سائنس دانوں کی وہیل مچھلی کی ایک انتہائی منفرد قسم کی دریافت

امریکی حکومت کے سائنس دانوں نے حال ہی میں وہیل مچھلیوں کی انواع میں سے ایک نئی نوع کی مچھلی دریافت کی ہے۔

ایک طویل عرصے تک سائنس دان خلیج میکسیکو میں پائی جانے والی وہیل مچھلیوں کے ایک گروپ کو اُن ‘ برائیڈ وہیلوں’ کا ایک ذیلی گروپ سمجھتے رہے ہیں جو بحرہند اور بحرالکاہل میں بھی پائی جاتی ہیں۔ تاہم یہ عظیم الجثہ اور خطرات کا شکار وہیل مچھلیاں کچھ مختلف اور تھوڑی بہت  پراسرار دکھائی دیتی تھیں.

برائیڈ وہیلیں پانی کی سطح کے قریب رہتی ہیں مگر خلیج میکسیکو کی وہیلیں خوراک کے لیے سمندروں کی گہرائیوں تک جاتی ہیں۔ یہ 13 میٹر لمبی اور اِن کا وزن 27,000 کلو گرام ہوتا ہے جو کہ ایک عام ہاتھی کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ یقنینی طور پر کسی کو علم نہیں کہ یہ کھاتی کیا ہیں۔

لنسی ولکوکس امریکہ کے بحری اور فضائی ادارے (این او اے اے)  کے ‘نیشنل میرین فشریز سروس’ نامی محکمے میں سائنس دان کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اسی محکمے نے وہیل کی اس قسم کی دریافت میں مدد کی ہے۔ ولکوکس نے روزنامہ دا گارڈین کو بتایا، ” مجھے حیرت ہوئی کہ یہاں، خاص طور پر ہمارے پچھواڑے میں وہیل مچھلی کی کوئی گمنام قسم بھی ہوسکتی ہے۔”

این او اے اے کے محققین نے دریافت کی جانے والی وہیل کی اس نئی اور منفرد قسم کو، امریکی ماہر حیاتیات، ڈیل رائس کے نام منسوب کرتے ہوئے، ‘رائس وہیل’ کا نام دیا ہے۔ اس دریافت سے محققین کو سنگین خطرات سے دوچار اِن وہیلوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور اور اِن کی حفاظت کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت اِن کی تعداد 33 کے قریب ہے۔

این او اے اے کے مچھلیوں کے سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے مفصل نتائج 10 جنوری کو ‘سمندری ممالیہ جانوروں کی سائنس’ میں شائع کیے۔ یہ دریافت اِن وہیلوں میں سے ایک وہیل کے 2019 میں فلوریڈا کے ساحل پر آ پھنسنے کے بعد عمل میں آئی جس کے نتیجے میں سائنس دانوں کو پہلی مرتبہ اس مچھلی کی کھوپڑی کا تجزیہ کرنا کا موقع ملا۔ ان کے سامنے وہ منفرد علامات آئیں جو رائس وہیل اور برائیڈز وہیل میں پائے جانے والے فرق کو نمایاں کرتی ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹوں سے رائس وہیل کے منفرد نسل سے تعلق رکھنے کی تصدیق ہوئی۔

رائس وہیل کی کھوپڑی کا تجزیہ این او اے اے فشریز سے تعلق رکھنے والی، پٹریشیا روسیل نے کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، روسیل نے بتایا کہ رائس وہیل کے ممکنہ مسکن اور اُن خطرات کی نشاندہی کرنے کے لیے جن خطرات سے رائس وہیل دوچار ہے، اِن کے مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔

نیشنل میرین میمل فاؤنڈیشن کی لوری شواک کہتی ہیں کہ این او اے اے سے تعلق رکھنے والے محققیں کی یہ دریافت، انتہائی سنگین خطرات کا سامنا کرنے والی وہیلوں کی حفاظت کرنے کے لیے مزید جوش جذبے کا کام کرتی ہے۔

شواک نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ، “خلیج میکسیکو میں یہ تعداد اتنی کم ہے کہ سمندری سائنس دان اور انتظام کار پہلے ہی سے انہیں بچانے پر اپنی کوششیں مرکوز کیے ہوئے تھے۔ مگر اب اس تصدیق کے بعد کہ اِن وہیلوں کا یقینی طور پر پہلے کسی کو علم نہیں تھا، اِن کی حفاظت حقیقی معنوں میں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔”