دنیا بھر میں کورونا وائرس کی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے امریکہ نے ویکسین تیار کرنے والوں کے اتحاد، گیوی کو 1.16 ارب ڈالر سے زائد بطور عطیہ دیئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 4 جون کو برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والی گیوی کے لیے عطیات کے عوامی وعدوں کی کانفرنس کے لیے گیوی کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا۔

امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) کی نائب منتظمہ، بونی گلِک نے اسے امریکہ کی طرف سے گیوی کو عطیے میں دی جانے والی سب سے بڑی رقم قرار دیا۔ روک تھام کے قابل متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور عالمی وبا کووڈ-19 کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کی سست رفتاری کو روکنے کے لیے کئی سالوں پر پھیلا امریکہ کا یہ وعدہ، دوسرے ممالک کے ساتھ جاری امریکی شراکت کاری کی عکاسی کرتا ہے۔

گلِک نے 4 جون کو اپنی ٹویٹ میں کہا، "ہماری امداد امریکی سخاوت اور ہمدردی کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اس فہم کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی پیمانے پر صحت کی سلامتی ایک اجتماعی کاوش ہے۔ جیسا کہ موجودہ وبا نے ثابت کیا ہے کہ بیماری کا کسی بھی جگہ خطرہ، دنیا میں ہر جگہ کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔”

امریکہ نے صحت کی عالمی سلامتی کے منصوبوں؛ کووڈ-19 کی ویکسینوں کی تیاری، علاج اور تشخیصات؛ انسانی امداد؛ اور ہنگامی تیاری کے لیے 12 ارب ڈالر سے زائد مختص کیے ہیں۔ امریکہ کا حفاظتی ٹیکوں کے ساتھ عزم امریکہ میں اور دیگر ممالک میں اُن اختراع پسندوں کے کام کی تکمیل کرتا ہے جو کووڈ-19 کے لیے ویکسین اور علاج تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششںیں کر رہے ہیں۔

گیوی نجی اور سرکاری شعبوں کے درمیان ایک شراکت کاری ہے اور اسے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے 2000ء میں 750 ملین ڈالر کے سرمائے کے ساتھ شروع کیا تھا۔ گیوی صحت کے عالمی نظام کی مضبوطی اور دنیا بھر میں متعدی بیماریوں کی ویکسین پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔

اپنے بیان میں گلِک نے کہا کہ گیوی کے لیے نئی مالی امداد سے امریکی حکومت کی عالمی سطح پر ویکسین کے اُس بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا پتہ چلتا ہے جو کووڈ-19 کے لیے مستقبل کی ویکسین تیار کرنے کی کاوشوں کے لیے ایک بنیاد کا کام دے سکتی ہیں۔ اس رقم سے گیوی کے دنیا کی ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید طریقہ کار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس میں خسرے، پیلے بخار اور خناق سمیت ویکسین کے ذریعے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں تک بہتر رسائی بھی شامل ہے۔

دنیا کے خطرات کے شکار تقریباً نصف سے زیادہ بچوں کی مدد کرنے والے، گیوی نے حال ہی میں ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں دریافت کی جانے والی کووڈ-19 کی کوئی بھی ویکسین اتنی مقدار میں تیار کی جائے جو کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کو یکساں مقدار میں میسر ہو۔

بہت سے امریکی شراکت کار پہلے ہی سے انسانوں پر کووڈ-19 کی ویکسینوں کے یہ یقینی بنانے کے لیے تجربات کر رہے ہیں کہ یہ ویکسینیں محفوظ اور موثر ہیں۔ امریکہ کے حیاتیاتی طب کی تحقیق اور ترقی کا ادارہ (بی اے آر ڈی اے یا بارڈا) کووڈ-19 ویکسین تیار کرنے والی کئی ایک کمپنیوں کی مالی مدد کر رہا ہے۔

بارڈا نے حال ہی میں برطانوی اور سویڈش دوا ساز کمپنی، آسٹرا زینیکا کو امریکہ کے لیے کووڈ-19 ویکسین کی 300 ملین خوراکیں تیار کرنے کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ویکسین کی فراہمی 2020ء کے آخر تک شروع ہو جائے گی بشرطیہ کہ یہ ویکسین کلینکوں میں مریضوں پر کیے جانے والی آزمائشوں میں محفوظ اور موثر ثابت ہو۔ آسٹرا زینیکا یہ ممکنہ ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کررہی ہے۔

اسی دوران امریکی حکومت "پورے امریکہ” کی سوچ کو اپناتے ہوئے ملک کے اندر بھی ویکسین کی تحقیق اور تیاری میں مدد کر رہی ہے۔ حکومت نے یکم جون کو میری لینڈ کی "ایمرجنٹ بائیو سولیشنز” نامی کمپنی کے ساتھ 628 ملین ڈالر مالیت کے ایک ٹھیکے کا اعلان کیا تاکہ ویکسین کی دریافت اور اس کی تیاری کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

بارڈا سرنجیں اور شیشے کی نلکیاں بنانے والوں کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا ہے تاکہ جب ایک محفوظ اور موثر ویکسین سامنے آ جائے تو کووڈ-19 ویکسین فراہم کرنے کے لیے درکار سامان کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