سادہ حقائق: محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹیں

محکمہ خارجہ کی طرف سے شائع ہونے والی انسانی حقوق کی کارکردگیوں پر انفرادی ممالک کے بارے میں سالانہ رپورٹیں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مواد ہے۔ اسے 10 لاکھ سے زیادہ  لوگ آن لائن پڑھتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت کے بیورو کے ایک اعلٰی مشیر، مائیکل کوزاک بتاتے ہیں کہ رپورٹوں کے ہمراہ فراہم کیے گئے آن لائن ڈیٹا بیس پر قارئین، نہ صرف ملک وار بلکہ عورتوں یا اقلیتی گروپوں، آزادیِ اظہار، محنت یا جیل کے حالات کے عنوانات کے تحت حقوقِ انسانی  کے بارے میں معلومات تلاش کر سکتے ہیں۔

Man standing behind wire fence (© AP Images)
2010ء میں بغداد کی المثنٰی جیل میں قید ایک عراقی قیدی۔ (© AP Images)

ان معلومات کو کون، اور کیسے  استعمال کرتا ہے۔

سالانہ رپورٹوں کا تعلق دوسرے ممالک کے بارے میں کوئی فیصلے صادر کرنے سے نہیں ہوتا۔ کوزاک نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ اس کے برعکس ان رپورٹوں سے ” ہم اپنے آپ کو آگاہ رکھتے ہیں تا کہ جن لوگوں کے ساتھ ہم معاملات طے کر رہے ہوتے ہیں اُن کے متعلق فیصلے کرتے وقت ہم اپنی آنکھیں مکمل طور پر کھلی رکھیں۔”

محکمہ خارجہ اُن سات طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کے تحت ان رپورٹوں کوعموماً استعمال کیا جاتا ہے:

  • غیر ملکی سربراہانِ مملکت سے ملاقات سے قبل، صدر ٹرمپ اور وزیرخارجہ سمیت محکمہ خارجہ کے اہلکار ان رپورٹوں  کا جائزہ لیتے ہیں۔
  • ان رپورٹوں سے اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی کو یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ فریق ممالک نسلی امتیاز کے کنونشن پر اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پورا کر رہے ہیں۔
  • غیرسرکاری تنظیمیں اپنی رپورٹوں اور پروگراموں کی تیاری میں، اِن رپورٹوں میں دیے گئے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں۔
  • ماہرینِ تعلیم اِن رپورٹوں کو تدریسی اور تحقیقی وسائل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
  • اِن رپورٹوں سے کاروباروں اور تنظیموں کو بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی منصوبہ بندی کی خاطر، خطرات کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
  • امریکہ کا محکمہ انصاف اور انسانی حقوق کے وکلاء، سیاسی پناہ کے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اِن کا حوالہ دیتے ہیں۔
  • اِن رپورٹوں میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر، امریکی کانگریس قانون سازی اور حکمت عملی کے بارے میں فیصلے کرتی ہے۔

انسانی حقوق کا عالمی منشور اور بعد میں ہونے والے انسانی حقوق کے معاہدوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، انفرادی ممالک کی رپورٹوں میں قانونی نتائج اخذ نہیں کیے جاتے، اور نہ ہی اِن ممالک کی ناکامی یا معیار پر پورا اترنے کے بارے میں تعین یا اعلان کیا جاتا ہے۔

کوزاک کا کہنا ہے، ” اس کا تعلق قارئین کو ایسی معلومات مہیا کرنا ہے جو اُنہیں فیصلہ کرنے کے قابل بنا دیں۔ یہ حقائق کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ  اپنے تئیں منہ بولتا ثبوت بن جائیں۔”

محکمہ خارجہ اپنی معلومات کیسے حاصل کرتا ہے؟

کوزاک کا کہنا ہے، “ہم ہرملک کے بارے میں ایک جیسے سوالات پوچھتے ہیں،” اور امریکہ کے ساتھ  کسی انفرادی ملک کے تعلقات سے قطع نظر، ہر ملک کو یکساں معیارات پر پرکھا جاتا ہے۔ ہر امریکی سفارت خانے میں حقوقِ انسانی کا ایک افسر ہوتا/تی ہے جو میزبان حکومت، ابلاغِ عامہ کی رپورٹوں، غیرسرکاری مقامی تنظیموں اور اُن دیگر لوگوں سے معلومات اکٹھی کرتا/تی ہے جو اُس ملک میں حقوقِ انسانی کے حالات کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔

 بظاہر یہ ایک ستم ظریفی معلوم ہوتی ہے کہ حقوقِ انسانی کا اچھا ریکارڈ رکھنے والے ممالک کی رپورٹیں اکثر طویل ہوتی ہیں۔ کوزاک نے بتایا کہ ایسا محض اِس لیے ہوتا  ہے کہ اِن ممالک کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب ہوتی ہیں، کیونکہ اُن کے معاشرے زیادتیوں کے الزامات پر رپورٹنگ  کرنے والے ایک آزاد پریس، کھلے قانونی نظام، اور مزدوروں کی آزادانہ طور پر سرگرم یونینوں اور حقوقِ انسانی کے پیروکاروں کی وجہ سے شفاف ہوتے ہیں۔

رپورٹ کی اشاعت کے حجم کو مناسب رکھنے کی خاطر، حقوقِ انسانی سے متعلق امریکی افسر زیادتی کے ہر ایک واقعے کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے، ہر قسم کی زیادتیوں کی ایک نمائندہ مثال کی نشاندہی کرتا/تی ہے

یہ رپورٹیں امریکہ کی مجموعی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں حقوقِ انسانی کی اہمیت کی عکاس ہیں۔ کوزاک کا کہنا ہے کہ     اگرچہ ہرصورت میں “محض حقائق” کی سوچ  کا نتیجہ کسی خاص ملک کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کی صورت  میں نہیں نکلتا، تاہم “اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہم کس کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہم اس خوش فہمی میں بھی مبتلا نہیں ہوتے کہ چونکہ ایک حکومت ہمارے ساتھ  کچھ  مسائل پر تعاون کر رہی ہے اس لیے وہ اپنے عوام کے انسانی حقوق کا لازماَ احترام کر رہی ہوگی۔”