سیاست میں ایشیائی امریکی

ایشین امریکی، امریکہ ميں آبادی کا تقریبا 7 فیصد ہیں اور وہ سیاسی اثر و رسوخ اور ذمہ داری حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایشیائی امریکیوں کو تاریخی طور پر سرکاری عہدوں ميں کم نمائندگی حاصل رہی ہے،جس کانگریس نے 3 جنوری کو حلف لیا تھا اس میں ریکارڈ 21 ایشیائی امریکی ممبر شامل ہیں۔

کملا ہیرس، جن کی مرحومہ والدہ ہندوستان سے تھیں، ان کو منتخب کیا گیا اور [انھوں نے] نائب صدر کے عہدے کا حلف لیا، جو امریکی تاریخ میں ایشین نسل کی اعلی ترین منتخب عہدہ دار بن گئيں۔

متعدد سیاسی امیدوار اور کارکن کانگریس، صدر کی کابینہ اور ریاست اور مقامی حکومتوں میں کمیونٹی کی نمائندگی بڑھانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

ینگ کم اور مشیل اسٹیل تصویر کے لئے تصویر بناتے ہوئے (© Paul Bersebach/MediaNews Group/Orange County Register/Getty Images)
کیلیفورنیا کے ریپبلکن ینگ کم، بائیں اور مشیل اسٹیل، امریکی ایوان نمائندگان کے لئے منتخب ہونے والی پہلی تین کورین امریکی خواتین میں سے دو ہیں۔ دوسری واشنگٹن ریاست کی ڈیموکریٹ مارلن سٹرک لینڈ ہے۔ (© Paul Bersebach/MediaNews Group/Orange County Register/Getty Images)

ایشین پیسیفک امریکن انسٹیٹیوٹ برائے کانگریسینل اسٹڈیز (اے پی اے آئی سی ایس) کی صدر مدالین میلکے کا کہنا ہے کہ ایشین امریکیوں کی سیاسی شمولیت اس ليے اہم ہے کیونکہ “اگر آپ کے پاس مختلف پس منظر کے لوگ نہیں ہیں تو  عوامی پاليسی کی تخلیق سے متعلق مضبوط بات چیت نہیں ہوگی۔ ایسی پالیسی جس سے ہر ایک کو فائدہ ہو۔”

سرکاری ملازمین کی کھيپ تيار کرنا

سینٹر فار ایشین امریکنز یونائیٹڈ سیلف ایمپاورمنٹ (سی اے يو ايس ای) جیسے غیر منفعتی گروہ امیدواروں کی ایک “پائپ لائن” بنا رہے ہیں- شہری معاشرے سے وابستہ افراد – جو شہری زندگی سے وابستہ ہیں – اور انہیں انتخاب لڑنے کی تربیت دے رہے ہیں۔

 انٹرنز (© Center for Asian Americans United for Self Empowerment)
کاز(سی اے يو ايس ای) سے وابستہ ليڈرشپ انٹرنز قانون سازی کی وکالت اور کیلیفورنیا کی جوڈیشل کونسل کے پالیسی سازی کے کردار کے بارے میں جانتے ہیں۔ (© Center for Asian Americans United for Self Empowerment)

مثال کے طور پر، کاز(سی اے يو ايس ای) نو ایشین امریکیوں کو انٹرنشپ کی پیش کش کرتا ہے تاکہ وہ نیٹ ورکنگ کرسکیں، (انتخابی) مہموں میں شامل ہوں اور خود بھی انتخاب کے لئے تیار ہوں۔ چھ ماہ کا ایک علیحدہ ليڈر شپ پروگرام مختلف کاروباروں، غير منفعتی، اعلی تعلیم اور حکومت سے درمیانے درجے کی ایشیائی امریکی قيادت کو تربيت ديتا ہے تا کہ وہ انتخاب لڑ سکيں۔

کاز(سی اے يو ايس ای)  کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نینسی یاپ کا کہنا ہے کہ، ” میز پر ہم ميں سے زیادہ افراد کا (موجود) ہونا اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری آوازیں سنی جائيں۔” میلکے بتاتی ہیں کہ بہت سے نئے شہریوں کے لئے جو ان ممالک سے آتے ہيں جہاں دوسری طرح کی حکومتيں ہوتی ہیں، اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ووٹنگ اور انتخاب (کا عمل) کیوں ضروری ہيں۔ “یہ نئے امریکی ہیں جو جمہوری عمل کے عادی نہیں ہیں،” وہ کہتی ہیں۔

اے پی اے سی ایس کے پاس ایک انٹرنشپ پروگرام ہے جو ایشین نسل کے لوگوں کو کانگریس کے دفاتر میں کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، يہ ملازمتيں اکثر خود ان کے عوامی انتخاب کے عمل ميں شموليت کا باعث بنتی ہيں۔ میلکے کا کہنا ہے کہ “ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئ ان کی آبادی کے لحاظ سے، انہیں شہری عمل کا حصہ بننا چاہئے۔”