شہری حقوق کی 5 ہیرو خواتین جن کا آپ کو علم ہونا چاہیے

فینی لُو ہیمر

1964ء میں فینی لو ہیمر نے کہا، "میں تنگ اور عاجز آنے سے تنگ اور عاجز آچکی  ہوں۔” وہ اپنے اُس شہادتی بیان کا حوالہ دے رہی تھیں جو انہوں نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے قومی کنونشن کی کوائفی کمیٹی کے روبرو دیا تھا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے ہراساں کیے جانے کے ان واقعات کی دکھ بھری کہاںی سنائی جس سے انہیں  ووٹ کا حق حاصل کرنے کی جدو جہد کے دوران گزرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاہ فام ووٹروں کو رجسٹر کرنے کی کوششوں کے دوران جب انہیں گرفتار کیا  گیا تو مسس سپی کے ایک جیل خانے میں انہیں اس قدر مارا پیٹا گیا کہ وہ مرتے مرتے بچیں۔

مسس سپی میں ایک مزارع کی بیٹی، ہیمر نے اپنی زندگی کا بیشتر عرصہ اس وقت  تک زرعی زمینوں پر کام کرنے میں گزارا جب تک کہ انہیں اُن کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے برطرف نہیں کردیا گیا تھا۔ بعد میں، 1964ء میں "فریڈم سمر” سمیت، ہیمر ووٹروں کی  رجسٹریشن کی تحریکوں کومنظم کرنے کے لیے مسس سپی واپس لوٹیں۔

امیلیا بوئنٹن

People standing in dark, some holding candles (© Stacey Wescott/Chicago Tribune/MCT via Getty Images)
الاباما میں ایڈمنڈ پیٹس برِج پر 2008 کے ایک خاموش مظاہرے میں بوئنٹن۔ (©Stacey Wescott/Chicago Tribune/MCT via Getty Images)

امیلیا بوئنٹن کو اوائل عمری میں یہ احساس ہوگیا تھا کہ ووٹوں سے طاقت کی مساوی تقسیم ہوتی ہے۔ 1920ء میں عورتوں کی حقِ رائے دیہی کے لیے اںہوں نے جب اپنی والدہ کے کام میں ہاتھ بٹایا تو اُس وقت اُن کی عمر 9 سال تھی۔ افریقی نژاد امریکی خواتین کے حقِ رائے دیہی کے پلیٹ فارم کے استعمال کی حمایت کرتے ہوئے بوئنٹن وہ پہلی سیاہ فام خاتون تھیں جس نے ریاست الاباما سے کانگریس کی ایک نشست کے لیے انتخاب لڑا۔

انہوں نے 1965ء میں منٹگمری تک ایک جلوس کو منظم کرنے کے لیے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے ساتھ مل کر کام کیا۔ جلوس میں شریک لوگوں پر پولیس کے حملے کے بعد یہ جلوس "خونی اتوار” کے نام سے مشہور ہوا۔ بوئنٹن نے جان بچا کر بھاگنے سے انکار کر دیا اور انہیں مار مار کر ایڈمنڈ پیٹس برِج پر بیہوش حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ جب صدر جانسن نے اُسی سال ووٹنگ رائٹس ایکٹ  یعنی ووٹ دینے کے حقوق کے قانون پر دستخط کیے تو وہ اس تقریب میں  ایک مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھیں۔ ان کا انتقال 2015ء میں 104 برس کی عمر میں ہوا۔

سپٹیما کلارک اور برنیس رابنسن

Two elderly women in dining room in home (© Karen Kasmauski/Corbis via Getty Images)
1987میں سپٹیما کلارک (بیٹھی ہوئیں) اور برنیس رابنسن۔ (© Karen Kasmauski/Corbis via Getty Images)

