کووِڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے امریکی خیراتی ادارے نئے علاجوں کی تلاش میں کی جانے والی تحقیقوں کی مالی مدد اور امریکہ اور دنیا بھر کے شہروں کی اس بیماری کے علاج اور اس کا پتہ چلانے کے طریقوں میں بہتری لانے میں مدد کی خاطر کئی ملین ڈالر کےعطیات دے رہے ہیں۔

کووِڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے دا بِل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے حال ہی میں 100 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس رقم سے فاؤنڈیشن کی اُن دیگر خیراتی اداروں کے ساتھ شراکت کاری میں مدد ملے گی جنہوں نے طبی ٹسٹوں کے ذریعے یہ جاننے کی خاطر 20 ملین ڈالر مختص کیے ہیں کہ کیا ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دو عام دوائیں کووِڈ-19 کو روک سکتی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، مارک سزمین نے 5 فروری کو ایک بیان میں کہا، "کثیرالجہتی تنظیموں، ملکی حکومتوں، نجی شعبے اور انسانی بھلائی کے لیے کام کرنے والے اداروں کو اس وباء کی رفتار کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔”

دا گیٹس فاؤنڈیشن، نیو یارک سٹی کے سابقہ میئر مائیکل بلومبرگ کی جانب سے قائم کردہ بلومبرگ فلنتھروپیز’ نامی تنظیم کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں کووِڈ-19 کے سلسلے میں کی جانے والی امدادی کاروائیوں میں بھی مدد کر رہی ہے۔

17 مارچ کو بلومبرگ نے اُس عالمی پروگرام کے لیے 40 ملین ڈالر کی رقم کا اعلان کیا جس سے افریقہ اور دیگر خطوں کے کم آمدنی والے ممالک میں کووِڈ-19 کا پتہ چلانے اور اس کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

بلومبرگ نے 17 مارچ کے بیان میں کہا، "ہمیں وائرس کے پھیلنے کی رفتار کو آہستہ کرنے اور تمام ملک میں اس کے اثرات کو کم ترین سطح پر رکھنے کی ضرورت ہے۔”

یہ اور دیگر خیراتی کاوشیں کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں "اجتماعی امریکی سوچ” کا حصہ ہیں۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جس میں حکومت کی جانب سے اربوں ڈالر کے ہنگامی اخراجات اور اُن کارپوریشنوں اور چھوٹے کاروباروں کو متحرک کرنا شامل ہے جنہوں نے اپنی پیداواری گنجائشوں کا رخ اس وباء کے مقابلے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مدد کرنے کی جانب موڑ دیا ہے۔

ایک طرف جہاں بڑی بڑی فاؤنڈیشنیں امریکہ کے اندر اور بیرونی ممالک میں کام کر رہی ہیں وہیں علاقائی اور مقامی خیراتی اداروں سمیت دیگر گروپ اپنی توجہ اُن لوگوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں جو اِس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

بچے کو اٹھائے ایک آدمی دستانے پہنے دوسرے آدمی سے پلاسٹک کے تھیلوں میں بند کھانا لے رہا ہے۔ (© Susan Walsh/AP Images)
مقامی لوگوں کو 16 مارچ کو ریاست میری لینڈ کے شہر اناپولِس کے ایک موبائل سٹاپ پر طلبا کے لیے مفت کھانا دیا گیا۔ (© Susan Walsh/AP Images)

19 مارچ کو ‘ نو کِڈ ہنگری کیمپین’ (کوئی بچہ بھوکا نہ رہے) نامی تحریک نے سکول نہ جاسکنے والے غیرمراعت یافتہ بچوں کو کھانا فراہم کرنے کی ملک گیر کوششوں کے لیے پانچ ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ سکول کے ایام میں سکول میں عام طور پر بچوں کو ایک یا دو کھانے دیئے جاتے ہیں۔

کیلی فورنیا فاؤنڈیشن نے صحت کی اُن مقامی تنظیموں کی مدد کے لیے پانچ ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے جو زرعی مزدوروں اور بے گھر لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ اور اوہائیو میں ‘کیئر سورس اینڈ دا فوڈ بنک انک’ نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ کم آمدنی والے اُن بزرگ افراد کو 50,000 سے زائد کھانے فراہم کرے گی جو گھروں کے اندر رہنے کے پابند ہیں۔

اس کے علاوہ پورے امریکہ میں ‘یونائٹڈ وے’ کی شاخوں اور کمیونٹی تنظیموں نے بیمار یا اس وباء کے نتیجے میں بے روزگار ہوجانے والے افراد کی مدد کے لیے کئی ملین ڈالر دینے کے اعلانات کیے ہیں۔

گریٹر اٹلانٹا کے یونائٹڈ وے اور کمیونٹی فاؤنڈیشن فار گریٹر اٹلانٹا کا کہنا ہے، "بچے سکول نہیں جا سکتے۔ کاروبار عارضی طور پر بند ہیں۔ تھیٹروں اور سینما ہالوں پر تالے پڑے ہیں اور لوگوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو مدد اور مالی وسائل کی اتنی شدید ضرورت کا وقت پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔”