Woman smiling in front of a sign that says
نوجوان عورتیں " ڈریمز" نامی امریکی اعانت سے چلنے والے پروگرام کے تحت ایچ آئی وی کی روک تھام کے طریقوں کے بارے میں اپنی کمیونٹیوں کو آگاہی دیتی ہیں۔ تصویر میں ٹوکوزو زکاوے 2016 کی ایڈز کانفرنس میں ڈریمز کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ (© Francesco Rossi/Pivion/Johnson & Johnson)

امریکی صدر کا ایڈز کے خاتمے کا منصوبہ (پیپفار) 2030ء تک ایچ آئی وی/ایڈز کی عالمی وبا کا خاتمہ کیسے کرے گا؟

ایڈز کے لیے امریکہ کی عالمی رابطہ کار اور صحت کی عالمی سفارت کاری کی نمائندہِ خصوصی، ڈیبرا برکس کے مطابق 2019ء میں صدر ٹرمپ کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کردہ اِس اعلٰی مقصد کا حصول پہنچ سے باہر نہیں ہے۔

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے باہر سویٹو میں واقع زولا کمیونٹی ہیلتھ کلینک میں انہوں نے کہا، "ہمیں علم ہے کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وبا سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس مکمل وسائل موجود ہیں۔"

برکس 16 مارچ کو نائب وزیرخارجہ جان سلیون اور  پیپفار کی مالی اعانت سے چلنے والے زولا کے روک تھام اور علاج کے پروگراموں کے شرکا کے ہمراہ وہاں موجود تھیں۔

اُنہوں نے ڈریم ایمبیسڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ ڈریم ایمبیسڈر [خوابوں کی سفیر] ایسی نوجوان خواتین ہیں جنہوں نے ایچ آئی وی کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کروانے اور ایڈز سے محفوظ رہنے کے طریقوں سے متعلق اپنے دوستوں اور خاندان سے بات کرنے کی تربیت حاصل کی ہوئی ہوتی ہے۔ یو این ایڈز کے مطابق افریقہ کے زیریں صحارا کے خطے میں ایڈز سے متاثرہ ہر چار میں سے تین نوجوان عورتوں کا تعلق کم عمر لڑکیوں سے ہوتا ہے۔

Woman speaking to a group of young people and State Department dignitaries gathered in horseshoe seating (U.S. Embassy South Africa)
(دائیں سے دوسرے، وسط میں بیٹھے ) نائب وزیر خارجہ جان سلیون اور (بائیں سے دوسری، وسط میں بیٹھیں ) ایمبیسڈر ڈیبرا برکس سویٹو، جنوبی افریقہ میں زولا کمیونٹی ہیلتھ کلینک میں تقریر سن رہے ہیں۔ (U.S. Embassy South Africa)

برکس نے بتایا، "اس کا تعلق نوجوان عورتوں کو با اختیار بنانے اور اُن کی حفاظت کرنے سے ہے۔ نوجوان مردوں کے رضاکارانہ ختنوں کے ایک پروگرام کے تحت [اس بیماری کے خلاف] نوجوانوں کو تحفظ کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ ہمارے علاج معالجے کے دیگر پروگرام اس کے علاوہ ہیں۔"

ڈریمز ایک خاص قسم کی ایسی خواتین کے حوالے سے انگریزی الفاظ کے پہلے حروف کا مخفف ہے جن سے یہ امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ اس پروگرام کے تحت دی جانے والی تربیت حاصل کرنے کے بعد اِس بیماری کی روک تھام کے لیے تیار ہوں گی: یعنی مصمم ارادوں والی، لچکدار سوچ رکھنے والی، با اختیار، ایڈز سے پاک، محفوظ اور تربیت یافتہ۔ پیپفار اس شراکت کاری کی سربراہی کرتی ہے اور امریکہ اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں اسے عملی جامہ پہناتی ہیں۔ 2014ء میں اس کی ابتدا سے لے کر اب تک اس پروگرام سے کروڑوں کم عمر لڑکیاں اور نوجوان عورتیں فائدہ اٹھا چکی ہیں۔

اس موقع پر موجود نائب وزیر خارجہ سلیون نے کہا، "یہاں جنوبی افریقہ میں ہم نے چھ ارب ڈالر ہمارے درمیان موجود خواتین جیسے نوجوان لوگوں پر لگائے ہیں اور یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا عالیشان استعمال ہے۔"

رضاکارانہ طور پر مردانہ ختنے کروالے افراد کے لیے علاقے میں پہلا زولا کلینک 2011ء میں کھولا گیا۔ ختنوں سے ایچ آئی وی لگنے کے خطرات کم ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ مردوں میں ایچ آئی وی لگنے کی شرح 60 فیصد ہوا کرتی تھی۔  تب ایچ آئی وی کے مریضوں کی عالمی تعداد کا 14 فیصد کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہوا کرتا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک جنوبی افریقہ میں ایج آئی وی انفیکشن میں 25 فیصد کمی آئی ہے اور ایڈز سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

برکس نے کہا، "جنوبی افریقیوں کو آگے آنے اور اپنا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے۔ وہ خطرے سے دوچار ہیں اور انہیں اپنا ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کا حل ہے۔"

پیپفار کی کامیابیوں پر ایک نظر ڈالیے (اعداد و شمار نومبر 2018 تک کے ہیں)

Infographic showing top PEPFAR successes since 2003 (State Dept.)