رومی سپائس: ایک امریکی کاروباری ادارہ تجارت کے ذریعہ افغانستان کی مدد کر رہا ہے

اکثر لوگ جب افغانستان کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ان کے ذہن میں جامنی رنگ کے پھولوں کےکھیت نہیں ہوتے۔ مگر یہ بالکل وہی منظر ہے جسے سابق امریکی خاتون فوجی، کمبرلی جنگ کو تخلیق کرنے کی امید ہے۔

13ویں صدی کے فارسی شاعرکی مناسبت سے انہوں نے اپنے کاروبار کا نام رومی سپائس رکھا ہے۔ یہ کاروبار افغان زعفران کو بین الاقوامی منڈیوں میں لانے کے لیے مقامی کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ ایک مضبوط کاروبار ہونے کے ناطے یہ کاروبار ملازمتیں فراہم کرتا ہے اور دیہی کسانوں کو طالبان کے اثر سے بچنے میں معاونت کرتا ہے۔

جنگ نے ایک * پروموشنل وڈیو میں وضاحت کی، “ہم حقیقی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا پائیدار مستقبل افغان عوام کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔”

رومی سپائس کی تخلیق کا خیال جنگ اور ان کے دو فوجی ساتھیوں، ایملی ملّر اور کیتھ الانیز کے ذہنوں میں اُس وقت آیا جب 2014 ء میں یہ تینوں افغانستان میں خدمات سر انجام دے کر وطن واپس لوٹے۔ اِن کے ساتھ کیرول وانگ بھی شریک بانی کے طور پر شامل ہوگئیں جو افغانستان میں عالمی بینک کے ترقیاتی پروگرام کے لئے کام کر چکی تھیں۔

افغان کسانوں کے ساتھ بات کرنے کے بعد، چاروں بانیوں نے محسوس کیا کہ افغانستان میں دنیا میں سب سے بہترین قسم کا زعفران پیدا ہوتا ہے اور یہ جامنی پھول ایک کاروبار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ مگر وہ زعفران کی کاشت اور اس کی چنائی کے ذریعے اپنے لیے نئے ذرائع آمدنی کے علاوہ، مقامی کسانوں اور خواتین کے لئے کام کے مواقع بھی فراہم کرنا چاہتے تھے۔

خواتین کو کام فراہم کرنا

Women putting saffron flowers in baskets (© AP Images)
افغانستان، ہرات کے ضلع گزارہ میں افغان عورتیں زعفران کے ایک کھیت میں کام کر رہی ہیں۔ (© AP Images)

زعفران کھانوں میں استعمال ہونے والا دنیا کا سب سے مہنگا مسالہ ہے۔ اسے زعفران کی قسم  کے ایک پھول کے تخم دان سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ہر پھول میں صرف تین تخم دان پیدا ہوتے ہیں، اور ایک کلوگرام زعفران حاصل کرنے  کے لیے 150,000 سے زیادہ پھول درکار ہوتے ہیں۔

پھولوں اور تخم دانوں کو جمع کرنا نازک کام ہے اور یہ کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ رومی سپائس نے پھولوں کو جمع کرنے اور ان سے زعفران نکالنے کے لیے ہرات، افغانستان میں 300 خواتین کو روزگار مہیا کیا ہے۔ الانیز کے مطابق، یہ ملک میں افغان خواتین کو روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا نجی ادارہ ہے۔ یہ کمپنی افغان خواتین کو تنظیمی اور دفتری امور کے لیے  بھی ملازمت دیتی ہے۔

خواتین کو ملازمت فراہم کرنا افغان معیشت کے لئے ضروری ہے، کیونکہ مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب خواتین کام کرتی ہیں تو معیشت تیزی سے بڑھتی ہے اور بچے اس سے مستفید ہوتے ہیں۔

زعفران: ایک نیا موقع

افغانستان کی 80 فیصد آبادی زراعت کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ یہاں کی آب و ہوا نازک جامنی زعفران کے پھولوں کی کاشت کے لیے قریب قریب مثالی ہے۔ برسلز میں ذائقے اور معیار کے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، خشک، نیم بنجر زمین میں دنیا کا سب سے زیادہ اعلیٰ معیار کا زعفران پیدا ہوتا ہے، اور کسان کسی دوسری قانونی فصل کے مقابلے میں زعفران کی کاشت سے زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔

زعفران کی چنائی ایک محنت طلب کام ہے، اور بہت سے افغان کسانوں کو افغانستان سے بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔ زعفران کی کاشت کی بجاۓ کچھ کسان ہیروئن کے ایک اہم جزو، پوست کے پودوں کی کاشت کرتے ہیں اور انہیں طالبان کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔ دنیا کی 90 فی صد پوست افغانستان میں پیدا ہوتی ہے۔

اب، رومی سپائس کی سرمایہ کاری اور ریستوران اور سپرمارکیٹوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی وجہ سے، زعفران کے کاشت کار غیر ملکی بازاروں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور انہیں اپنی فصلوں کو فروخت کرنے کے لیے زیادہ مواقع میسر آ رہے ہیں۔

جنگ کا کہنا ہے، “زعفران افغان کاشت کاروں کے لئے پوست اور افیون کے مسئلے اور اُس اثرونفوذ سے بچنے میں مدد کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، جو طالبان کو اِن کاشت کاروں پر حاصل ہے۔”

رومی سپائس کمپنی افغانستان کے 90 سے زائد کسانوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگ کہتی ہیں کہ با اختیار افغان کاشت کار ملک کی طویل مدتی کامیابی کے لئے اہم ہیں اور “مجھے یقین ہے کہ وہ افغانستان کے امن اور خوشحالی کی کلید ہیں۔”

* وڈیو انگریزی میں ہے۔