سینیگال کے ہر تین شہریوں میں سے ایک شہری کو بجلی تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم، حفظان صحت اور کاروباری مواقعوں تک رسائی محدود ہے۔ امریکہ اور سینیگال کے درمیان 60 کروڑ کی مالیت کا طے پانے والا ایک پانچ سالہ معاہدہ مغربی افریقہ کے اس ملک میں روشنیاں پہنچانے میں مدد کرے گا۔

توقع کی جاتی ہے کہ افریقہ کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار ہونے والی اس معیشت کے ایک کروڑ دس لاکھ  افراد کو "سینیگال کے بجلی کے اس معاہدے" سے فائدہ پہنچے گا۔

اس معاہدے میں 55 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ امریکہ کرے گا جب کہ پانچ کروڑ ڈالر سینیگال کی حکومت فراہم کرے گی۔

یہ مالی معاونت مخففاً ایم سی سی کہلانے والا "ملینیم چیلنج کارپوریشن" نامی غیر ملکی امداد دینے  والا ایک امریکی ادارہ کرے گا جسے امریکی کانگریس نے 2007ء میں قائم کیا تھا۔ ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بوجھ لادے جانے  کے برعکس دیگر تمام امریکی امدادوں کی طرح، اس پراجیکٹ کے تحت روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشتیں ترقی کریں گیں۔

ایم سی سی کے سربراہ، جوناتھن نیش کہتے ہیں، "اس معاہدے کا مقصد نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں تیزی لانا، اقتصادی ترقی کو بڑھاوا دینا اور سینیگال کے بجلی کے شعبے کو بہتر بنا کر غربت میں کمی کرنا ہے۔"

اس معاہدے کے تحت ذیل میں دیے گئے  تین ایسے پراجیکٹوں کے لیے مالی معاونت کی جائے گی جو:

  • سینیگال کی قومی بجلی کمپنی یعنی ' سینی لیک' کی بجلی فراہم کرنے والی لائنوں کو جدید اور مضبوط بنائیں گے۔
  • ایسے دیہاتوں اور علاقوں میں بجلی تک رسائی میں اضافہ کریں گے جہاں اقتصادی ترقی کی گنجائش تو موجود ہے مگر بجلی نہیں ہے۔
  • سینیگال حکومت کے بجلی کے شعبے سے متعلق قوانین، پالیسیوں اور ضوابط میں بہتری لائیں گے۔

میلینیم چیلنج کارپوریشن دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے کچھ  ایسے ممالک کو محدود مدت کے لیے امداد فراہم کرتی ہے جو "اچھی حکمرانی، اقتصادی آزادی اور اپنے شہریوں پر سرمایہ کاری کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔"

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا، "امریکہ اسی نوع کی شراکت داریوں کے ذریعے افریقہ میں اقتصادی ترقی کو بڑھاوا دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ ایم سی سی کے کڑے طریقہ کار پر سینیگال کے پورا اترنے کا صلہ سینیگال کے ساتھ  ایم سی سی کی جانب سے دوسری بار [ایک نیا] معاہدہ  کرنے  کی صورت میں ملا ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔" وزیر خارجہ نے یہ بات 10 دسمبر کو امریکی محکمہ خارجہ میں سینیگال کے وزیر اعظم محمد بون عبداللہ  ڈیونے  کے ہمراہ دستخط کرنے کی ایک تقریب کے موقع پر کہی۔

ملینیم چیلنج کارپوریشن نے سینیگال کے ساتھ پہلے معاہدے پر 2009ء میں دستخط کیے تھے۔ اس پانچ سالہ معاہدے کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافے کے ذریعے اقتصادی ترقی میں اضافہ کرنا تھا۔ سڑکوں اور آبپاشی کے نظاموں پر سرمایہ کاریوں کے ذریعے سینیگالیوں نے مارکیٹوں اور خدمات تک اپنی رسائیوں کو وسعت دی۔