روس میں پُرامن مذہبی سرگرمیاں انجام دینے والوں پر تشدد

روس کے علاقے اوریول میں مئی 2017 میں  ڈینس کرسٹنسن نے ”گواہانِ یہووا ”فرقے کی عبادت میں اپنا وعظ ختم کیا ہی تھا کہ پولیس نے اس چھوٹے سے اجتماع پر دھاوا بول دیا۔

کرسٹنسن  نے 23 مئی کو اپنی اپیل کی سماعت کے موقع پر کہا، ”میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا، میں نے کسی روسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور مجھے اپنے کسی فعل پر ندامت نہیں ہے۔”

کرسٹنسن کا تعلق ڈنمارک سے ہے اور وہ 2000ء سے رہائشی اجازت نامے پر روس میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”یہاں روس میں میرے اور گواہانِ یہووا کے دیگر پیروکاروں کو انتہاپسندی کے جھوٹے الزامات، تفتیش، گرفتاریوں، تلاشیوں، ضبطگیوں، تحقیقات، دھمکیوں اور اب تشدد کا سامنا ہے۔ یہ ایسے کام ہیں جن پر شرم آنی چاہیے۔”

ان کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

روس میں کیا ہو رہا ہے؟

روس میں گواہانِ یہووا جیسی مذہبی اقلیتوں پر کیے جانے والے جبر میں اضافہ ہو رہا ہے، نتیجتاً امریکی دفتر خارجہ نے 2018 میں روس کو عالمگیر مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا۔

روس نے انتہاپسندی کے حوالے سے بنائے مبہم قوانین کی بنیاد پر اپریل 2017 میں اس عیسائی فرقے کو ”انتہاپسند تنظیم” قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اگست 2019 میں گواہانِ یہووا تنظیم نے اطلاع دی کہ روس اور کرائمیا میں ان کے فرقے سے تعلق رکھنے والے قریباً 250 افراد مجرمانہ الزامات میں مقدمات کے منتظر ہیں۔ ان میں 60 سے زیادہ گرفتار یا نظربند ہیں۔ جنوری 2018 سے اب تک  روسی پولیس گواہان یہووا کے 600 سے زیادہ گھروں پر چھاپے مار چکی ہے۔

اس معاملے میں پولیس کی ہتھکنڈے پہلے سے کہیں زیادہ ظالمانہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔

تشدد پر امریکی ردعمل

گواہانِ یہووا کے کم از کم سات ارکان پر تشدد میں ملوث ہونے پر10 ستمبر کو امریکہ نے دو روسی عہدیداروں کے خلاف سرکاری طور پر پابندی عائد کی۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ ٹونی پرکنز:  “ہم روس میں گواہانِ یہووا اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف کی جانے والی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے، محکمہ خارجہ کے یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارشات پر دو روسیوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیوں کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”

روس کے شہر سرگٹ میں تفتیشی کمیٹی کے مرکز میں ولاڈیمیر پیٹرووچ یرمولائیف اور سٹیفن ولاڈیمیرووچ کیچ کی نگرانی میں تفتیشی عمل انجام دیا گیا جس میں سات افراد کا دم گھونٹا گیا، انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور انہیں  شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا، ”یہ بربریت گواہانِ یہووا کی پرامن سرگرمیوں سے واضح طور سے متضاد ہے جن کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد پر عمل کی پاداش میں مجرمانہ سلوک روا  رکھا جا رہا ہے۔”

انہوں نے کہا، ”روس گواہانِ یہووا کے خلاف اپنی بے جا مہم بند کر کے ان 200 سے زیادہ لوگوں کو فوری طور پر  رہا کرے جو اس وقت اپنے مذہب یا عقیدے پر آزادانہ عمل  کی پاداش میں جیلوں میں بند پڑے ہیں۔”