ایک ٹیچر کے طور پر تربیت یافتہ، سپٹیما کلارک کو جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ 1919ء میں ایک افریقی نژاد امریکی کی حیثیت سے اُن پر ساؤتھ کیرولائنا میں اپنے آبائی شہر چارلسٹن میں  پڑھانے پر پابندی عائد ہے۔ کلارک گھر گھر جا کر لوگوں سے دستخط کرواتی رہیں تاوقتیکہ یہ پابندی ختم کردی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے گو کہ 20 سال تک  جدوجہد کی مگر آخرکار وہ سیاہ فام ٹیچروں کے لیے مساوی تنخواہ منظور کرانے میں کامیاب ہوگئیں۔

کلارک نے ساؤتھ کیرولائنا کے جونز آئی لینڈ  میں ایک ایسا سکول کھولا جس میں سیاہ فاموں کو ووٹ دینے کے لیے رجسٹریشن کے امتیازی قوانین سے نمٹنے کی خاطر لکھائی پڑھائی سکھائی جاتی تھی اور شہری حقوق کی تعلیم  دی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنی کزن، برنیس رابنسن کو اس سکول  میں  ٹیچر بننے کا کہا۔  دیگر چیزوں کے علاوہ رابنسن نے اپنے سکول کے طلبا کو اخبار پڑھنا اور فارم پُر کرنا سکھایا۔ آخری امتحان کا تعلق ووٹ دینے کی خاطر رجسٹریشن کرانے سے ہوتا تھا اور ان کی کلاس کے 80 فیصد  طلبا اس امتحان میں کامیاب ہوتے تھے۔ شہریت کے ماڈل پر قائم کردہ یہ سکول جنوب کے پورے خطے میں پھیل گئے۔ اِن سکولوں کے ٹیچروں کو رابنسن تربیت دیتی تھیں۔ سماجی انصاف کے حصول کے لیے افریقی نژاد امریکیوں کو با اختیار بنانے کی جدو جہد میں یہ سکول ایک موثر وسیلہ بن گئے۔

بعد میں مارٹن لوتھر کنگ نے کلارک کا اس "تحریک کی ماں” کے طور پر حوالہ دیا  اور جب وہ امن کا نوبیل انعام وصول کرنے کے لیے سویڈن  گئے، تو انہوں نے کلارک کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔

ڈایان نیش

Group of people talking (© AP Images)
ڈایان نیش، والٹر بریڈ فورڈ، برنارڈ لی اور 1960 میں ری پبلکن پارٹی کی پلیٹ فارم کمیٹی کے چیئرمین، چارلس ایچ پرسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے۔ (© AP Images)

1959ء میں جب ڈایان نیش کا تبادلہ ٹینی سی کی فِسک یونیورسٹی میں ہوا، تو انہیں نسل پرستی کے تحت افریقی نژاد امریکی طلبا کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو دیکھ کر سخت صدمہ پہنچا۔ اس کی اُن کی شکاگو کے متوسط علاقے میں ہونے والی اُس پرورش سے بالکل کوئی مماثلت نہیں تھی جس سے وہ مانوس تھیں۔ وہ عدم تشدد  کی بنیاد پر طلبا کی اُس رابطہ کمیٹی کی ایک بانی رکن تھیں جو اپنے دور کی ایک  اہم ترین تنظیم تھی۔

نیش اُن فریڈم رائیڈز کو منظم کرنے میں بہت متحرک رہیں جن  کے تحت شہری حقوق کے سرگرم رکن نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے  بین الریاستی بس سروس کے ذریعے  جنوب کے  دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔

1962ء میں انہیں مسس سپی میں سکول کے بچوں کو عدم تشدد کے طریقے سکھانے کے الزام میں دو سال قید کی سزا دی گئی۔ تاہم  اپیل کرنے پر یہ سزا منسوخ کردی گئی۔  نیش نے بعد کے تین عشروں میں مساوی حقوق کے حصول کی خاطر ووٹ دینا اور اچھی تعلیم حاصل کرنا جاری رکھا۔