”سوئنگ سٹیٹس” امریکی صدارتی انتخاب کو متجسس بناتی ہیں

ماسک پہنے ہوئے عورتیں
ماسک پہنے ہوئے دو عورتیں 10 مارچ کو سوئنگ سٹیٹس میں شمار ہونے والی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں واقع باؤ پرائمری سکول میں ووٹ دینے جا رہی ہیں۔ ماسک کووڈ-19 سے متعلق اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر کی علامت ہیں۔ (© Paul Sancya/AP Images)

گوکہ ہر بڑی امریکی سیاسی جماعت نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے بہت سی ریاستوں پر بھروسہ کرتی ہے، تاہم چند ریاستیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ان ریاستوں میں کامیابی کس کا مقدر ٹھہرے گی۔

سوئنگ سٹیٹس” یعنی (پانسہ پلٹنے والی ریاستوں) کی آبادیاں سیاسی وفاداریوں کے لحاظ سے تقریباً یکساں طور پر منقسم ہیں۔ حالیہ برسوں میں اِن ریاستوں میں کبھی ڈیموکریٹک پارٹی اور کبھی ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ چونکہ اِنہی ریاستوں میں انتخابی جنگ لڑی جاتی ہے اس لیے یہ ریاستیں انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے دوروں، تشہیر اور انتخابی کارکنوں کے حوالے سے خصوصی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔

اس بات پر ماہرین کبھی متفق نہیں ہوئے کہ کون کون سی ریاستیں ‘سوئنگ سٹیٹس’ کے زمرے میں آتی ہیں۔ کُک پولٹیکل رپورٹ کے مطابق ریاست ایریزونا، فلوریڈا، مشی گن، پنسلوینیا اور وسکونسن میں کوئی بھی سیاسی جماعت جیت سکتی ہے۔ دیگر ماہرین ان ریاستوں میں نیو ہمپشائر، نارتھ کیرو لائنا اور چند اور ریاستوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔

سوئنگ سٹیٹس’ اور الیکٹورل کالج

نومبر میں ہونے والے انتخابات میں امریکی شہری اپنے صدر کے لیے براہ راست ووٹ نہیں ڈالتے۔ اس کی بجائے وہ الیکٹورل کالج کے ارکان کا چناؤ کرتے ہیں جو دسمبر میں اکٹھے ہو کر صدر کا انتخاب کرتے ہیں جس کی بنیاد اس پر ہوتی ہے کہ ایک ماہ قبل یعنی نومبر میں ان ارکان کی ریاستوں میں رائے دہندگان کی اکثریت نے کون سی جماعت کے نمائندوں کو منتخب کیا تھا۔ ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد اس کی آبادی کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر فلوریڈا میں آبادی زیادہ ہونے کے باعث الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 29 ہے۔ (کیلی فورنیا اور ٹیکساس کے بعد سب سے زیادہ الیکٹورل ووٹوں کے حساب سے، فلوریڈا اور نیویارک برابر ہیں) فلوریڈا جیسی ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنے والے صدارتی امیدوار کے انتخاب جیتنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ صدارتی امیدوار کو کامیابی کے لیے مجموعی طور پر 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

نیچے دائیں جانب نقشے میں امریکہ کی 50 ریاستیں دکھائی گئی ہیں۔ بائیں طرف نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ ہر ریاست میں الیکٹورل ووٹوں کی تعداد کتنی ہے۔

دو نقشوں میں سے ایک نقشے میں ہر ریاست کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد درج ہے۔ (Shutterstock/State Dept./Julia Maruszewski)

 

فلوریڈا کا خصوصی مقام

کسی چائے کی پارٹی میں موجود سینٹ برنارڈ نسل کے کتے کے پلے کی طرح، ناقابل پیشگو اور بڑی ریاست، فلوریڈا کو صدارتی انتخاب میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابات کے لحاظ سے یہ ریاست دونوں بڑی سیاسی جماعتیں کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر 2008 میں یہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما کامیاب ہوئے جبکہ 2000 میں یہاں سے ری پبلکن امیدوار جارج ڈبلیو بش نے کامیابی حاصل کی۔ فورڈ ہیم یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر کرسٹینا گریئر کہتی ہیں ”آپ نہیں چاہیں گے کہ 29 الیکٹورل ووٹوں والی ریاست کو نظرانداز کیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1964 کے بعد ہر صدارتی انتخاب میں ‘سن شائن سٹیٹ‘ کہلانے والی ریاست فلوریڈا سے جیتنے والا امیدوار ہی صدر منتخب ہوتا رہا ہے۔ یہ چیز اس ریاست کو سیاسی لحاظ سے ایک معمہ بناتی ہے۔

