؤس انڈسٹریز میں، رومی ہمفریز نے 26 مارچ کو اپنے چہرے پر ایک ماسک اور ڈھال چڑہا رکھی ہے۔ (© Rick Bowmer/AP Images)

یکم اپریل

امریکی بحریہ کے ہسپتالوں والے دو بحری جہاز لاس اینجلیس اور نیویارک کی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہیں اور سویلین مریضوں کا علاج معالجہ کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اِن جہازوں کے متعلق جانتے ہیں کیونکہ وہ دوسرے ممالک میں لوگوں کی مدد کر چکے ہیں۔ یہ اقدام کورونا وائرس (کووِڈ-19) کی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کی ” پورے امریکہ کی سوچ ” کا ایک حصہ ہے۔

سورج طلوع ہونے کے وقت بندرگاہ پر کھڑا ایک جہاز۔ (© APU GOMES/AFP/Getty Images)
لاس اینجلیس، کیلی فورنیا میں لنگر انداز یو ایس این ایس مرسی پر طبی عملے کے 1,200 افراد کام کر سکتے ہیں۔ (© APU GOMES/AFP/Getty Images)

31 مارچ

امریکی اور اطالوی فوجی کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں۔ (U.S. Army Garrison Italy/Maria Cavins)
کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں اٹلی کے شہر ویچینزا میں 31 مارچ کو منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں امریکی اور اطالوی فوجی۔ (U.S. Army Garrison Italy/Maria Cavins)

دیکھیے امریکہ کی مالی مدد کس طرح دنیا کے ممالک کو نئے کورونا وائرس خلاف ردعملوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔

امریکی پرچم والے ایک ٹرک کے قریب کھڑے لوگ جس سے سامان اتار جا رہا ہے۔ (Images: © Shutterstock | Graphic: State Dept.)

30 مارچ

27 مارچ

ایسے میں جب امریکہ کا نجی شعبہ کووِڈ-19 کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز تر کر رہا ہے، امریکی حکومت اس وائرس کے خلاف جنگ میں مدد کرنے کے لیے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو دنیا کے جدید ترین کمپیوٹروں تک رسائی فراہم کر رہی ہے۔

26 مارچ