1976 میں اپنے آغاز کے بعد سے اب تک ‘سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن’ کا "نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم” [قومی فضائی و خلائی عجائب گھر] دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو ہوابازی، خلائی سفر اور کائنات کے بارے میں تحریک و آگہی فراہم کرتا چلا آ رہا  ہے۔ اس کی نئی ڈائریکٹر عجائب گھر تک رسائی، بالخصوص آن لائن رسائی میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔

اپریل میں فضائی و خلائی عجائب گھر کی ڈائریکٹر مقرر ہونے والی ایلین سٹوفین کہتی ہیں، ”کیونکہ ہر کوئی واشنگٹن نہیں آ سکتا اس لیے ہماری ڈیجیٹل موجودگی ناقابل یقین حد تک اہم بن چکی ہے۔”

سٹوفین نے ایک ریڈیو انٹرویو میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا،، ”ہم نے حال ہی میں جو دلچسپ اقدامات اٹھائے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ہم نے خلائی شٹل ڈسکوری کے سارے کے سارے اندرونی حصے کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر دیا ہے۔” ناسا کی خلائی شٹل ڈسکوری ‘ہبل دوربین’ کو مدار میں چھوڑے جانے کے حوالے سے مشہور ہے اور اسے ورجینیا کے علاقے شینٹلی میں واقع عجائب گھر کے ‘اڈوار ہازی مرکز’ میں رکھا گیا ہے۔

اس عجائب گھر کے زیراہتمام ایک ریڈیو پروگرام بھی ہوتا ہے جس میں خلائی سائنس کے مختلف شعبہ جات کے ماہرین معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا ایک تعلیمی پروگرام بھی چل رہا ہے جس کا مقصد نوجوان طلبا میں اِن مضامین میں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔ ناسا کی سابق اعلیٰ سائنسدان اور انسان کو مریخ پر پہنچانے کے طویل مدتی پروگرام میں اہم کردار ادا کرنے والی سٹوفین کا کہنا ہے، ”ہم اپنی چار دیواری سے باہرنکل کر لوگوں کو ساتھ شامل کرنے کے ہر ایک طریقے کو بروئےکار لا رہے ہیں۔”

موزوں امیدوار

Ellen Stofan speaking and gesturing (© NG Images/Alamy)
ناسا کے واشنگٹن ہیڈ کوارٹر میں ایلین سٹوفین۔ (© NG Images/Alamy)

ناسا کے ایک راکٹ سائنس دان کی بیٹی سٹوفین نے اوائل عمر ہی میں خلائی شعبے میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ جب وہ کالج میں ثانوی درجے میں زیرتعلیم تھیں تو انہیں پہلی مرتبہ اس وقت فضائی و خلائی عجائب گھر کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جب انہوں نے عجائب گھر کی سیاروی سائنس ٹیم کے ایک زیرتربیت رکن کے طور پر کام کیا۔

اس عہدے کے لیے ان کے نام کا اعلان کرتے وقت سمتھ سونین کے سیکرٹری ڈیوڈ سکورٹن نے کہا، ”ایلین کے سائنسی پس منظر، قائدانہ صلاحیتوں، ابلاغی فہم و فراست اور تزویراتی سوچ نے انہیں بہترین انداز سے قومی فضائی و خلائی عجائب گھر کی قیادت کرنے کی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔”

سکورٹن نے کہا،”سائنس کے حوالے سے ان کا جوش و جذبہ اور تعلیم سے محبت یہ امر یقینی بنائے گی کہ یہ عجائب گھر پوری دنیا کے لیے معلومات کا خزانہ ثابت ہو اور اپنے وسیع پروگراموں، نمائشوں اور وظائف کے ذریعے اس شعبے میں دنیا کی قیادت کرے۔”

عالمگیر رسائی

واشنگٹن کے نیشنل مال پر واقع سمتھ سونین  قومی فضائی و خلائی عجائب گھر کو عموماً ”پسندیدہ ترین امریکی عجائب گھر” بھی کہا جاتا ہے۔ 2017 میں اس عجائب گھر میں آنے والے سیاحوں کی تعداد سمتھ سونین  ادارے کے تحت چلنے والے دیگر تمام عجائب گھروں میں سب سے زیادہ  یعنی ستر لاکھ  رہی۔

اس عجائب گھر کا ایک اہم ترین حصہ اس کا  "مرکز برائے زمین و سیاروی  مطالعہ” ہے جو کہ تحقیق و تجزیے کے لیے وقف ہے۔

اس مرکز میں سائنس دان، خلا اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمگیر سوچ سمجھ میں اضافے کے لیے تحقیق کرتے ہیں جبکہ نظام شمسی کے حوالے سے تازہ ترین معلومات پر بھی کام ہوتا ہے۔ آج کل اس مرکز کے ارکان مریخ اور چاند پر جانے والے زیر تکمیل مشنوں پر کام میں بھی شریک ہیں۔

سمتھ سونین  کے بارے میں مزید جانیے اور دیکھیے کہ کیسے ایک ایسے انگریز نے اس ادارے کی بنیاد رکھی جو فرانس میں پیدا ہوا، اٹلی میں وفات پائی اور امریکہ کبھی بھی نہیں آیا۔ آج اس عجائب گھر کا انتظام امریکی حکومت چلاتی ہے اور وہی اسے بیشتر مالی وسائل مہیا کرتی ہے۔

یہ مضمون فری لانس لکھاری مائیو آلسپ نے تحریر کیا۔