گریئر کہتی ہیں ”اس ریاست میں کامیاب ہونے والے اور ہارنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ریاست مسس سپی کے بارے میں آپ اسی وقت کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ووٹروں کی اکثریت کا جھکاؤ ری پبلکن پارٹی کی جانب ہے۔ تاہم فلوریڈا کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ آئندہ انتخاب میں یہاں سے کون جیتے گا۔

گزشتہ دو صدارتی انتخابات اور گورنر کے چناؤ کے لیے ہونے والے انتخابات میں فلوریڈا میں کامیاب امیدوار ایک فیصد ووٹوں کے فرق سے جیتے تھے۔ 2000 میں اس ریاست میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں یہاں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ ریاستی حکام کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور یہ تعین کرنے میں کئی ہفتے لگے کہ منتخب ہونے والے صدر، ایلگور نہیں بلکہ جارج ڈبلیو بش ہیں۔ اس نتیجے کی حتمی تصدیق امریکی سپریم کورٹ نے کی۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں سیاسیات کے پروفیسر اور فلوریڈا کے انتخابی رویوں کی ماہر، پروفیسر سوسن میکمینوس کا کہنا ہے کہ فلوریڈا میں قریباً 37 فیصد ووٹروں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی جبکہ 35 فیصد کا ری پبلکن سے ہے جبکہ 27 فیصد ووٹر کسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔

کسی جماعت سے تعلق نہ رکھنے والے ووٹروں کا نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں اہم کردار ہو گا۔ میکمینوس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سیاسی جماعت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے نظریے اور امیدواروں کے کھرے پن کو دیکھتے ہیں۔ یہ لوگ دو جماعتی نظام کے سخت خلاف ہیں اور سیاسی سخت گیری سے نفرت کرتے ہیں۔”

اگرچہ یہ ریاست بزرگ افراد کی بڑی تعداد کے باعث جانی جاتی ہے تاہم ووٹروں کو دیکھا جائے تو ان کی اکثریت معمر افراد پر مشتمل دکھائی نہیں دیتی۔ میکمینوس اس بات کو فضول قرار دیتی ہیں کہ یہاں تمام لوگ بڑی عمر والے ہیں۔” ان کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں درحقیقت 1965 اور اس کے بعد جنم لینے والی تین نسلوں کی نمائندگی 54 فیصد ہے۔ اس ریاست میں نوجوان ووٹروں کی اکثریت آزاد سوچ رکھتی ہے۔

فلوریڈا میں عام انتخابات میں خواتین کا اہم کردار ہو گا کیونکہ ووٹروں میں عورتوں کی اکثریت ہے۔ خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان میں خواتین بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ فلوریڈا کے رجسٹرڈ ڈیموکریٹ ووٹروں میں خواتین کا تناسب 58 فیصد جبکہ مردوں کا 39 فیصد ہے۔ گریئر کے مطابق دیگر حوالوں سے رائے دہندگان متنوع ہیں جس کی ایک مثال لاطینی نسل کے امریکی ہیں۔ اِن میں کیوبائِی نژاد امریکیوں کا جھکاؤ ری پبلکن پارٹی اور پورٹو ریکن نژاد امریکیوں کا جھکاؤ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب ہے۔ اس ریاست میں ایسے ووٹر بھی ہیں جنہیں ”سنوبرڈز” یعنی برفانی پرندے کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر سال ملک کے وسطی مغرب اور شمال مشرق کے (برفانی) علاقوں سے جنوب میں واقع اس ریاست یعنی فلوریڈا میں آتے ہیں۔ گرئیر کہتی ہیں، ” فلوریڈا دیہات اور بڑے شہروں پر مشتمل ہے جہاں جیکسن وِل بالکل جنوب جیسا ہے جبکہ میامی زیادہ تر یورپ کی طرح ہے۔”

فلوریڈآ میں پائے جانے والے اتنے سارے تنوع کا مطلب یہ کہ اس ریاست میں امیدوار یہ جاننے کے لیے اپنے گُر آزما سکتے ہیں کہ قومی سطح پر ووٹروں تک کیسے پہنچا جائے۔ میکمیونس کہتی ہیں، "ہماری مثال تجربہ گاہوں میں استعمال ہونے والے اُن چوہوں جیسی ہے جن پر نئی دواؤں کے تجربات کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم پر ملکی مسائل کے حل اور ووٹروں کے ساتھ روابط کے طریقے آزمائے جاتے ہیں.”

یہ مضمون ایک مختلف شکل میں 12 مارچ 2020 کو پہلے بھی شائع کیا جا چکا ہے۔