سپریم کورٹ کی اگلی جج دیگر خواتین ججوں کے نقش قدم پر چلیں گیں

صدر بائیڈن نے امریکہ کے سپریم کورٹ کی جج کے لیے نامزد کردہ اپنی امیدوار، کیٹانجی براؤن جیکسن کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسی عدالت ہو جو ہماری قوم کی بھرپور صلاحیتوں اور عظمت کی عکاسی کرتی ہو۔”

امریکی سینیٹ نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے جیکسن کی نامزدگی کی اب توثیق کر دی ہے۔ اس سے پہلے وہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کی اپیلوں کی امریکی عدالت میں جج کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ وہ سپریم کورٹ کی  پہلی سیاہ فام خاتون جج ہیں اور نو ججوں پر مشتمل عدالت میں آج تک شامل ہونے والی وہ چھٹی خاتون جج ہیں۔ اُن کی شمولیت سے عدالت کی خواتین ججوں کی شاندار میراث میں اضافہ ہوگا۔

 کیٹان جی براؤن جیکسن مسکرا رہی ہیں (© Alex Brandon/AP Images)
کیٹان جی براؤن جیکسن اس ماہ کے اوائل میں امریکی کانگریس کے اراکین سے ملیں تھیں۔ (© Alex Brandon/AP Images)

1981 میں آنجہانی سینڈرا  ڈے اوکانر نے اس وقت تاریخ رقم کی جب وہ امریکہ کی دو سو سال قبل وجود میں آنے والی اعلیٰ ترین عدالت میں تعینات ہونے والی پہلی خاتون جج بنیں۔

بیسویں صدی کے صدور نے عدالت میں عورت کو جج مقرر کرنے پر غور کیا۔ صدر رچرڈ نکسن تو ایسا کرنے ہی والے تھے مگر اُن کا منصوبہ اس وقت ناکام بنا دیا گیا جب اس وقت کے چیف جسٹس نے دھمکی دی کہ اگر کسی خاتون کو نامزد کیا گیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ قانونی تنظیموں نے بھی کسی خاتون کو نامزد کرنے پر اعتراض کیا۔

صدر رونالڈ ریگن کی جانب سے  او کانر کو سپریم کورٹ کے لیے  نامزد کیے جانے کے بعد، انہوں [اوکانر] نے یہ مشہور جملہ  کہا،  “ایک عقلمند بوڑھی عورت اور ایک عقلمند بوڑھا آدمی ایک ہی نتیجے پر پہنچیں گے۔” سپریم کورٹ میں اپنے 25 سالوں کے دوران انہوں نے اپنا اچھا خاصا اثر و رسوخ پیدا کیا۔

انہوں نے ایک ایسے فیصلے میں اپنا فیصلہ کن ووٹ ڈالا جو ماحولیاتی تحفظ کے وفاقی ادارے کو فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ایسی صورت میں اقدامات کرنے کی اجازت دیتا ہے جب کوئی ریاست عملی اقدامات اٹھانے میں ناکام رہتی ہے۔ ایک اور کیس  میں وہ عدالت کو اُس فیصلے کی طرف لے کر گئیں جس کے تحت لوگوں کو بعض ایسے حالات میں دوسرے ڈاکٹر کی رائے لینے کے حق کی اجازت ملی جن میں ڈاکٹروں نے ان کا علاج کرنے سے انکار کردیا ہو۔

امریکی سپریم کورٹ کے شکاگو-کینٹ کے انسٹی ٹیوٹ کی شریک ڈائریکٹرکیرولائن شپیرو کے مطابق تحریری رائے میں او کانر نے ایسےحتمی بیانات سے گریز کیا جن کے “ممکنہ طور پر وسیع اور غیر متوقع مضمرات” ہوسکتے ہیں۔

 ایک قطار میں بیٹھیں تین عورتیں (© Pablo Martinez Monsivais/AP Images)
بائیں سے دائیں : ایلینا کیگن، سونیا سوٹومائیر اور آنجہانی روتھ بیڈر گینزبرگ (© Pablo Martinez Monsivais/AP Images)

