سائنس اور ریاضی کی کوئی صنف نہیں ہوتی

(State Dept./Doug Thompson)

ریاست ٹیکسس میں چھٹی جماعت کی لڑکیوں کے کیمپ میں ایک ٹیچر نے سائیکل کے پرزوں کو ایک ڈبے سے نکال کر فرش پر ڈھیر کیا اور ترکیب بتائے بغیر ان سے کہا کو وہ اِن پرزوں سے سائیکل تیار کریں۔

انہوں نے یہ کام کامیابی سے اُسی طرح ہی کیا جیسے انہوں نے کامیابی سے لیگو کے بلاکوں سے رقص کرنے والا ایک روبوٹ اور جلتی بجھتی روشنیوں والی لکڑی کی پِن بال مشین بنائی تھی۔

12 سالہ ایوری لوپیز کہتی ہیں، "اس کا مقصد ہمارے ذہنوں میں حرکیات اور انجنیئرنگ کے تصور کو بٹھانا تھا۔ کسی عام کلاس میں آپ یہ کام لڑکوں سے کروائیں گے۔ ایماندارانہ بات یہ ہے کہ اگر میں ہوتی تو یہ سارا کام میں خود کرتی۔”

(State Dept./Doug Thompson)

ہیوسٹن کے نواح میں واقع لامار سکول ڈسٹرکٹ میں منعقد کیے جانے والے سائنس اور ٹکنالوجی کیمپ کا شمار اُن کئی ایک پروگراموں میں ہوتا ہے جن کا اہتمام  لڑکیوں میں ابتدا ہی میں دلچسپی پیدا کرنے اور ریاضی اور سائنس کی اعلٰی سطحوں کی کلاسیں لینے کی جانب راغب کرنے کی خاطر کیا جاتا ہے۔

زیادہ تر ممالک میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے،  زیادہ تعداد میں کالجوں سے سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی (مخففاً سٹیم) کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں اور پھر انہی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ ہر جگہ حکومتیں اور ماہرین اس صنفی فرق کو دور کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

کم از کم پرائمری سکول کی سطح پر تو یہ پیشرفت کی علامت ہے۔

1995ء کے مقابلے میں، چوتھی اور آٹھویں کلاسوں کے طلبا اور طالبات میں ریاضی اور سائنس کے رجحانات کے بارے میں کی جانے والی ایک تازہ ترین تحقیق کے دوران  یہ بات درجنوں ممالک میں سامنے آئی ہے کہ بہت کم ممالک میں یہ صنفی فرق، لڑکوں کے حق میں جاتا ہے اور ایسے ممالک تو چند ایک ہی ہیں جہاں بالخصوص سائنس کے شعبے میں، لڑکیوں کو سبقت حاصل ہے۔

تاہم، ثانوی سکول کی کلاسوں میں ریاضی اور فزکس کی اعلٰی سطح کی کلاسوں میں پڑہنے والے طلبا اور طالبات کے لیے جانے والے ایک علیحدہ امتحان سے یہ پتہ چلا ہے کہ  صنفی فرق اب بھی موجود ہے۔ تعلیمی کامیابیوں کو جانچنے کی بین الاقوامی انجمن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈرک ہیسٹڈ کا کہنا ہے، "اِن کورسوں میں ہمیں بہت کم لڑکیاں دیکھنے میں ملتی ہیں اور اُن کی کامیابیاں نمایاں طور پر کم ہیں۔”

صنفی فرق کیوں ہے؟

(State Dept./Doug Thompson)

ماہرین اِس بات پر متفق ہیں کہ لڑکیوں اور لڑکوں میں سٹیم کے مضامین پڑہنے کی اہلیت کے حوالے سے کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ مگر ہیسٹڈ کے کہنے کے مطابق ” بہت سے معاشروں میں لڑکیوں کو ریاضی اور سائنس میں اپنا مستقبل دکھائی نہیں دیتا اور وہ خواتین سائنس دانوں کی کوئی بڑی تعداد نہیں دیکھتیں جس کی وجہ سے اُن کی خود اعتمادی کم ہو جاتی ہے۔”

ماہرینِ تعلیم اِس رجحان کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں خواتین پروگرامروں اور انجنیئروں کو بھرتی کرنے میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جولین جیسی کے کہنے کے مطابق یہ جاننے کے لیے کہ ” کون سی ایسی چیز ہے جو خواتین کو اِس طرف متوجہ نہیں کر رہی بلکہ اُنہیں اِس سے دور کر رہی ہے،” یونیورسٹیاں اور پیشہ ور انجمنیں اپنے نصابوں اور تدریسی طریقوں کے بارے میں ازسرِنو سوچ و بچار کر رہی ہیں۔

اِس کی ابتدا جتنی جلدی کی جائے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ چیف اکیڈیمک افسر یعنی سربراہ نصابی افسر، ویلری ووگ کہتی ہیں کہ لامار ڈسٹرکٹ کے سکولوں نے شعور و آگاہی کے کیمپوں کا آغاز کیا تاکہ  یہ "یقینی بنایا جا سکے کہ لڑکیاں کو [سٹیم] کے بارے میں اتنی ہی آگاہی حاصل ہو جتنی کہ انہیں بیلے یا کھیلوں کے مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نعرے بازی کے بارے میں ہوتی ہے۔”

سہہ جہتی پرنٹر کی پروگرامنگ کی ماہر، ایوری لوپیز کو کمپیوٹر ڈیزائن میں اپنا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ اُن کا ایسی [لڑکیوں] کو، جو ریاضی اور سائنس سے کنی کتراتی ہیں، کیا مشورہ ہے؟ وہ کہتی ہیں، "سائنس اور انجنیئرنگ  پر ضرور غور کریں کیونکہ یہ حقیقی معنوں میں ایک بہت بڑا شعبہ ہے جس میں لڑکیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر  ہے۔”