امریکہ اور دنیا بھر کے ممالک نے ایران میں مظالم کا شکار گونابادی درویش صوفی فرقے سے تعلق رکھنے والے محمد ثلاث کو سزائے موت دیے جانے کی مذمت کی ہے۔ 18 جون کو دی گئی اس سزا کو امریکہ نے ‘بہیمانہ اور غیرمنصفانہ’ قرار دیا ہے۔

51 سالہ بس ڈرائیور ثلاث دو بچوں کا باپ تھا جسے بدنام زمانہ رجائی شہر جیل میں پھانسی دی گئی۔ یہ جیل ایرانی عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سبب بدنام ہے۔

اطلاعات کے مطابق ثلاث کو تشدد کے ذریعے مجبور کیا گیا کہ وہ فروری 2018 میں گونابادی صوفیوں اور ایرانی سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں کے نتیجے میں تین پولیس افسروں کے قتل کا اعتراف کرے۔ اسے مقدمے سے پہلے اور مقدمے کے دوران اپنی وکیل زینب طاہری تک رسائی دینے سے انکار کیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا، "ایرانی عوام انسانی حقوق اور آزادیوں کے احترام کے مستحق ہیں۔” انہوں نے 18 جون کو ایک ٹویٹ میں امریکی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ "اس بہیمانہ اور غیرمنصفانہ سزائے موت کی مذمت میں ہمارا ساتھ دیں۔”

یورپی یونین کی ترجمان ماجا کوسیجنسک کا کہنا ہے، ”ثلاث کے مقدمے نے بنیادی حقوق اور جائز عمل کی پاسداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔” کوسیجنسک نے کہا کہ ثلاث کا مقدمہ "تیزی” سے چلایا گیا اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے حق میں "ایک ایسی بنیادی شہادت مسترد کر دی گئی جس سے اس کی بے گناہی ثابت ہو سکتی تھی۔”

انسانی حقوق سے متعلق جرمن کمشنر باربل کوفلر کا کہنا ہے، "اس بات پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ درویش کے خلاف قانونی اصولوں کے مطابق منصفانہ  مقدمہ چلایا گیا ہے۔”

فروری میں کم از کم 300 صوفیوں کو غیرمنصفانہ طور پر حراست میں لیا گیا اور ایرانی سکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے بعد وہ بدستور قید میں ہیں۔ ایران میں بہت سے رجعت پسند شیعہ علما نے صوفی ازم کو اسلام کے لیے خطرناک قرار دے رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ثلاث کو سزائے موت دیے جانے کے بعد ایرانی حکام نے ان کی وکیل کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے 19 جون کو ایک ٹویٹ میں کہا، "امریکہ کو حال ہی میں سزائے موت پانے والے محمد ثلاث کی وکیل زینب طاہری کی رائے عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں ایران #Iran میں گرفتاری پر گہری تشویش ہے۔  ہم ان کی فوری رہائی اور ایرانی حکومت کی جانب سے گونابادی درویشوں کے خلاف مظالم بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”