یہ 1993 کی بات ہے جب آنجہانی روتھ بیڈر گنزبرگ اعلیٰ ترین عدالت میں نامزد ہونے والی دوسری خاتون جج بنیں۔ معذور افراد، ایل جی بی ٹی کیو آئی+ لوگوں اور خواتین کے حقوق سے متعلق مقدمات کے تاریخی فیصلوں کے ذریعے گنز برگ کی میراث زندہ رہے گی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کا 1996 کا وہ تاریخی فیصلہ لکھا جس کے تحت سرکاری یونیورسٹی، ورجینیا ملٹری انسٹی ٹیوٹ کو صرف مردوں کے داخلے کی اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا پڑآ۔

سونیا سوٹومائیر کی پرورش بنیادی طور پر اکیلی ماں نے سرکار کی طرف سے فراہم کردہ گھر میں کی۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکی قانونی ڈرامے پیری میسن سے متاثر ہوکر انہوں نے قانون کے پیشے کو اپنایا۔ سوٹو مائیر نے آئیوی لیگ یونیورسٹیوں سے گریجوایشن کی اور دوسرے سرکٹ کی اپیل کی بااثر امریکی عدالت میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد 2009 میں صدر باراک اوباما نے انہیں سپریم کورٹ کا جج نامزد کیا۔ وہ سپریم کورٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی ہسپانوی شخصیت ہیں۔

سوٹومائیرعدالت میں ایک طاقت بن کر ابھری ہیں اور وہ اپنی تنقیدی اختلاف رائے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ شپیرو کا کہنا ہے، “ان کی طرح کے اختلاف اہم ہیں۔ وہ مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ وہ ان لوگوں سے اور ان لوگوں کی طرف سے بھی بولتے ہیں جن کی آوازیں اکثر دب جاتی ہیں یا خاموش کراد دی جاتی ہیں۔”

 مسکراتی ہوئی ایک خاتون (© Bonnie Cash/The Hill/AP Images)
ایمی کونی بیرٹ اکتوبر 2020 میں واشنگٹن میں سینیٹ کی عدلیہ کمیٹی کی سماعت میں حصہ لیتے ہوئے۔ (© Bonnie Cash/The Hill/AP Images)

سپریم کورٹ میں خدمات انجام دینے والی دیگر دو خواتین ججوں میں 2010 میں اوباما کی طرف سے نامزد کی جانے والیں، ایلینا کیگن اور 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نامزد کی جانے والیں، ایمی کونی بیرٹ ہیں۔ دونوں خواتین نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز میں سپریم کورٹ میں ‘ لا کلرک’ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کیگن نے پہلے سیاہ فام جج، آنجہانی تھرگڈ مارشل جبکہ بیریٹ نے آنجہانی اینٹونن سکالیا کی جگہ لی۔

کلرک کے طور پر کام کرنے سے پہلے، کیگن ہارورڈ لا ریویو کی طالب علم ایڈیٹر رہیں۔ بعد میں انہوں نے ہارورڈ کے لا سکول کی ڈین کے طور پر کام کیا۔ 2009 میں اوباما نے انہیں امریکہ کی سالیسٹر جنرل نامزد کیا جس کے نتیجے میں وہ سپریم کورٹ کے سامنے حکومتی مقدمات پر دلائل دینے والی پہلی خاتون بن گئیں۔ شپیرو کہتی ہیں، “وہ عدالت میں سب سے زیادہ تیکھے سوال پوچھنے والی [جج] ہیں۔ وہ مقدمے کے بنیادی مسئلے پر ہمیشہ براہ راست بات کرتی ہیں۔”

50 سال کی عمر میں بیریٹ سپریم کورٹ کی سب سے کم عمر جج ہیں۔ وہ ایک ممتاز پروفیسر اور جج کا پس منظر رکھتی ہیں۔ اپنی مادرعلمی یعنی نوٹرے ڈیم لا سکول میں اُن کی تدریس اور علمیت کا محور وفاقی عدالتیں اور آئینی قانون تھا۔

اوکانر کے سپریم کورٹ میں نامزد ہونے کے بعد سے لے کر آج تک، امریکہ کے قانون کے سکولوں میں خواتین کی تعداد میں 21% تک کا اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت آج مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ جیکسن موجودہ عدالت میں چوتھی خاتون جج ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت صنفی مساوات کے قریب آ گئی ہے اور قانون کے طالب علموں کے لیے ایک اور متاثر کن مثالی کردار قائم ہو گیا ہے۔

یہ مضمون فری لانس مصنفہ، ہولی روزن کرانٹز نے لکھا جس میں سٹاف رائٹر، لینور ایڈکنز نے اُن کا ہاتھ بٹایا۔