عالمی درجہ بندیوں میں امریکی یونیورسٹیوں کا غلبہ

ایک آدمی عمارتی ستونوں کی جانب جا رہا ہے۔ (© AP Images)
ایک آدمی غروب آفتاب کے وقت دھوپ میں کیلی فورنیا میں واقع سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مشہورزمانہ محرابی ستونوں کی طرف جا رہا ہے۔ (© AP Images)

یونیورسٹیوں کی نئی عالمی درجہ بندی میں، دنیا کی 10 بہترین یونیورسٹیوں میں سات امریکی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان میں دسویں پوزیشن پر آنے والی دنیا کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی دو امریکی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم اس فہرست میں شامل یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ تعداد امریکی یونیورسٹیوں کی ہے۔ عالمی معیار کی پہلی پانچ یونیورسٹیوں میں تین اور اسی طرح 200 میں سے 63 یونیورسٹیوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔ گزشتہ برس سرفہرست آنے والی یونیورسٹیوں کی پوزیشن ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل ہوگئی ہے اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے 13ویں پوزیشن سے 10ویں پوزیشن پر آ کر شکاگو کے ہم پلہ ہو گئی ہے۔

دا ٹائمز ہائر ایجوکیشن  کی 2016-17 کی دنیا کی  یونیورسٹیوں  کی فہرست میں بہترین یونیورسٹیوں کی  درجہ بندی کی  گئی ہے۔ اس درجہ بندی کا معیار تدریس، تحقیق، علم کی منتقلی اور عالمی زاویہ نگاہ سے ہے۔ اس فہرست میں 79 ممالک کے 980 اعلٰی تعلیمی ادارے شامل ہیں جو کہ دنیا میں قائم یونیورسٹیوں کی 5 فیصد بہترین یونیورسٹیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سرفہرست آنے والی بہت سی یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز سٹیم یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے مضامین ہوتے ہیں۔ مگر درجہ بندی کے اس  نئے فارمولے کے تحت جس میں مضامین کے علاوہ   کتابوں اور ان کے ابواب کی اشاعت کو بھی  بحیثیت "تحقیقی مواد” کے  شامل کر لیا گیا ہے، ان یونیورسٹیوں کو خاطرخواہ نمائندگی حاصل ہوگئی ہے جہاں آرٹس اور بشریاتی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

[table id=124 /]