عالمگیر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ کا کوانٹم کمپیوٹروں کو فروغ دینا

لوگ کوانٹم کمپیوٹر کو دیکھ رہے ہیں (© Ross D. Franklin/AP Images)
لاس ویگاس کے ٹکنالوجی کے شو میں لوگ آئی بی ایم کی جانب سے نمائش کے لیے پیش کردہ کوانٹم کمپیوٹر کو دیکھ رہے ہیں۔ (© Ross D. Franklin/AP Images)

امریکی جدت طراز دنیا کے اشد ضروری مسائل حل کرنے میں مدد کرنے کے لیے نئے کمپیوٹر بنا رہے ہیں۔

کیا آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس سال فصلوں کی مطلوبہ پیداوار حاصل ہو سکے گی؟ اگر کوئی ایئرلائن شدید طوفانوں سے بچنے اور پروازوں میں تاخیر کو روکنے کے لیے اپنی پروازوں میں فوری ردوبدل کرنا چاہے تو وہ یہ کام کیسے کرے گی؟

موجودہ کمپیوٹروں کی نسبت کوانٹم کمپیوٹر ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور تیار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور سائنس سے لے کر شہری ہوابازی اور مالیات تک کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

امریکی حکومت نے اگست میں کوانٹم کمپیوٹروں اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹکنالوجیوں کی تحقیق پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ کچھ امریکی کمپنیاں پہلے ہی سے ان جدید ترین کمپیوٹروں کی تیاری میں مصروف ہیں۔

کالج پارک، میری لینڈ کی ایک نئی کمپنی آئیون کیو اور ہنی ویل، دونوں نے کوانٹم کمپیوٹر ٹکنالوجیوں میں پیشرفتوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمپیوٹر الیکٹرون اور فوٹون جیسے بنیادی ذرات کی سطح پر ڈیٹا پراسیس کر تے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وہ سپرکمپیوٹروں سے بھی زیادہ تیزرفتاری سے کام کرتے ہیں۔

آیون کیو کا کہنا ہے کہ اس کی ٹکنالوجیاں ہرایک ایٹم پر شعاعیں ڈال کر پیچیدہ جمع تفریق کرتی ہیں۔ گوگل، آئی بی ایم اور رجیٹی کمپیوٹنگ جیسی دوسری کمپنیاں بھی کوانٹم ٹکنالوجیاں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ مائیکروسافٹ اور انٹیل تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور قومی کیو-12 تعلیمی شراکت کاری جیسے حکومتی اور نجی شعبے کے پروگراموں کی ممبر بن رہی ہیں۔ یہ پروگرام طلبا کو کوانٹم کمپیوٹروں کے لیے تیار کریں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ٹکنالوجی میں مزید بہتریاں لانے کی ضرورت ہے۔

26 اگست کو پانچ برسوں میں ملک بھر میں کوانٹم انفارمیشن سائنس کے تحقیقی مراکز پر وائٹ ہاؤس نے 625 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ کے نجی اور تعلیمی شعبے اِن مراکز کے لیے 300 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کر رہے ہیں۔

چیف ٹکنالوجی آفیسر، مائیکل کراٹسیوس اور وائٹ ہاؤس کے پالیسی کی رابطہ کاری کے صدارتی معاون اور ڈپٹی چیف آف سٹاف، کرس لِڈل نے کہا، "اہم بات یہ ہے کہ یہ مراکز ٹکنالوجی کی ترقی کے لیے آزاد منڈی کی منفرد امریکی سوچ کے مظہر ہیں۔ ہر مرکز  وفاقی حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے اور انہیں امریکی اختراعی نظام کے ماحول کی بھرپور قوت اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرتا ہے۔”