زندگی کا ثبوت: بیرون ملک مقیم ویغور سوالوں کے جواب مانگتے ہیں

اپریل 2017 کے بعد چینی حکام مسلمان اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ سے زائد افراد کو حراست میں لے کر حراستی کیمپوں میں نظر بند کر چکے ہیں۔ نظر بند کیے جانے والے افراد کے خاندان اور دوست  #MeTooUyghur  یعنی # میں_بھی_ویغور-ہوں کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیاروں کے زندہ  ہونے کے ثبوت کے طور پر اُن کی ویڈیوز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکہ نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر نظر بند کیے گئے افراد کو رہا کرے اور مذہبی اقلیتوں پر جبر کرنا بند کرے۔ چینی حکومت پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردی یا انتہا پسندی کو پرامن مذہبی یا سیاسی حقوق کے اظہار کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرے۔