عراق میں داعش کی مستقل شکست کو یقینی بنانے میں امریکہ مدد کرتا ہے

عراق میں امریکی افواج جمہوری اقدار کو محفوظ بنانے اور داعش پر مشترکہ فتح کو برقرار رکھنے کے لئے عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہیں۔

گزشتہ مارچ میں امریکہ کے زیرقیادت عالمی اتحاد کے ہاتھوں داعش کی خلافت کی تباہی کے نتیجے میں، اپریل 2015 کے بعد سے 45 لاکھ عراقی شہری اپنے ملک واپس لوٹنے کے قابل ہوئے اور 110,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ کا علاقہ آزاد کرایا گیا۔ امریکہ داعش کی مستقل شکست کو یقینی بنانے کے لئے عراقی فوجیوں کے ساتھ باہمی تعاون کا عزم کیے ہوئے ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے 2 جنوری کو صحافیوں کو بتایا، “وہ ہماری میزبانی کر رہے ہیں۔ ہم عراقی حکومت کی دعوت پر وہاں موجود ہیں۔ ہم وہاں داعش کی مستقل شکست کو یقینی بنانے کے لئے موجود ہیں جس کے لیے ہم عراقیوں کے ساتھ قریبی طور پر مل کر تربیت، مشورے اور مدد فراہم کرنے کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔”

داعش کو شکست دینے کے لئے عالمی اتحاد میں اضافہ جاری ہے اور اب اس کے ارکان کی تعداد 81 ہے جن میں 76 ممالک اور 5 بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں ۔

داعش کی شکست کے بارے میں اعداد و شمار۔ (State Dept./D. Thompson)
(State Dept./D. Thompson)

امریکی وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے اکتوبر 2019 میں لیڈر ابو بکر البغدادی کی ہلاکت سمیت، اتحاد کی کامیابیوں کی تعریف کی۔

امریکہ داعش کی مستقل شکست کو یقینی بنانے اور ایک مستحکم اور پرامن عراق کی تعمیر کے لئے پرعزم ہے۔ امریکہ نے 2014ء سے لے کر اب تک دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی خوراک، پانی، ادویات اور پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ 500 سے زائد سکولوں اور صحت کے 100 مراکز کی تعمیر نو میں مدد کی ہے۔

امریکہ عراقی عوام کے بھی شانہ بشانہ کھڑا ہے جو اپنے سیاسی معاملات میں ایرانی حکومت کے اثر و رسوخ کے خلاف مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر ہلاک کر چکی ہے۔

پومپیو نے کہا ہے کہ دنیا کے اور ایران کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں شمار ہونے والے ایک دہشت گرد، قاسم سلیمانی کے خلاف صدر ٹرمپ کے فیصلہ کن اقدام سے عراق اور امریکہ ایک خوشحال اور محفوظ تر دنیا کو یقینی بنانے کے قریب تر پہنچ چکے ہیں.

ٹوئٹر کی عبارت کا خلاصہ:

محکمہ خارجہ

وزیر خارجہ پومپیو نے امید ظاہر کی ہے کہ عراقی عوام وہ کام کرتے رہیں گے جو وہ مہینوں سے کر رہے ہیں یعنی یہ مطالبہ کہ عراقی حکومت انہیں آزادی، خوشحالی اور ایرانی اثر و رسوخ سے آزاد خودمختاری دے۔