امریکی رہوڈز سکالرز کی سال 2019 کی کلاس کی آکسفورڈ میں حصول تعلیم کے لیے تیاریاں

Oxford University (© Shutterstock)
آکسفورڈ یونیورسٹی کا فضائی منظر۔ (© Shutterstock)
Elena Gallina standing outdoors (John Kelly/Boise State University)
ایلینا گیلینا۔ (John Kelly/Boise State University)

2000ء کے اوائل میں کوسووو میں پرورش پانے والی امریکی امدادی کارکن کی بیٹی ایلینا گیلینا کو کسی جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں درپیش مسائل کی گہری سوجھ بوجھ حاصل ہوئی۔

آج گیلینا انگلینڈ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک امریکی رہوڈز سکالر کے طور پر تعلیم حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ وہاں وہ مہاجرین و جبری مہاجرت اور بزنس ایڈمنسٹریشن [کاروباری انتظام] میں ایم اے کریں گی۔ وہ جنگ سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرنے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں۔

آئیڈاہو کی بوائسی سٹیٹ یونیورسٹی سے بیچلر ڈگری کے لیے پڑھائی کے دوران البانیہ کے مہاجروں کے لیے مترجم کے طور پر کام کرنے والی گیلینا کا کہنا ہے، "مجھے امید ہے کہ اس سے مجھے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کی با اختیاری کے حصول میں  رسائی کی  فراہمی میں  مدد ملے گی۔"

گیلینا امریکی رہوڈز سکالرز کی سال 2019 کی کلاس میں منتخب ہونے والے 32 طلبہ میں شامل ہیں۔ ان میں قریباً نصف تعداد مہاجرین یا مہاجرین کی پہلی نسل سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کی ہے اور ان میں 21 خواتین ہیں۔ امریکی رہوڈز کلاس میں منتخب ہونے والے ایسے لوگوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس سکالرشپ کا آغاز 1902 میں برطانوی کاروباری اور کان کنی کے شعبے کی نامور شخصیت سیسل رہوڈز نے کیا تھا۔

لیا پیٹروز کا آکسفورڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس اور فلسفے میں دوسری بیچلر ڈگری حاصل کرنے کا ارادہ ہے۔ یونیورسٹی آف پٹس برگ میں انڈر گریجوایٹ کے طور پر پیٹروز نے سیکھا کہ افریقی ملک ملاوی جیسے ترقی پذیر ممالک میں مریضوں کو طبی نگہداشت کی فراہمی کے طریقہ کار میں بہتری لانے کے لیے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آج کل میسا چوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تحقیقی معاون کے طور پر کام کرنے والی پیٹروز طبی نگہداشت کے شعبے میں اختراع کے لیے سرکاری و نجی ترغیبات کے بارے تحقیق کر رہی ہیں۔

لیا پیٹروز ایک عمارت میں کھڑی ہیں۔ (© Christopher Chirdon/University of Pittsburgh)
لیا پیٹروز۔ (© Christopher Chirdon/University of Pittsburgh)

ایتھوپیا میں پلی بڑھی پیٹروز کہتی ہیں، "طبی محقق کے طور پر مجھے امید ہے کہ میں طبی معلومات کو خاص طور پر ملاوی اور ایتھوپیا جیسے کم وسائل والے ممالک میں طبی فیصلہ سازی کے لیے استعمال کر سکتی ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ  ان معلومات پر مریض کے اختیار و ملکیت کی حمایت میں بات بھی کی جا سکتی ہے۔" انہیں امید ہے کہ آکسفورڈ میں اس پروگرام کی بدولت انہیں ایسی تکنیکی صلاحیتیں سیکھنے میں مدد ملے گی جن کی بدولت وہ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ کو شمار کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے حوالے سے اخلاقی سوالات پر تحقیق کر سکیں  گی جس میں رازداری اور تحقیق تک رسائی شامل ہیں۔

ریان السمیری آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹر ڈگری کے حصول کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 2001 میں جب ان کا خاندان پہلی مرتبہ سعودی عرب سے امریکی ریاست اریزونا  کے علاقے میسا میں آیا تو انہیں کچھ عرصہ کے لیے بے گھری کا تجربہ بھی ہوا اور اسی کی بدولت ان میں کمزور لوگوں کی مدد کرنے کے جذبے نے جنم لیا۔ اس وقت وہ ییل یونیورسٹی میں غربت اور سماجی تنہائی کے موضوعات پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

رایان السمیری اپنی سائکل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ (© Michael Marsland/YaleNews)
رایان السمیری۔ (© Michael Marsland/YaleNews)

ان کا کہنا ہے، "رہوڈز سکالرشپ سے مجھے خود کو پوری طرح اس سوچ پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی کہ ہم غربت اور سماجی تنہائی کے مسئلے سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کا میری والدہ اور میسا میں میرے بہت سے ہمسایوں جیسے لوگوں کو عمر بھر سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

گیلینا، پیٹروز اور السمیری 60 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے 100 رہوڈز سکالروں میں شامل ہیں جو اکتوبر 2019 سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنی  تعلیم  کا آغاز کریں گے۔

یہ مضمون فری لانس لکھاری لنڈا وانگ نے تحریر کیا۔