عوامی جمہوریہ چین: بہت سے پڑوسی، بہت سے تنازعے

اگر آپ کا ملک عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کے قریب واقع ہے تو اس بات کا اچھا خاصا امکان ہے کہ آپ کا پی آر سی کے ساتھ کوئی نہ کوئی علاقائی تنازعہ چل رہا ہوگا۔

حالیہ مہینوں میں پی آر سی نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر  بھارتی فوجیوں پر حملہ کیا اور انہیں ہلاک کیا، بحیرہ مشرقی چین میں جاپانی بحری جہازوں کو ہراساں کیا، اور بحیرہ جنوبی چین میں ویت نام کی ماہی گیر کشتی کو ڈبویا۔

پی آر سی کی نام و نہاد “نائن ڈیش لائن” (سمندری سرحد) کے ذریعے بحیرہ جنوبی چین میں اُن پانیوں پر دعوی کیا جاتا ہے جو درحقیقت دوسری علاقائی ریاستوں کے زیادہ قریب واقع ہیں۔ امریکی عہدیدار کہتے ہیں کہ بیجنگ نے 2009ء میں باضابطہ طور پر  کیے گئے اس دعوے کے حق میں کوئی مربوط بنیاد فراہم نہیں کی۔

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 8 جولائی کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں چین کے سمندری اور علاقائی تنازعات سب سے زیادہ ہیں۔

پومپیو نے کہا، “ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں سے لے کر ویت نام کے خصوصی علاقے، اور سنکاکو جزائر تک بلکہ اس سے بھی آگے تک، بیجنگ نے علاقائی تنازعات کو ہوا دینے کی ایک روش اپنا رکھی ہے۔ دنیا کو اس غنڈہ گردی کو نہیں چلنے دینا چاہیے اور نہ ہی اسے جاری رہنے کی اجازت دینا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے پڑوسی ممالک اس بات پر یقین نہیں کر سکتے کہ پی آر سی اُن کی قومی خود مختاری کا احترام کرے گا۔

ذیل میں پی آر سی کی اپنے پڑوسیوں کے خلاف کی جانے والی حالیہ ترین جارحیتوں میں سے کچھ بیان کی گئی ہیں:-

زمین پر

بھارت: 15 جون کو پی آر سی کے فوجیوں نے بھارت کے ساتھ اُس مہلک تصادم کو ہوا دی جس کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق گزشتہ 45 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والا یہ بدترین تصادم تھا۔

 صدمے سے دوچار افراد کا ایک گروپ، مشرقی ایشیا کا نقشہ اور بھارتی فوجیوں کی چینیوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے بارے میں بیان (State Dept./S. Gemeny Wilkinson; photo © Mahesh Kumar A./AP Images)

میکانگ کا علاقہ: سیٹلائٹ کی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے روئیٹر نے بتایا ہے کہ 2019ء میں چین میں دریائے میکانگ پر تعمیر کیے گئے ڈیموں نے ویت نام، لاؤس اور کمبوڈیا جیسے زیریں ممالک میں خشک سالی کی حالت کو ابتر بنا دیا ہے حالانکہ اس مدت کے دوران بالائی علاقوں میں پانی کی سطح معمول سے بھی زیادہ رہی۔

سمندر میں

ویت نام: 3 اپریل کو چین کے کوسٹ گارڈ نے ویت نام کی مچھلیاں پکڑنے والی ایک کشتی کو ٹکر مار کر ڈبو دیا۔ 2009ء کے بعد بحیرہ جنوبی چین میں اپنے غیرقانونی دعووں کو ثابت کرنے کے لیے  پی آر سی کی کاروائیوں کے سلسلے کی، یہ ایک تازہ ترین کڑی ہے۔ دسمبر 2019 سے لے کر اب تک ویت نام، فلپائن اور انڈونیشیا، ہر ایک ملک بحیرہ جنوبی چین میں چین کے غیرقانونی سمندری دعووں پر عوامی سطح پر احتجاج کر چکا ہے۔

 بحریہ کا جہاز، مشرقی ایشیا کا نقشہ اور مچھلیاں پکڑنے والی کشتی کو ٹکر مارنے والے چینی جہاز کے بارے میں بیان (State Dept./S. Gemeny Wilkinson; photo © Nguyen Minh/Reuters)

جاپان: 8 سے 10 مئی، چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز بحیرہ مشرقی چین میں سینکاکو جزائر کے ارد گرد جاپان کے علاقائی پانیوں میں داخل ہوئے اور جاپان کی مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں کو ہراساں کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جاپانی کوسٹ گارڈ نے چینی جہازوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔

جون میں، جاپان نے یہ اطلاع بھی دی کہ ایک چینی آبدوز سنکاکو جزائر کے قریب پانیوں میں داخل ہوئی۔ جاپان سنکاکو جزائر کا اتنظام چلاتا ہے مگر چین بھی اس کا دعویدار ہے۔

ملائشیا: دسمبر اور جنوری میں، ایشیا کے سمندری شفافیت کے پروگرام کے مطابق  تیل اور گیس کے سمندری علاقوں میں توانائی کی تلاش کرنے کے ملائشیا کے کام میں چین کے کوسٹ گارڈ نے مداخلت کی۔

 بحریہ کا جہاز، مشرقی ایشیا کا نقشہ اور  ملائشیا کے پراجیکٹ میں مداخلت کرنے والے چینی جہازوں کے بارے میں بیان (State Dept./S. Gemeny Wilkinson; photo © Renato Etac/AP Images)

فلپائن: دسمبر سے پی آر سی کی سمندری ملیشیا بحیرہ جنوبی چین میں فللپائن کے  دور دراز علاقوں میں مداخلت  کرتی چلی آ رہی ہے جس کی وجہ سے تھیٹو جزیرے پر سہولتوں کو بہتر بنانے کے کام میں خلل پڑا ہے۔  

 ایک طیارہ بردار اور ایک عام جہاز کے قریب پرواز کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر اور طیارے (U.S. Navy/Mass Communication Specialist 3rd Class Olivia Banmally Nichols)
بحیرہ جنوبی چین میں 6 جولائی کو دکھائی دینے والے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس نمٹز کی سڑائیک فورس نے بحرہند میں جولائی میں بھارتی بحریہ کے ساتھ مشقیں کین۔ (U.S. Navy/Mass Communication Specialist 3rd Class Olivia Banmally Nichols)

چین کی جارحیت کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے امریکہ شراکتداروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

پومپیو نے کہا کہ جیسے مناسب ہوا امریکہ اتحادیوں کے ساتھ چینی جارحیت کا جواب دینے کے لیے شراکت کاری کرے گا۔ 13 جولائی کے ایک پالیسی بیان میں، امریکہ نے 12 جولائی 2016 کو باضابطہ طور پر بین الاقوامی ٹربیونل کے متفقہ فیصلے کی حمایت کی جس میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں چین کے دعووں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