سمتھسونین کی لاکھوں تصاویر عوام کو مفت دستیاب

سیاہ پس منظر میں ایک طیارے کی تصویر۔ (National Air and Space Museum)
امریکی ہوا باز امیلیا ائیرہارٹ کے لاک ہیڈ ویگا 5 بی اس طیارےکی تصویر کا شمار اُن 28 لاکھ تصاویر میں ہوتا ہے جو اب سمتھسونین کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ (National Air and Space Museum)

دنیا کے سب سے بڑے میوزیم، تعلیمی اور تحقیقی کمپلیکس یعنی سمتھسونیون انسٹیٹیوشن نے اپنی 174 سالہ تاریخ میں پہلی بار اپنے مجموعوں میں سے 28 لاکھ ہائی ریزولوشن تصاویر کو ایک ایسے اوپن ایکسس آن لائن پلیٹ فارم پر ڈال دیا ہے جس تک ہر ایک کو کھلی رسائی حاصل ہے۔ اس کو ہر کوئی مفت استعمال اور ڈاؤن لوڈ کر سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگ ان دو اور تین جہتی تصاویر کو اپنے تخلیقی مقاصد کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔

مقررہ مدت کے بعد آرٹ اور ادب کا مفت استعمال امریکہ کے کاپی رائٹ قانون یعنی جملہ حقوق کے قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ قانون تخلیق کاروں کو ان کے کام کی ادائیگی اور ثقافتی نوادرات کو محفوظ بنانے کے درمیان ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ اس توازن کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں انہیں استعمال کر سکیں اور اِن سے لطف اٹھا سکیں۔

بیٹھی ہوئی ہیریٹ ٹب مین کا پورٹریٹ (National Museum of African American History and Culture) تخت پر بیٹھی عورت کا مجسمہ (Smithsonian American Art Museum)؛ کھڑے اور ہاتھ آگے کو بڑہائے ہوئے جارج واشنگٹن کا مصور کا بنایا ہوا پورٹریٹ (National Portrait Gallery)۔
آن لائن دستیاب لاکھوں تصاویر میں سے چند ایک بائیں سے دائیں: ہیریٹ ٹب مین (National Museum of African American History and Culture)؛ "کلوپیٹرا کی موت” از ایڈمونیا لیوس (Smithsonian American Art Museum)؛ جارج واشنگٹن کا لینس ڈاون پورٹریٹ (National Portrait Gallery)۔