عالمی سطح پر امریکی ویکسین کی تقسیم: انسانی زندگیاں بچانے کا ذریعہ

ویکیسین کے قطروں والی نلکی پکڑے ہوئے شخص کے سامنے مسکراتا ہو بچہ (USAID/MCSP/Allan Gichigi)
یوایس ایڈ کے زچہ و بچہ کے صحت کے پروگرام کے تحت دنیا کے 23 ممالک میں صحت کے منصوبوں میں مدد کی جا رہی ہے۔ اِن ممالک میں کینیا بھی شامل ہے جہاں اوپر تصویر میں مشرقی پوکوٹ کے مقام پر 2016ء میں اس بچے کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ (USAID/MCSP/Allan Gichigi)

امریکہ کی ویکسینوں کی دنیا بھر میں تقسیم میں مدد سے لاتعداد انسانی جانوں کو بچایا جا چکا ہے اور مستقبل میں کووڈ-19 کی تقسیم کے لیے بنیادی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

ویکسین کے گاوی نامی اتحاد اور پولیو کے خاتمے کے عالمگیر پروگرام (جی پی ای آئی) جیسی بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے، بیماریوں کی روک تھام اور اُن پر قابو پانے کے ادارے اور امریکہ کے نجی شعبے نے ویکسین کی تقسیم اور خسرے،  جرمن خسرے، زرد بخار، خناق اور پولیو جیسی بیماریوں کی روک تھام کی کوششوں پر گزشتہ 20 برسوں میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

یو ایس ایڈ کی نائب منتظمہ، بونی گلک نے جون میں کہا کہ ویکسینوں کی تقسیم  کے بین الاقوامی بنیادی ڈھانچے میں امریکی سرمایہ کاری مستقبل کی کووڈ-19 کی ویکسین کے لیے بنیاد کا کام کرے گی۔

انہوں نے 4 جون کو ایک ٹویٹ میں کہا، "ہماری مدد نہ صرف امریکی دریا دلی اور ہمدردی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ ہماری اس سوچ کا عملی ثبوت بھی ہے کہ صحت کی عالمی سلامتی ایک اجتماعی کوشش ہے۔ جیسا کہ موجودہ عالمی وبا سے واضح ہوا ہے، کسی ایک جگہ پر بیماری سے پیدا ہونے والا خطرہ  دنیا بھر کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔”

 دستانے اور حفاظتی گاؤن پہنے ہوئے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک تیلی اور امتحانی نلکی پکڑی ہوئی ہے جس پر پرچی لگی ہوئی ہے (© Taimy Alvarez/AP Images)
میامی یونیورسٹی میں 2 ستمبر کو ایک نرس رضاکارانہ طور پر کووڈ-19 کی ویکسین لگوانے والے شخص کے لیے ویکیسین تیار کر رہی ہے۔ میامی کا شمار اُن درجن بھر شہروں میں ہوتا ہے جہاں کووڈ-19 کی ممکنہ ویکسین کے آزمائشی تجربات کیے جا رہے ہیں۔ (© Taimy Alvarez/AP Images)

طبی تحقیق میں امریکہ عالمی لیڈر ہے اور کووڈ-19 کی کئی ایک ایسی ویکسینوں کی تیاری میں مدد کر رہا ہے جو آزمائشی تجربات کے آخری مراحل میں ہیں۔ امریکہ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی اچھی خاصی سرمایہ کاری کر رہا ہے کہ جب ویکسینوں کا محفوظ ہونا اور موثر ہونا ثابت ہو جائے تو انہیں تیزی سے لوگوں تک پہنچایا جائے۔

امریکہ طویل عرصے سے چلنے والے صحت کے عالمی پروگراموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو آگے بڑہاتے ہوئے، عالمی سطح پر کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے 20.5 ارب ڈالر سے زائد کی رقم لگا چکا ہے۔

2001ء سے امریکی حکومت یو ایس ایڈ کے ذریعے دنیا کے غریب ترین ممالک میں 822 ملین سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے میں مدد کے طور پر، "گاوی” کو 2.8 ارب ڈالر کے قریب امداد دے چکی ہے اور اس سے 14 ملین انسانی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔

"گاوی” کو 300 ملین سے زائد بچوں کو زندگیاں بچانے والی ویکیسینیں لگانے اور آٹھ ملین اضافی زندگیاں بچانے کے لیے، جون میں یو ایس ایڈ نے 1.16 ارب ڈالر کی امداد دینے کے وعدے کا اعلان کیا۔ یہ امداد 2020 تا 2023 کے مالی سالوں کے دوران دی جائے گی اور یہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے۔

1988ء میں امریکہ کی بھرپور مدد کے ساتھ  شروع  کیے گئے پولیو کے خاتمے کے جی پی ای آئی پروگرام کے تحت کی جانے کوششوں سے دنیا بھر میں پولیو کے مریضوں میں 99.9% سے زائد کمی آئی ہے۔ اگست میں افریقہ نے صحت عامہ کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل اس وقت عبور کر لیا جب افریقہ میں  پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔

سی ڈی سی، جی پی ای آئی کو دو ارب ڈالر سے زائد کی رقم فراہم کر چکی ہے۔ اس کے علاہ ایک طویل عرصے سے یو ایس ایڈ بھی مدد کرتا چلا آ رہا ہے۔

ویکیسینوں کی تقسیم میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے بھی امریکہ اور اس کی شراکت دار تنظیمیں مدد کر چکی ہیں۔ محفوظ طریقے سے ویکیسین لگانے کے لیے ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سرنجوں کی فراہمی کے علاوہ یو ایس ایڈ ویکیسینوں کی بوتلوں پر اس قسم کے انتباہی لیبل لگانے کے لیے بھی رقومات فراہم کر چکا ہے جن کا ایسی صورت میں رنگ تبدیل ہو جاتا ہے جب زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ویکسین غیرموثر ہو جاتی ہیں۔

امریکی کمپنیاں ویکیسیوں کے ذریعے  بروقت روک تھام والی امراض اور فراہمی کے محفوظ نظام کے لیے کی جانے والی اختراعات میں مدد کر رہی ہیں۔ اس طرح تیار کی جانے والی ٹکنالوجی کو بعد میں کووڈ-19 اور دیگر بیماریوں کے لیے تیار کی جانے والی ویکسینوں کی فراہمی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

2 ستمبر کو وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے کہا، "دنیا بھر میں ویکیسینیں پہنچانے میں جتنا پرعزم ریاستہائے متحدہ امریکہ چلا آ رہا ہے یا رہے گا اتنا پرعزم کوئی بھی دوسرا ملک نہیں ہے۔”