آبائی امریکیوں کی صحت اور ادویات میں بہت سی ایجادات ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہیں۔ اِن کا تعلق مغربی طب سے پہلے کے زمانے سے ہے اور اِن سے مغربی طب میں مدد ملی ہے۔

آبائی امریکی جسم کے دکھنے  اور درد کو کم کرنے کے لیے اوپر دکھائی گئی بید کے درخت کی چھال چبایا کرتے تھے۔ اس چھال میں سیلیسین کے نام سے وہ فعال کیمیائی مادہ پایا جاتا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ استعماال ہونے والی دوا اسپرین کی1897 میں میں دریافت کی بنیاد بنا۔ (سیلیسین نامی یہ کیمیائی مادہ سیلی سائلک نامی تیزاب کا پیش خیمہ بھی ہے جو کہ مہاسوں کے علاج اور خشکی کا خاتمہ کرنے والے شمپوؤں کا ایک فعال جزو ہے۔)

وہ تصور بھی آبائی امریکیوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہا جس کی وجہ سے ویکسینیں تیار کی گئیں۔ ویکسینیں ایسی دوائیں ہیں جو کسی وائرس یا بیماری کے جراثیموں کی ترمیم شدہ قسم کو انسانی جسم میں داخل کر کے انسانوں کو متعلقہ وائرس یا بیماری سے محفوظ رکھتی ہیں۔ جانز ہاپکنز کے صحت عامہ کے بلومبرگ سکول کی ریسرچ ایسوسی ایٹ، ڈاکٹر سوفی ای نیونر ان قبائل کی طرف توجہ دلاتی ہیں جو اپنے جسم کو کسی مادے کے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے ہونے والے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اُس مادے کو کم مقدار میں کھا لیا کرتے تھے۔

کروک قبیلے سے تعلق رکھنے والی نیونر نے کہا، ” جب سے میں نے زہریلے بلوط کے چھوٹے چھوٹے حصے باقاعدگی سے کھانا شروع کیے ہیں اُس وقت سے میرے جسم پر وہ بڑے چھالے نہیں بنے جو پہلے بنا کرتے تھے۔”

دنیا آبائی امریکیوں، بالخصوص ایرکوا اور سینیکا قبائل کا بچوں کی بوتلیں اور بچوں کا بے بی فارمولہ دودھ ایجاد کرنے پر شکریہ ادا کر سکتی ہے۔ اگر ماں کا دودھ دستیاب نہ ہوتو بے بی فارمولہ بچے کی صحت کے لیے اہم ہوتا ہے۔ ہسٹری چینل کے مطابق، مقامی امریکیوں نے سرنجیں بھی ایجاد کیں۔

جدید طب نے آبائی امریکیوں کی طرف سے کی جانے والی طبی خدمات کا سہرا اُن کے سر ہمیشہ نہیں باندھا۔ ناواہو قبیلے کے رکن اور این آئی ایچ کے قبائلی صحت کے تحقیقی دفترکے ڈائریکٹر، ڈیوڈ آر ولسن کہتے ہیں کہ اب این آئی ایچ قبائل کی دانشورانہ املاک کے تحفظ میں مدد کر رہا ہے۔

امریکہ میں وفاقی طور پر تسلیم شدہ 574 قبائل ہیں۔ تجارتی استحصال کے خدشات کی بنا پران کے زیادہ تر لوگ طب کی حیاتیاتی تحقیق سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن 2019 میں این آئی ایچ نے “نیشنل کانگریس آف امریکن انڈینز” کے ساتھ ایک قبائلی مشاورت کا انعقاد کیا تاکہ رہنماؤں کی یہ سمجھنے میں مدد کی جا سکے کہ تحقیقی عمل کے دوران وہ دانشورانہ املاک کی شرائط و ضوابط پر کب بات چیت کر سکتے ہیں۔ این آئی ایچ نے قبائل کی اپنی دریافتوں سے فائدہ اٹھانے میں مدد کرنے کی خاطرطب کی حیاتیاتی تحقیق کے طریقہ کار کو واضح کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

شراکت کاری

این آئی ایچ کے مطابق مقامی امریکیوں کے خلاف طبی تحقیق میں کچھ ابتدائی زیادتیوں کے باوجود قبیلوں کے اراکین نے وبائی امراض، بیماریوں کی روک تھام اور متعدی بیماریوں کے علاج کے بارے میں کیے جانے والے مطالعات میں شامل ہو کر 50 سال سے زیادہ عرصے تک کامیابیاں حاصل کرنے میں ہاتھ بٹایا ہے۔ ان مطالعات کے نتیجے میں بیماریوں اور اموات کو (خاص طور پر بچوں میں) روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گئے۔

ہاپکنز بلومبرگ پبلک ہیلتھ میگزین نے 1980 کی دہائی کی ایک مثال کا ذکر کیا جس میں بچوں کے ماہر ایک  بھارتی ڈاکٹر نے وائٹ ماؤنٹین اپاچی قبیلے کے ساتھ مل کر تحقیق کی جس کے دوران پتہ چلا کہ دوا ملا پانی پلانے والے علاج بچوں میں اسہال سے ہونے والی اموات کو روکتے ہیں۔ اِس تاریخی تحقیق اور اس کے بعد کے مطالعہ، پیڈیالائٹ کی تخلیق کا باعث بنا جو کہ اسہال کا ایک مقبول علاج ہے۔

ولسن نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں سائنس دانوں نے کووڈ-19 کی تین ایسی ویکسینیں تیار کیں جن کے طبی تجربات میں آبائی امریکیوں کی کمیونٹیوں نے شرکت کی۔ اِس وبائی مرض کو ختم کرنے میں مدد کے لیے امریکہ اِن ویکسینوں کی لاکھوں خوراکیں دوسرے ممالک کو عطیہ کر رہا ہے۔

این آئی ایچ نے روایتی طب اور مغربی سائنس کی صحت کی نئی کامیابیاں تلاش کرنے میں مدد کرنے کی خاطر

ثقافت اور سائنس کے باہمی ربط پر ایک لیکچر بھی منعقد کیا۔

ولسن نے کہا، “آبائی امریکی صدیوں سے شفا یابی کے روایتی علاج، یا شفا یابی کے طریقے استعمال کرتے چلے آ  رہے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ان کا اعتراف کیا جائے، اور ان تعلیمات اور ان فہموں کو بعض مغربی علوم اور طریقوں کے ساتھ ملایا جائے تاکہ اِن دونوں میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔”