دنیا بھر میں کم و بیش چار ارب لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کو سماجی تعامل سے لے کر کاروباروں اور بجلی گھروں جیسے انتہائی اہم بنیادی ڈھانچوں تک مرکزی حیثیت حاصل ہے اور ان سب چیزوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے امریکہ سائبر سپیس میں غلط کام کرنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔

ستمبر میں جاری کی جانے والی نئی قومی تزویراتی پالیسی میں صدر ٹرمپ نے لکھا، "امریکہ نے انٹرنیٹ ایجاد کیا اور دنیا کو اس میں شامل کیا۔ آج ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ہرصورت میں محفوظ اور قائم رہے۔”

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان سلیون نے 28 ستمبر کو اقوام متحدہ میں سائبر سکیورٹی پر ہونے والے ایک اجلاس میں کہا، "ہمار مقصد سائبر سپیس میں بد نیتی پر مبنی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔” اس کام میں توازن سے چلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد "انٹر نیٹ کے اُن فوائد کو محفوظ بناتے ہوئے سائبر حملوں کا سامنا کرنا ہے جن سے آزاد لوگ اور آزاد اقوام مستفید ہو رہی ہیں۔”

‘آزاد اور مستحکم’ سائبر سپیس کی حفاظت

گو کہ بین الاقوامی بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے تاہم سلیوان نے "ہم خیال شراکت کاروں سے کہا کہ اوہ اُن ممالک کو قابل احتساب ٹھہرانے پر کام کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ شامل ہوں جو بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔”

People seated around large conference table (State Dept.)
نائب وزیر خارجہ جان سلیون 28 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران سائبر سکیورٹی کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ (State Dept.)

سلیوان نے کہا کہ اکٹھے مل کر کام کرنے والے ممالک "ایسے [ممالک کو] خمیازہ بھگتنے پر مجبور کریں گے جو اُن اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جنہیں ہم خیال ممالک نے اپنا رکھا ہے۔”

سائبر اور بین الاقوامی مواصلات اور انفارمیشن پالیسی کے معاون نائب وزیر خارجہ رابرٹ سٹریئر نے حال ہی میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اپنائے گئے اصولوں کے تحت ذمہ دار حکومتی رویے کی ایک مثال یہ ہے کہ کوئی ملک عوامی فلاح کے انتہائی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ امریکہ سائبر حکمت عملی پر اتفاق رائے پید کرنے پر کام کیوں کر رہا ہے۔

سٹریئر نے کہا، "ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ملک اِن اصولوں کو مانیں۔” انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹکنالوجیوں کی بدولت عالمی اقتصادی پیداوار میں ایک کھرب ڈالر کا مزید اضافہ متوقع ہے۔ اگر اِن خطرات سے نہ نمٹا گیا تو اس اضافے کا 75 فیصد حصہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

انہوں نے کہا، "ہمیں بدنیتی پر مبنی اس رویے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کے ذمہ داروں کا تعین اور یہ کام کہ وہ  نتائج کا سامنا کریں دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کرنے کی کوشش کرِیں گے۔