دنیا کا یہ نقشہ آپ کی جان بچا سکتا ہے

اس نقشے پر ایک ہی نظر ڈالنے سے آپ بہت کچھ  جان سکتے ہیں۔ صحت عامہ کی ایک نئی تنظیم نے دنیا کا ایک ایسا نقشہ تیار کیا ہے جس کی مدد سے آئندہ دنیا بھر میں پھوٹ پڑنے والی کسی بھی وبائی مرض کے دوران بہت سی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

پریونٹ ایپی ڈیمکس [وباؤں کی روک تھام] نامی سبز، زرد اور سرخ رنگوں پر مشتمل اس نقشے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کون کون سے ممالک صحت کی عالمی تنظیم کی جانب سے وباؤں سے نمٹنے کی تیاری کے مقرر کردہ معیار پر پورا اترتے ہیں اور کون کون سے ممالک نہیں اترتے۔ جب شہری، لیڈر اور صحت عامہ کی ٹیمیں آن لائن جا کر اس نقشے پر کلِک کرتی ہیں  تو وہ اپنے ملک کی وباؤں سے نمٹنے کی تیاری میں موجود خامیوں کو دور کرنے سے متعلق معلومات اور تجاویز حاصل کر سکتے ہیں۔

Color-coded map of Africa (State Dept./J. Maruszewski)
وباؤں کی روک تھام کے نقشے کا جزوی منظر۔ پورا نقشہ اس کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ (State Dept./J. Maruszewski)

خدمت خلق اور فلاح عامہ کی مختلف تنظیموں نے اس نقشے کی تیاری کے لیے سرمایہ فراہم کیا ہے۔ پریونٹ ایپی ڈیمکس اور اس کا تیار کردہ  نقشہ، عالمی صحت کی سلامتی کے ایجنڈے  کو مد نظر رکھتے ہوئے تیارکیا گیا ہے۔ اس ایجنڈے کو درجنوں ممالک نے 2014 میں  پہلی بار اپنایا تھا۔

یہ نقشہ صحت کی عالمی تنظیم کے اس طریقہ کار کو بروئے کار لاتا ہے جس میں یہ جانچا جاتا ہے کہ مختلف ممالک کسی ممکنہ وبا کا پتہ چلانے اور نہ صرف ایبولا اور زیکا بلکہ انفلوئنزا، ایویان فلُو، ہیضہ، پیلا بخار اور خسرے کی وباؤں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

ابھی تک 76 ممالک بیرونی جانچ پڑتال کے عمل سے گزر چکے ہیں اور کئی ایک میں یہ عمل جاری ہے۔ آن لائن نقشے پر سبز رنگ میں دکھائے گئے 9 ممالک جانچ  پڑتال کے اس عمل کے دوران کامیاب قرار پائے۔ ان ممالک میں آرمینیا، آسٹریلیا، بلجیئم، فن لینڈ، اومان، سلووینیا، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ شامل ہیں۔

امراض پر قابو پانے اور اِن کی روک تھام کے امریکی مراکز کے سابقہ ڈائریکٹر تھامس فریڈن کہتے ہیں کہ ان ممالک میں ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ وہ زندگیاں بچانے کے عزم صمیم نامی تنظیم کی زیرقیادت چلنے والے پروگرام کے سربراہ ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد ستمبر 2017 میں رکھی گئی اور بلومبرگ فلانتھروپیز، دا چن زکربرگ انیشی ایٹو اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن نے اس پروگرام کے لیے 22 کروڑ 50 لاکھ  ڈالر کی رقم فراہم کی۔

ایپسن آئیڈیاز فیسٹیول سے بات کرتے  ہوئے فریڈن نے کہا کہ مغربی افریقہ میں 2014ء میں ایبولا کی وبا کے پھوٹنے کے بعد “دنیا نے وباؤں کی روک تھام میں موجود خامیوں کا جائزہ لینے میں زبردست پیش رفت کی ہے۔ اس کے باوجود ان [خامیوں] کو دور کرنے کے لیے درکار پیش رفت ہنوز مکمل نہیں ہوئی۔”

رضاکارانہ نوعیت کی بیرونی جانچ پڑتالوں سے چارٹوں اور جدولوں کی شکل میں ڈھیروں ڈیٹا سامنے آتا ہے۔

پریونٹ ایپی ڈیمکس کی سینئر نائب صدر، ایمنڈا میک لیلینڈ کہتی ہیں کہ یہ نقشہ کسی وبا کی تیاری کی بنیاد پر ملکوں کے حاصل کردہ نمبروں کی گتھی کو “سلجھاتا” ہے اور سادہ زبان میں بتاتا ہے کہ اِن کو کون کون سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

میک لیلینڈ کہتی ہیں کہ سرخ رنگ میں دکھائے گئے 15 ممالک  ایسے ہیں جنہوں نے 100 میں سے 40 سے کم نمبر حاصل کیے ہیں جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے وہ ابھی تیار نہیں ہیں۔ پیلے رنگ میں دکھائے گئے 41 ممالک نے 40  سے 79 کے درمیان نمبر حاصل کیے اور سبز رنگ میں دکھائے گئے 9 ممالک نے 80  یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے۔ میک لیلینڈ کہتی ہیں کہ زرد رنگ میں دکھائے گئے بیشتر ممالک کا تعلق افریقہ اور ایشیا سے ہے اور ان میں سے کچھ  سبز رنگ کا درجہ حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ (گیارہ دیگر ممالک کی جانچ پڑتال بھی کی چکی ہے، تاہم ابھی ان کی درجہ بندی نقشے پر دکھائی نہیں گئی)۔ یہ نقشہ اور اس میں موجود معلومات کا مقصد لوگوں کو سبز درجہ حاصل کرنے کا راستہ دکھانا ہے۔