زوہیکاتھون کے ذریعے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف جنگ کے طریقے دریافت کیے جاتے ہیں

حال ہی میں سڈنی سے لے کر واشنگٹن اور لندن تک کے چڑیا گھروں میں، ماہرین نے دنیا کے پہلے زوہیکا تھون میں جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت پر قابو پانے کےلیے اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹروں کا استعمال کیا۔

زوہیکا تھون کے شرکاء کے پاس 48 گھنٹے تھے جن میں انہیں ایسے ٹیکنیکل پراجیکٹوں پر کام کرنا تھا جن کے ذریعے جنگلی حیات سے حاصل ہونے والی غیر قانونی اشیاء کی مانگ ختم کی جا سکے۔ سیاٹل میں وُڈ لینڈ پارک کے چڑیا گھر کے فریڈ کونٹز کا کہنا ہے، "بڑھتی ہوئی مانگ کے خلاف جنگ  میں اور جنگلی حیات کی بقا کی حکمت عملیوں میں، چڑیا گھروں کی حیثیت اگلی صفوں کی سی ہے۔”

ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے اشتہاروں کے نیٹ ورکوں کے منصوبے بنائے، ایسی آن لائن گیمیں تیار کیں جن کے ذریعے کھلاڑی غیرقانونی شکار کی روک تھام پر تعینات کسی رینجر کی زندگی کا حصہ بن سکیں، اور غیر قانونی تجارت پر نظر رکھنے والوں کے لیے ایک "اینٹی ٹریفکنگ ٹول” بھی تیار کیا۔ 9 اکتوبر کو ان تمام  پروگراموں کو جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہرین کے پینل کے سامنے پیش کیا گیا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ بعض صورتوں میں بہترین پراجیکٹ وہ ثابت ہوئے جن میں ٹیکنیکل مہارت کا بہت زیادہ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔  ٹیم لُک آؤٹ ایسی ہی ایک ٹیم تھی جس نے لندن کا زوہیکاتھون جیت لیا۔

لندن کی ٹیم کا خیال تھا کہ ایک ایسا ایپ تیار کیا جائے جس کے ذریعے بین الاقوامی سیاحوں کی معلومات میں اضافہ ہو۔ یہ سیاح اکثر انجانے میں یادگار اشیاء خریدتے ہوئے، جنگلی حیات سے بنائی گئی غیر قانونی چیزیں خرید لیتے ہیں۔

لیکن ٹیم کی ایک رکن کیرولائن فلیچر کا  کہنا تھا کہ بین الاقوامی مسافر اکثر دوسرے ملکوں میں اپنے سمارٹ فون استعمال نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایسا کوئی ایپ استعمال ہی نہ کیا جا سکے۔

اس کے بجائے، ٹیم نے یہ تجویز پیش کی کہ سیاحوں  کے کسی دوسرے ملک میں جانے سے پہلے، ایئر لائنیں، ایئر پورٹ اور سفارت خانے مسافروں کو جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ ٹیم نے مسافروں سے رابطے کے لیے ایسے "مواقعوں” کی تفصیل تیار کی، جب مسافروں کو ضروری معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں، جیسے کہ وہ جگہیں جہاں وہ اپنا بورڈنگ پاس ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، ویزا کی درخواست دیتے ہیں، یا دورانِ پرواز فلمیں دیکھتے ہیں۔

جیتنے والے پراجیکٹس @Zoohackathon

امریکی محکمۂ خارجہ کی سوزن کلیئری جنہوں نے زوہیکاتھون کا منظم کیا تھا کہتی ہیں، "جنگلی حیات کی بقا کی ٹکنالوجی میں کام کرنے کے امکانات بہت وسیع ہیں۔” ٹیم لُک آؤٹ اور جیتنے والے دوسرے پراجیکٹ اب ایک عالمی مقابلے میں حصہ لیں گے جس میں فتح یاب ہونے والوں کا اعلان نومبر میں کیا جائے گا۔

ذیل میں اختتامِ ہفتہ کی بعض اہم پیشرفتیں دی جا رہی ہیں:

  • تیل والے درخت: سیاٹل میں یہ مقابلہ جتینے والے نے ایک ایسا ٹول تیار کیا جس کے ذریعے درخت کاٹنے اور تیل والے درخت اگانے کے لیے جنگلات کے خاتمے کی سرگرمیوں کی اطلاع دی جا سکے گی۔  دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے پام کے درخت اگانے کی خاطر جنگلات کاٹ رہے ہیں اور اس طرح بن مانسوں، ہاتھیوں اور چیتوں کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔
  • وائلڈ ٹریک: سان ڈیاگو کی ایک ٹیم نے ایک ایسا ٹول تیار کیا ہے جس کے ذریعے جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت کی اطلاع گمنام طریقے سے دی جا سکے گی۔
  • وائلڈ فیس: واشنگٹن کے قومی چڑیا گھر میں، وائلڈ فیس ٹیم نے سمارٹ گھڑیوں کے لیے ایک ایسا ایپ ڈیزائن کیا ہے جسے استعمال کرنے والے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کی اطلاع دے سکیں گے۔

اگر آپ کو جنگلی حیات کی اقسام کے تحفظ کے لیے ٹکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی ہے تو Wildlabs.net پر یا ٹوئٹر کے  #Zoohackathon پر ہونے والی بات چیت میں شامل ہوجائیے۔