عوام کا سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کا قانونی طریقہ

فائلوں کی الماری کے دراز میں پڑی فائلیں (© Shutterstock)
(© Shutterstock)

کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پولیس نے گاڑی چلاتے وقت ٹیکسٹنگ کرنے والے کتنے ڈرائیوروں کے چالان کیے؟

یا ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ایسے صحافی ہوں جو یہ جاننا چاہتا ہو کہ ایک طویل عرصے سے کام کرنے والے سرکاری اہلکار کو اچانک کیوں ریٹائر کر دیا گیا۔

امریکہ میں کوئی بھی شخص فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ (معلومات کے حصول کی آزادی کے قانون) (ایف او آئی اے) کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ یہ ریکارڈ ای میلز، الیکٹرانک پیغامات، پولیس رپورٹوں، اخراجات کی رپورٹوں یا دیگر سرکاری دستاویزات کی شکل میں ہوں، حکومت سے سرکاری ریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست دی سکتی ہے۔

1967ء میں نافذالعمل ہونے والا یہ قانون وفاقی، ریاستی اور مقامی حکومتی اداروں کو مانگی جانے والی معلومات جاری کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ البتہ نجی رازداری یا قومی سلامتی جیسی معلومات کو خصوصی استثنا حاصل ہیں۔

ایف او آئی اے سے حکومتی شفافیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ایف او آئی اے سے قبل ریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست دینے کا کوئی باقاعدہ عمل موجود نہیں تھا۔ ایف او آئی اے کے معاملات کے ایک پرانے وکیل، مارک ایس زید بتاتے ہیں اس قانون سے پہلے سرکاری ادارے ایسے معاملات میں انتظامی طریقہ کار کے قانون مجریہ 1946 کے تحت تعاون کیا کرتے تھے۔

زید کا کہنا ہے، “ایف او آئی اے کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ حکومت کیا کرنے والی ہے۔ حکومت چلانے کا بہترین طریقہ شفافیت ہے۔ اور اگر ہمیں (عوام کو) یہ علم ہو کہ حکومت پسِ پردہ کون سی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے تو عوام اس بارے میں باخبر فیصلے کرسکتے ہیں کہ کس شخص کو انتخابات کے ذریعے منتخب کرکے دفتر میں بٹھایا جائے۔”

ایف او آئی اے قوانین کے تحت تحریری طور پر درخواست اس ادارے کو بھیجی جاتی ہے جس کے پاس متعلقہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔ جواب حاصل کرنے کے لیے درخواست گزار سے درکار معلومات مختلف ریاستوں اور شہروں میں مختلف ہوتی ہیں۔

وفاقی حکومت کو چھٹیاں نکال کر 20 کاروباری دنوں میں جواب دینا ہوتا ہے بشرطیکہ غیر معمولی حالات درپیش نہ ہوں۔ معلومات فراہم کرنے کے ذمہ دار ادارے میں درخواست کے موصول ہونے کے ساتھ ہی 20 دن کی مدت کا آغاز ہو جاتا ہے۔

اگر حکومت یعنی وفاقی، ریاستی یا مقامی حکومتیں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیں تو درخواست گزار کو عدالت میں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

محکمہ انصاف کے مطابق، سنہ 2019 میں وفاقی حکومت کو ایف او آئی اے کی 858,952 درخواستیں موصول ہوئیں جو اس سے پہلے کے سال موصول ہونے والی 863,729 درخواستوں سے تھوڑی سی کم تھیں۔

2007 سے لے کر 2019 تک موصول ہونے والی ایف او آئی اے کی درخواستوں کی تعداد کے بارے میں گراف۔ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

وفاقی حکومت کے اداروں کو موصول ہونے والی ایف او آئی اے کی درخواستوں کی تعداد کے بارے میں چارٹ (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

اگرچہ یہ قانون صحافیوں کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا تھا مگر اسے ہر ایک شہری استعمال کرسکتا ہے۔ سال 2017 کے ایف او آئی اے کے میپر (نقشے) کے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ قانون کی فرموں سمیت تجارتی اداروں نے مذکورہ سال کے لیے نمونے کے حجم کے اندرایف او آئی اے کی سب زیادہ درخواستیں داخل کیں۔ (اس مطالعے میں وفاقی حکومت کے 85 اداروں کو بھیجی گئیں 229,000 درخواستوں کا تجزیہ کیا گیا۔)

چارٹ جس میں دکھایا گیا ہے کہ وفاقی اداروں کو ایف او آئی اے کی سب سے زیادہ درخواستیں کون بھیجتا ہے (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)چارٹ جس میں دکھایا گیا ہے کہ تجارتی ادارے ایف او آئی اے کی اپنے درخواستیں کہاں کہاں بھیجتے ہیں (State Dept./S. Gemeny Wilkinson)

امریکہ کے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمشن کو سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں جب کہ دوسرے نمبر پر امریکہ کا سابقہ فوجیوں کے امور کا محکمہ رہا۔

کوئی تجارتی ادارہ یہ کیوں جاننا چاہے گا کہ حکومت کیا کرنے والی ہے؟ زید بتاتے ہیں اس کا تعلق غالباً منڈی سے ہے۔ خاص طور پر بڑی کمپنیاں اپنی مسابقتی کمپنیوں کے بارے میں چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک سب کچھ جاننا چاہتی ہیں۔