Woman sweeping in old village street (© Kevin Frayer/Getty Images)
کاشغر، شنجیانگ، چین میں بڑھتی ہوتی سکیورٹی اور مساجد پر پابندیوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ (© Kevin Frayer/Getty Images)

چینی حکام باقاعدگی سے مسلمانوں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے سے روکتے ہیں جس میں رمضان کے مقدس مہینے میں روزہ  رکھنے کی ممانعت سے لے کر حلال کاموں پر سزاؤں تک کی کاروائیاں شامل ہیں۔

چین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ میں ضوابط کی رو سے مردوں کے ”بے قاعدہ داڑھیاں” رکھنے اور خواتین کے چہروں کو ڈھانپنے والے نقاب پہننے کی خصوصی طور پر ممانعت ہے۔ لوگوں کے گھروں سے جائے نماز اور قرآن کے نسخے باقاعدگی سے ضبط کیے جاتے ہیں اور سمارٹ فونوں کی مذہبی مواد تلاش کرنے کی غرض سے تلاشی لی جاتی ہے۔

حکومت نے شنجیانگ میں ہزاروں مساجد کو بند یا تباہ کر دیا ہے اور چین کے دیگر حصوں میں بھی یہ کام تیزی سے جاری ہے۔

عالمگیر مذہبی آزادی کے لیے امریکی دفتر خارجہ کے عمومی سفیر سیموئل براؤن بیک نے حال ہی میں کہا ہے کہ ”چین مذہبی مظالم کا سلسلہ بند نہیں کر رہا۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سلسلہ مزید پھیل رہا ہے۔”

Man walking under red flags in open-air market (© Thomas Peter/Reuters)
6 ستمبر 2018 کو قدیم شہر کاشغر، شنجیانگ، چین میں ایک مارکیٹ میں لگے ہوئے چینی جھنڈے۔ (© Thomas Peter/Reuters)

ضابطوں کی پروا نہ کرنے اور اسلامی رسومات پر عمل کرنے والے لوگ، چین کے شنجیانگ ویغور خودمختار خطے میں قائم نظربندی کے کیمپوں میں بھیجے جانے کا خطرہ مول لے رہے ہوتے ہیں۔  امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق اپریل 2017 سے اب تک چین نظربندی کے اِن کیمپوں میں ممکنہ طور پر آٹھ لاکھ  سے 20 لاکھ تک مسلمانوں کو بند کر چکا ہے۔

ان کیمپوں سے بچ نکلنے والے بتاتے ہیں کہ قیدیوں کو اسلام کو ترک کرنے یا بصورتِ دیگر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دفتر خارجہ کی لارا سٹون نے دسمبر میں کانگریس کو بتایا، ”شنجیانگ میں ویغور، قازق اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کو باقاعدہ طور سے دبانے کے لیے وسیع پیمانے پر گرفتاریاں اور اُنہیں زیرِنگرانی رکھنے کی خاطر اعلیٰ ٹیکنالوجی کا استعمال، شاید ثقافتی انقلاب کے بعد چین  میں انسانی حقوق کا سنگین ترین بحران ہے۔”

اگلی نسل کو چینی بنانا

Child dressed in red standing in front of red curtain (© Stringer/Reuters)
ہیتیان، شنجیانگ میں ایک بچی اپنے گھر میں تصویر کھچوانے کے لیے کھڑی ہے۔ (© Stringer/Reuters)

سرکاری حکام یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اگلی نسل مسلمانوں کے بجائے چینی ثقافتی روایات سے ہم آہنگ ہو۔ مثال کے طور پر وہاں 18 سال سے کم عمر بچوں کا مسجد میں جانا یا گھر پر مذہبی تعلیم کا حصول غیرقانونی ہے۔

مسلمان والدین کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے نومولود بچوں کے ایسے نام نہ رکھیں جو ”بچوں کے ممنوعہ اسلامی ناموں” کی فہرست میں شامل ہیں۔

ریڈیو فری ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لڑکوں کے ممنوعہ ناموں میں عرفات، حسین، سیف الدین، سیف اللہ، نصراللہ، شمس الدین، صدام اور مجاہد جبکہ لڑکیوں کے ممنوعہ ناموں میں مسلمی، عائشہ، فاطمہ اور خدیجہ شامل ہیں۔

حالیہ عرصہ میں چینی حکومت اس فہرست کا اطلاق نومولود بچوں پر ہی نہیں بلکہ 16 سال سے کم عمر کے تمام بچوں پر کر رہی ہے اور شنجیانگ میں ممنوعہ ناموں والے مسلمانوں کو اپنا نام تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سفیر براؤن بیک کا کہنا ہے کہ چین کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے “جہاں انسانی حقوق کی صورتحال بدترین ہے۔”