ممکن ہے “تاحیات صدر” کا تصور بعض لوگوں کے لیے پُرکشش ہو۔ تاہم امریکیوں کی اکثریت کے نزدیک اس بات کی قید کہ کوئی کتنی بار صدر بن سکتا ہے، اقتدار پر ایک خوش کن پابندی ہے۔

1951 کے بعد امریکی صدور کے پاس تیسری مدت کے لیے صدر بننے کا کوئی اختیار نہیں رہا۔ حتٰی کہ اس سے پہلے بھی بہت سے صدور نے جارج واشنگٹن کی قائم کردہ مثال کی تقلید کی اور آٹھ سال سے زیادہ صدارتی عہدے پر فائز رہنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

جنوبی افریقہ کے صدر نیلسن منڈیلا نے اپنا ارادہ بدلنے کے لیےعوامی دباؤ کے باوجود، ایک مرتبہ صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کا اپنا مشہور وعدہ پورا کیا۔

بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ محدود صدارتی مدتیں اُن ووٹروں کی رائے کی خلاف ورزی ہیں جو چاہتے ہیں کہ ایک لیڈر کو [صدارتی عہدے پر دو سے زائد مرتبہ کام کرنا] چاہیے، چاہے اس کے لیے ملکی آئین میں تبدیلی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ تاہم، تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ محدود صدارتی مدتوں سے با لآخر جمہوری ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور پُرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

محدود صدارتی مدتوں کی بدولت:

  • صدارت کے عہدے پر فائز کسی موجودہ صدر کے لیے حکومتی اداروں کے استعمال سے انتخابات میں دھاندلی یا حریف حکومتی شاخوں اور سیاسی مخالفین کی طاقت کو کم کرنے کی اہلیت میں کمی آتی ہے۔
  • [ٹھوس] نتائج پیدا کرنے اور اپنا مثبت ورثہ چھوڑنے کے لیے لیڈر دباؤ محسوس کرتے ہیں۔
  • افراد چاہے کتنے ہی طاقت ور اور مقبول کیوں نہ ہوں ناگزیر نہیں بن سکتے۔
  • سیاسی انتقال اقتدار معمول کے مطابق اور پابندی سے طے پاتا ہے اور مستقبل کے واقعات کا اندازہ لگائے جانے کی وجہ سے، حریف فریقین کو تختہ الٹنے یا دیگر ذرائع سے نظام کو تلپٹ کرنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔
  • ابھرتے ہوئے لیڈروں کی ایک نئی نسل سامنے آتی ہے جس سے نئے تصورات اور پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیاں سامنے آتی ہیں۔

اگرچہ کسی مقبول صدر کو محدود صدارتی مدتوں کے ذریعے اقتدار میں رہنے سے روکنا بظاہر ایک افسانوی حقیقت لگتی ہے تاہم اس سے جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے درکار صحت مند مسابقت کو فروغ ملتا ہے۔

اس مضمون کی ایک مختلف شکل  12 جنوری 2016 کو  شائع کی جا چکی ہے۔