شہری حقوق کی ہیرو روزا پارکس کو خراج تحسین پیش کرنے والی امریکی یادگاریں

روزا پارکس کے 1955ء کے مظاہرے کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر، امریکی فضائیہ نے یکم دسمبر 2020 کو ریاست الاباما میں اپنے میکس ویل کے ہوائی اڈے پر پارکس کے ایک مجسمے کی نقاب کشائی کی۔  یہ مجسمہ شہری حقوق کی اِس نامور شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والی یادگاروں کے سلسلے میں ایک حالیہ اضافہ ہے۔  پارکس کا 92 سال کی عمر میں 2005ء میں انتقال ہوا۔

پارکس کے جرائتمندانہ احتجاج کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس برس، شیئر امیریکا کچھ یادگاروں کی جھلکیاں پیش کر رہا ہے۔

 بس کے اندر بیٹھی ہوئی روزا پارکس کا کانسی کا مجسمہ (© Randy Duchaine/Alamy)
میمفس، ٹینیسی میں شہری حقوق کے قومی عجائب گھر میں بس میں بیٹھی ہوئی روزا پارکس کا مجسمہ۔ (© Randy Duchaine/Alamy)

1955ء میں نسلی بنیادوں پر مخصوص شدہ نشستوں والی ایک بس میں  روزا پارکس کے ایک سفید فام مرد کے لیے اپنی نشست خالی کرنے سے انکار نے امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

 عجائب گھر میں کھڑی پیلی اور سفید رنگ کی بس کے ارد گرد جمع بچے (© Bill Pugliano/Getty Images)
ریاست مشی گن کے شہر ڈیئر بورن کے ہنری فورڈ عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی وہ بس جس میں 1955ء میں روزا پارکس نے اپنی نشست چھوڑنے سے انکار کیا تھا۔ (© Bill Pugliano/Getty Images)

الاباما کے شہر منٹگمری میں بسوں کے بائیکاٹ کا باعث بننے والے احتجاج سے قبل، پارکس 1940 کی دہائی میں میکسویل فیلڈ میں درزن کی حیثیت سے کام کیا کرتی تھیں۔ یہ بائیکاٹ شہری حقوق کی تحریک میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔

بعد میں انہوں نے نسلی طور مربوط اس وفاقی سہولت یعنی ہوائی اڈے میں اپنے تجربے کا سہرا ایک ایسی دنیا کے سر باندھا جس میں “جِم کرو قوانین” کے نام سے جانے جانی والیں نسلی امتیاز پر مبنی سلوک کی وہ پالیسیاں موجود نہیں تھیں جو جنوب میں عام پائی جاتی تھیں۔

 ایک بڑے ہال میں روزا پارکس کے مجسمے کی ٹانگ کو ایک آدمی برش سے صاف کر رہا ہے (© Alex Wong/Getty Images)
پارکس کا ایک مجسمہ واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے مجسموں کے قومی ہال میں نصب کرکے پارکس کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ (© Alex Wong/Getty Images)

پارکس نے کہا، “آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میکسویل نے میری آنکھیں کھولیں۔ یہ جم کرو کی مکروہ پالیسیوں کا ایک متبادل تھا۔”

 بس کی سیٹ پر بیٹھی ہوئیں روزا پارکس کا کانسی کا مجسمہ۔ ایک پلازے کی اس مرکزی علامت کے پیچھے دیوار پر مارٹن لوتھر کنگ کا ایک قول کندہ ہے (© Alpha Stock/Alamy)
ڈیلس میں ویسٹ اینڈ ڈیلس ایریا ریپڈ ٹرانزٹ سٹیشن پلازہ کے اس نمایاں حصے میں روزا پارکس کی یاد میں نصب کیا جانے والا اُن کا مجسمہ۔ (© Alpha Stock/Alamy)

ہر سال سیاہ فاموں کی تاریخ کے مہینے یعنی فروری میں امریکی شہری پارکس اور دیگر افراد کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