سربیا میں کاروباری نظامت کاروں کی ایک نئی نسل کی تربیت

ایک عورت نے ہاتھ میں ایک چھوٹی بوتل پکڑی ہوئی ہے۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)
تتیانا آئرامووا کے پاس رس بھری جیم کی شکل میں ایک عمدہ چیز تھی مگر اُن کے پاس اسے تیار کرنے کی ٹکنالوجی نہیں تھی۔ یو ایس ایڈ نے اِن کو ڈیسنگ سے ملایا جس کے نے اُن کی کمپنی کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)

1992ء میں صرف دو ملازموں کے ساتھ   سربیا کے میودراگ تومچ نے اپنے آبائی شہر کنیاز وچ میں فوڈ پراسیسنگ [اشیائے خورد و نوش کی تیاری کا] اپنا کاروبار شروع کیا۔ اُن کی ڈیسنگ نامی کمپنی کی نو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلی فیکٹری میں آج 45 ملازمین کام کرتے ہیں اور اس میں تیار کی جانے والی اشیا 27 ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ اِن برآمدات کی سالانہ مالیت چار ملین یورو یعنی لگ بھگ 4.3  ملین ڈالر ہے۔

2017ء میں عالمی بنک نے اس کمپنی کو سربیا کی دوسری بہترین کاروباری کمپنی قرار دیا۔ یہ پھلوں اور بالائی سے میٹھی اشیا بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہے اور ہر سال 20 جدید اختراعی چیزیں متعارف کراتی ہے۔

 کیمرے کے سامنے مسکراتے ہوئے تین افراد۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)
درمیان میں کھڑے میودراگ تومچ، بلغراد میں ڈیسنگ ٹیسٹ سنٹر میں اپنی ٹیم کے ہمراہ۔ یہ سنٹر کھانے پینے کی صنعت میں اختراعات کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)

تومچ کا کہنا ہے کہ ڈیسنگ کی ترقی دو عناصر کی مرہون منت ہے: سربیا میں میکڈونلڈ کے ڈیسنگ کو آئس کریم پر لگی بالائی کے بڑے فراہم کنندہ کے طور پر منتخب کیا جانا اور امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے ساتھ کام کرنا۔

تومچ نے کہا، "کیونکہ ایک چھوٹی کمپنی کو سرمائے کے سلسلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے یو ایس ایڈ نے ہمارا لیبل ڈیزائن کرنے، نئی پیکنگ تیار کرنے، محفوظ کھانے اور معیاری پیمانوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے [ساتھ ساتھ] ایک ایسی کمپنی کو چلانے کے لیے سافٹ ویئر خریدنے میں ہماری مدد کی جو پیسوں کی بچت میں مددگار ثابت ہوا۔ ہم ابھی تک میٹھے کے لیے وہی بوتل استعمال کر رہے ہیں جس کی تیاری میں یو ایس ایڈ نے ہماری مدد کی تھی۔”

2016ء میں تومچ نے ڈیسنگ ٹیسٹ سنٹر [ڈیسنگ نامی ذائقے کا مرکز] قائم کیا تاکہ خوراک کی صنعت میں اختراعات متعارف کی جا سکیں۔ ہر سال یہ مرکز بلغراد کے زراعت اور ٹکنالوجی کے تعلیمی اداروں کے 20 بہترین طلبا کو تربیت فراہم کرتا ہے۔ یو ایس ایڈ نے اپنے ‘فوڈ ڈیزائن ہب’ [کھانوں کی تیاری کے مرکز] کے ذریعے ڈیسنگ ٹیسٹ سنٹر کے ساتھ شراکت کاری کی  تاکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور اختراعات لانے کے لیے خوراک کے نظامت کاروں کی ایک نئی نسل کی مدد کی جا سکے۔

دو عورتوں کی قریب سے لی گئی تصاویر۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)
یو ایس ایڈ کی مدد سے، جانا میترو وچ، بائیں ایسے مہنگے ریستورانوں کی تعداد دوگنا کرنے میں کامیاب ہوئیں جنہیں وہ چھوٹی چھوٹی سبزیاں فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح اینا ڈولو وچ نے اپنے نظریے کو ایک ایسی عمدہ آئیٹم کے طور پر متعارف کیا جسے سربیا کے پرچون کے بڑے سٹوروں کا ایک سلسلہ اپنے ہاں فروخت کرتا ہے۔ (Mirjana Vukša Zavišić/USAID)

تومچ کو ایک عمدہ خیال کو کسی منافع بخش کاروبار میں ڈھالنے کا ڈھنگ آتا ہے اور وہ نوجوان ذہین کاروباری نظامت کاروں کی مدد کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے، "بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ اُن کے ذہن میں ایک خیال ہے جس سے اُن کے دوست اور خاندان والے متفق ہیں لہذا یہ کافی ہے۔ شاز و نادر ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے پاس کوئی منصوبہ ہو۔”

تومچ کے ڈیسنگ ٹیسٹ سنٹر کے لیڈروں کی راہنمائی کے ذریعے نوجوان کاروباری نظامت کاروں کا نئے کاروباری مالکان کا ایک نیا گروہ اچھی خاصی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ سربیا کے مشہور ترین جنرل سٹوروں کے شیلفوں پر پڑی اُن کی مصنوعات اس بات کی مظہر ہیں کو وہ سربیا کی اشیائے خورد و نوش کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اختراع سازوں کی اگلی نسل بننے کے لیے صحیح راہ پر گامزن ہیں۔

تفصیلی شکل میں یہ مضمون  یو ایس ایڈ کے ہاں دستیاب ہے۔ یو ایس ایڈ سربیا مشن کی مرجانا وکشا زاوی سچ اس مضمون کی مصنفہ ہیں۔