سمارٹ فونوں کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے طریقے

سائبر مجرموں سے اپنے موبائل آلات کو محفوظ رکھنا جتنا اہم آج ہے اتنا پہلے کبھی بھی نہیں تھا۔

کیونکہ آج کی دنیا میں سمارٹ فونوں کے ذریعے دو ارب  سے زائد افراد انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں اس لیے ہیکروں اور انٹرنیٹ چوروں کے لیے دھوکہ بازیوں میں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ کشش پیدا ہو گئی ہے۔

اِن میں سے بہت سی دھوکہ بازیوں میں لوگوں کے کووڈ-19 کی عالمی وبا کے بارے میں خوف سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا تا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مارچ میں کہا، "دھوکہ باز آپ کا پیسہ چرانے، آپ کی نجی معلومات چرانے، یا دونوں چرانے کے لیے کووڈ-19 کی عالمی وبا کو ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں ایسا ہرگز نہ کرنے دیں۔”

اِن کے حربوں میں کووڈ-19 کی جعلی دواؤں سے لے کر ایسی جعلی ای میلیں تک شامل ہوتی ہیں جو بظآہر صحت کی تنظیموں  کی طرف سے بھیجی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ اِن ای میلوں کے ذریعے آپ کے سمارٹ فونوں میں خطرناک قسم کے سافٹ ویئر ڈال دیئے جاتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی کے ایک عالمی لیڈر کی حیثیت سے، اُن نیٹ ورکوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو ہم سب استعمال کرتے ہیں، امریکہ دوسرے ممالک اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ سمارٹ فونوں کو استعمال کرنے والے بھی اپنے آپ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

 سمارٹ فونوں کو محفوظ رکھنے کے پانچ طریقوں سے متعلق تصویری خاکہ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

2004ء سے ہر سال اکتوبر کا مہینہ سائبر سکیورٹی کے بارے میں آگاہی کے قومی مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مہینے کے دوران آن لائن سکیورٹی پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اس سال یکم اکتوبر کو اس مہینے کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا، "ہمیں سائبر کی ایک ایسی دنیا کے لیے بہرصورت اکٹھے مل کر کام کرنا چاہیے جو خطرات سے زیادہ سے زیادہ پاک، زیادہ محفوظ، اور زیادہ سے زیادہ پائیدار ہو۔”

"سائبر سکیورٹی کے قومی اتحاد” کے نام سے واشنگٹن میں قائم ایک غیر منفعتی تنظیم سمارٹ فون کے استعمال کرنے والوں کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی تجویز کرتی ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو محفوظ بنا سکیں:

  • یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کے تمام حفاظتی اقدامات تازہ ترین ہیں اپنی سکیورٹی کے اور اہم ترین سافٹ ویئرز کو حالیہ ترین بنائیں۔
  • پاس ورڈ یا فنگر پرنٹ سکین سے اپنے سمارٹ فون کو لاک کریں۔
  • ذاتی معلومات کو کسی ہوٹل یا کیفے کے مفت وائی – فائی جیسے غیرمحفوظ نیٹ ورکوں کے ذریعے نہ بھیجیں۔
  • بلیوٹوتھ آٹو کنیکٹ کو غیر فعال کریں اور صرف اپنی مرضی سے نیٹ ورکوں سے کنیکٹ کریں۔
  • ایپس صرف سرکاری ایپ سٹوروں جیسے قابل اعتماد ذرائع سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
  • اپنے سمارٹ فون کو ہمیشہ اپنی نگرانی میں رکھیں۔

اسی اثنا میں امریکی حکومت سائبر کرائم اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کی سائبر کی قومی تزویراتی پالیسی میں بیان کیا گیا ہے کہ ” روس، چین، ایران، اور شمالی کوریا، سارے سائبر سپیس کو امریکہ، اس کے اتحادیوں، اور اس کے شراکت داروں کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ایسے ذریعے کے طور پر، اور اکثر ایسے اندھا دھند طریقوں سے، استعمال کرتے ہیں جن کا وہ دوسرے شعبوں میں کبھی سوچتے بھی نہیں۔”

ستمبر میں امریکہ نے ایرانی حکومت سے جڑی ہیکنگ کی ایک ایسی مہم کو ناکام بنایا جس کے ذریعے 30 سے زائد ممالک میں لوگوں اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مزید حملوں کو روکنے کی خاطر، ایف بی آئی نے حملوں میں استعمال ہونے والے نقصان دہ سافٹ ویئروں کا پتہ چلانے کے لیے مفصل ہدایات جاری کیں۔

امریکی حکومت کے وکلا نے آسٹریلیا، بلجیئم اور جاپان سمیت 11 ممالک میں جدید ٹکنالوجی کی صنعتوں کو نشانہ بنانے پر ریاستی سلامتی کی چینی وزارت میں کام کرنے والے دو ہیکروں پر فرد جرم عائد کی۔ یہ حملے دو دہائیوں تک جاری رہے اور اِن حملوں کے دوران کووڈ-19 کی ویکسینیں اور طریقہائے علاج تیار کرنے والی کمپنیوں سمیت کئی ایک صنعتی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ سائبر سپیس کو عالمی سطح پر محفوظ بنانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ شراکت کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ اس شراکت داری میں نقصان دہ سافٹ ویئروں کی نشاندہی کرنا اور انہیں ختم کرنا، سائبر واقعات کے ردعمل کو بڑہانا اور پالیسی سازی کی صلاحتیوں میں اضافہ کرنا، اور ذمہ دار حکومتی رویے کے ڈھانچے کے بارے میں بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنا شامل ہیں۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 23 ستمبر کو کہا، "امریکہ بدنیت کرداروں کو روکنے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ ٹکنالوجی کو آزادی کو فروغ دینا چاہیے۔”