شراکت کاری یا بھتہ خوری؟ مشرق وسطٰی میں امریکہ کے مقابلے میں ایران کے نمونے

Pompeo sitting at desk talking (© Johannes Eisele/AFP/Getty Images)
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو 20 اگست کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں۔ (© Johannes Eisele/AFP/Getty Images)

امن اور سلامتی۔ مشرق وسطٰی کے امن کا یہی وہ تصور ہے جسے امریکہ اور درجنوں اتحادی فروغ دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کا ایک مختلف تصور ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس میں تہران میں مُلا بین الاقوامی برادری سے جبری طور پر رعائتیں حاصل کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ بات 20 اگست کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ایک بیان میں واضح کی۔ انہوں نے “وارسا عمل” کی شراکت کاری اور کثیرالمملکتی سوچ کے مقابلے میں ایرانی حکومت کی “بھتے خوری کی سفارت کاری” کے درمیان پائے جانے فرق کو اجاگر کیا۔

وارسا عمل کا مقصد سمندری راستوں کی سلامتی، پناہ گزینوں کی مدد اور انسانی حقوق کو مضبوط بنانا ہے۔ فروری میں ہونے والے پہلے اجلاس میں 60 سے زائد ممالک نے شرکت کی اور اکتوبر اور نومبر میں کوریا، بحرین، پولینڈ اور رومانیہ میں ہونے والے اجلاسوں میں لگ بھگ 80 سے زیادہ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔

پومپیو نے سلامتی کونسل کو بتایا، “میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بحث پر کسی ایک مسئلے یا ملک کو غلبہ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم ایسے تمام ممالک کی باتیں غور سے سنیں گے جو اپنی باتوں کا اظہار تعمیری انداز سے کرنا چاہیں گے اور جو مل جل کر کام کرنا چاہیں گے۔”

اور ایران؟ اس نے یرغمال بنانے، تشدد اور جوہری بھتے کی کاروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

صرف جولائی میں ایران کی حکومت نے جوہری ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور افزودگی کی حدود کو توڑا۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ اُنہیں زبردستی اپنے قبضے میں لیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراداد کی خلاف ورزی کرتے  ہوئے اور اپنے ہمسایوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

وزیر خارجہ مائیک پومپیو: وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایران پر ہتھیاروں کی پابندیوں اور قاسم سلیمانی کے سفر پر عائد پابندیوں کی مدت ختم ہونے کو ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت کاروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس وقت تک ایرانی حکومت پر دباؤ بڑہاتے رہیں جب تک یہ حکومت عدم استحکام  والا اپنا رویہ ترک نہیں کرتی۔

اسی اثناء میں امریکہ اور وارسا عمل کے دیگر ممالک نے اقوام متحدہ کے 20 اگست کو ہونے والے اجلاس کو معاشی مواقعے بڑہانے، شام اور یمن میں انسانی بحرانوں کو حل کرنے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن لانے کے موضوعات پر بات چیت کے لیے استعمال کیا۔

اس بات چیت کا موضوع جون میں بحرین میں ہونے والا وہ اجلاس تھا جس میں توجہ کا مرکز امریکہ کا 50 ارب ڈالر مالیت کا فلسطینیوں کے لیے “امن اور سلامتی” کا منصوبہ تھا۔ ابھی حال ہی میں، برطانیہ اور سلطنت بحرین آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کے تحفظ کے امریکی منصوبے میں شامل ہوئے ہیں۔

پومپیو نے کہا، “امریکہ بالکل اسی قسم کی کثیرالجہتی کاوشوں کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بامعنی ہیں۔ یہ موثر ہیں۔ اور یہ آزادی سے محبت کرنے والے معاشروں کی اقدار کی عکاسی کرتی ہیں اور اس کونسل کو [اِن اقدار کی] سربلندی کے لیے کام کرتے رہنا چاہیے۔”