رمضان : امریکی مسلمانوں کا اپنے ہمسایوں سے شناسائی کا موقع

اگر آپ اورنج کاؤنٹی کی اسلامک سوسائٹی  کی افطار میں نمازیوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں، تو آپ کو انواع اقسام کے کھانوں کے خوشبو اپنی طرف کھینچ لے گی۔

رمضان شریف کے دنوں میں، افطار کے وقت مسجد میں مفت کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ سوسائٹی کے بورڈ کی ایک رُکن دعا الوان نے وائس آف امریکہ  کو ایک انٹرویو میں بتایا، "اس میں ایک وسیع کمیونٹی کے بہت سے لوگوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہمارے  بہت سے دوستوں اور  ہمسائیوں کو بھی کو مدعو کیا جاتا ہے۔”

انھوں نے کہا، "اس موقع پر پاکستانی کھانے ہوتے ہیں، ہندوستانی کھانے ہوتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے کھانے ہوتے ہیں، اٹلی کے کھانے ہوتے ہیں، میکسیکو کے کھانے ہوتے ہیں، جن سے درحقیقت ہماری کمیونٹی کے تنوع کی عکاسی ہوتی ہے۔”

لاس انجیلیس کے نزدیک مختلف نسلوں کے لوگوں کے ایک رہائشی علاقے کی اس مسجد کے صحن میں ایک شامیانہ لگایا گیا ہے جہاں روزے دار نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں اور ایک ساتھ افطار کرتے ہیں۔ ساری دنیا میں مسلمانوں کے اسی قسم کے اجتماع ہوتے ہیں۔

امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان کا مہینہ غیرمسلموں کے ساتھ روابط قائم کرنے کا وقت بھی ہوتا ہے، اور اورنج کاؤنٹی کی اسلامک سوسائٹی بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔

امریکہ میں 2,000 سے زائد مساجد ہیں۔ ان میں سے نصف سے زیادہ نیویارک، کیلی فورنیا یا ٹیکسس میں واقع  ہیں۔ اورنج کاؤنٹی کی اسلامک سوسائٹی، 1976ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس میں نمازیوں کی تعداد 7,000 کے قریب ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا شمار مغربی نصف کرے کے سب سے بڑے اسلامی مراکز میں ہوتا ہے۔

شیخ مصطفیٰ عمر نے جو یہاں خطبات  دے چکے ہیں، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ رمضان کے روزوں سے مسلمانوں کو اُن نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں مدد ملتی ہے جنہیں ممکن ہے وہ عام دنوں میں معمول کی چیز سمجھتے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ رمضان سے مسلمانوں میں دوستی اور بھائی چارے کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے اور کمیونٹی میں میل جول کے بندھن مضبوط ہوتے ہیں۔ ” لہذا یہ، اللہ کی عبادت … اچھا وقت گذارنے، اور ہم میں اللہ کی طرف سے مختلف قسم کی نعمتوں کے عطا کے احساس کی بیداری کا امتزاج ہے۔”

اس سال، رمضان کا آغاز 5 جون کی شام کو ہوا اور اس کا اختتام 5 جولائی کو ہو گا۔

 امریکہ میں رمضان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے، اور یہ دریافت کیجیے کہ امریکہ میں مسلمان کس طرح اپنے مذہب پر کاربند رہتے ہیں اور اپنی کمیونٹیوں کی خدمت کرتے ہیں۔