شام میں حالیہ ترین کیمیائی حملے پر غم و غصے کا اظہار

شام میں بشار الاسد کی حکومت کو باغیوں کے زیرقبضہ علاقے پر کیمیائی حملے کے بعد دنیا بھر کی مذمت کا سامنا ہے۔ اس حملے میں درجنوں شہری مارے گئے اور بچوں کا دم گھٹنے کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہوگیا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی 7 اپریل کو دوما پر کی جانے والی گولہ باری کا جواب دینے پر غوروخوض کر رہے ہیں۔ اسد کو حکومت سے ہٹانے کی باغیوں کی سات سالہ جدوجہد میں دوما مشرقی غوطہ کا آخری شہر ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہے۔

صدر ٹرمپ نے "بے گناہ شامیوں پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ”  اس حالیہ ترین "سفاکانہ حملے” کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ” … ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔”

برطانیہ کی وزیراعظم تھیرسا مے نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مسلسل استعمال "پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں،” اور تمام علامتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس بمباری کے پیچھے شامی افواج کا ہاتھ ہے۔

صحت کی عالمی تنظیم نے بتایا ہے کہ موقعے پر موجود اس کے شراکت کاروں نے اطلاع دی ہے کہ ” زہریلے کیمیائی مادوں سے متاثر ہونے والے افراد سے مطابقت رکھنے والے نشانات اور علامات کے حامل” لگ بھگ 500 افراد کا علاج کیا گیا ہے اور تہہ خانوں میں قائم پناہ گاہوں میں 70 افراد سے زائد ہلاک ہوئے ہیں۔ 43 ہلاک شدگان کے جسموں پر ایسی "علامات پائی گئی ہیں جو بہت زیادہ زہریلے کیمیائی مادے سے متاثر ہونے والے افراد سے مطابقت رکھتی ہیں۔”

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم نے 10 اپریل کو کہا کہ اس کے معائنہ کار شام میں تعینات کیے جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اسد کی حکومت سے دوما میں داخل ہونے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

متاثرین کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے اطلاع دی ہے کہ مریضوں سے کلورین گیس کی بو آتی ہے۔ اس گیس کا شکار ہونے والے افراد کا دم گھٹ سکتا ہے۔ اسد حکومت کے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کے تباہ کرنے کے دعوے کے باوجود، گزشتہ حملوں میں اس حکومت پر سارین گیس کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ سارین اعصاب کو متاثر کرنے والی ایک مہلک گیس ہے۔

کیمائی ہتھیاروں پر پابندی ہے

ایک بین الاقوامی سمجھوتے کے تحت تمام کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی ہے۔ اس سمجھوتے پر شام سمیت دنیا کے تقریباً ہر ایک ملک نے دستخط کر رکھے ہیں۔

10 اپریل کو روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اُس قرارداد کو منظور نہیں ہونے دیا جس کے تحت شامی حکومت کے لیے آزادانہ تحقیق کرانا لازم ہوتا۔

ایک سو سال قبل جنگی فریقین نے ایک دوسرے پر مسٹرڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کی بارش کر دی جس سے پہلی جنگ عظیم کے دوران یورپ کے جنگی میدانوں میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔ اِن گیسوں کے استعمال نے دنیا کو اتنا بیزار کیا کہ 1925 میں جنیوا کنونشن منظور کرکے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا۔

تاہم ان کا استعمال دوبارہ اس وقت لوٹ آیا جب 1980 کی دہائی میں عراق نے ایران کے خلاف جنگ میں اور پھر کرد اقلیت کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ آج شام میں جاری جنگ نے ایک بار پھر مہذب دنیا کو اس لعنت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

شام پر سارین گیس کے اُس حملے کا اکثر الزام لگایا جاتا ہے جس میں مشرقی غوطہ میں اگست 2013 میں سینکڑوں شہریوں ہلاک ہوئے۔ اس سال امریکہ اور روس نے ایک معاہدہ طے کیا جس کے تحت شام نے اپنے کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے پر اتفاق کیا۔

مگر شام نے ایسا نہیں کیا۔

اپریل 2017 میں سارین گیس میں بیسیوں ہلاکتوں کے بعد، امریکہ نے ایک شامی ہوائی اڈے کو میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ اس سال کے اوائل میں ادلیب صوبے کے شہر ساراقب اور مشرقی غوطہ کے شہر دوما پر کلورین گیس کے حملوں کا شک کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ دنیا کیمیائی حملوں کو ایک "نئے معمول” کے طور پر نہیں قبول کر سکتی۔

انہوں نے کہا، "امریکہ نے یہ مصمم ارادہ کر لیا  ہے کہ اُس عفریت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے جس نے شامی عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔”