Two people standing in the bucket of a cherry picker (Claire Novak)
کینیا کی بجلی کی کمپنی یوٹلٹی کمپنیوں میں صنفی توازن قائم کرنے میں شراکت کار ہے۔ اس کمپنی میں کام کرنے والوں کا 25 فیصد عورتوں پر مشتمل ہے۔ عورتیں بجلی کی لائنوں پر کام کرنے سمیت تقریباً سبھی شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ (Claire Novak)

دنیا کی آبادی کا نصف حصہ عورتوں پر مشتمل ہے۔ مگرجب ہم باضابطہ ملازمتوں کی بات کرتے ہیں تو اِن کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ خصوصی طور پر توانائی کے شعبے میں صنفی تنوع کا فقدان ہے۔

بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے ایک پروگرام سے اِس صورت حال کے تبدیل ہونے کی امیدیں پیدا ہو چلی ہیں۔

انیتا پیتروسکا رسوماروسکی  شمالی مقدونیہ کی ای وی این نامی توانائی کی ایک بڑی کمپنی میں انسانی وسائل کے شعبے کی سربراہ ہیں۔ اُن کی کمپنی یو ایس ایڈ کے یوٹلٹیز یعنی بجلی، پانی، گیس  وغیرہ کی کمپنیوں میں صنفی توازن پیدا کرنے کے پروگرام میں شراکت کار ہے۔ انیتا کہتی ہیں، “صنفی عدم توازن اکثر اعلٰی سطح کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے …  مگر بعض اوقات یہ نادانستہ، مخفی اور غیرمحسوس تعصبات کی شکل میں بھی سامنے آتا ہے۔”

انیتا صنفی توازن پیدا کرنے میں شمار ہونے والی بڑی بڑی مشکلات میں سے ایک مشکل کے بارے میں بات کرتی ہیں: یعنی پیشہ ور افراد کے اُس اندازِ فکر کو تبدیل کرنا جس کے مطابق وہ کام کی جگہ پر عورتوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔

Workers in safety vests and hard hats listening to another worker speak (USAID)
یوٹلٹی کمپنیوں میں صنفی توازن پیدا کرنے کے پروگرام کی ٹیم کے اراکین موزمبیق کی بجلی کی “الیکتریسیدادے موزمبیق” (ای ڈی ایم موزمبیق) نامی کمپنی کے عملے سے مل رہے ہیں۔ (USAID)

یوٹلٹیز کمپنیوں میں صنفی توازن  پیدا کرنے میں  یو ایس ایڈ کی  توجہ بجلی کے شعبے میں کام کرنے والی عورتوں اور خصوصی طور پر اعلٰی تنخواہوں والے ٹکنیکل اور قائدانہ عہدوں  پر مرکوز ہے۔ عورتوں کی پیشہ وارانہ شرکت میں اضافہ کرنے کی خاطر یو ایس ایڈ 2015ء  سے لے کر آج تک نو ممالک میں 11 یوٹلٹی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کاری کر چکا ہے۔

عملی طور پر یہ کام کیسے کیا جاتا ہے؟ جارجیا کی “انرگو پرو” نامی کمپنی دلچسپی رکھنے والی عورتوں کو پانی سے بجلی پیدا کرنے والے مقامات کے دورے کراتی ہے۔ “کینیا پاور” لڑکیوں کی سٹیم یعنی سائنس، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے مضامین پڑھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اس شعبے میں نوجوان عورتوں کے آنے میں آسانیاں پیدا کرنے کی خاطر ای وی این کمپنی شمالی مقدونیہ میں الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ذہین طالبات کو وظیفے دیتی ہے۔

Girls gathered around electrical sphere (EDCO)
“اپنی بیٹی کو اپنے کام والی جگہ لے کر آئیں” والے دن لڑکیاں اردن کی “الیکٹرک ڈسٹری بیوشن کمپنی” نامی بجلی کی کمپنی میں ٹکنیکل پیشوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ (EDCO)

کوئین ایستھر نائجیریا کی ایک نوجوان طالبہ ہیں۔ انہیں اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا کبھی بھی پتہ نہ چلتا اگر اُن کی بجلی کی مقامی کمپنی، ای کے ای ڈی سی نے مختلف تقریبات منعقد نہ کی ہوتیں۔ وہ کہتی ہیں، “اب میں انجنیئر بننا چاہتی ہوں کیونکہ یہ بڑے مزے کا کام ہے۔:

Four people in hard hats standing near large electrical equipment (USAID)
یوٹلٹی کمپنیوں میں صنفی توازن پیدا کرنے والی”کوسوو اوپریٹر سسٹمی، ٹرانسمسیونی دا ٹریگو ایس ایچ اے (کے او ایس ٹی ٹی) نامی شراکت کار کمپنی کے عملے کے افراد یو ایس ایڈ کی ٹیم کے ارکان کے کمپنی کے دورے کے موقع پر اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ (USAID)

نائجیریا کی بجلی کی ای کے ای ڈی سی کمپنی کے سابقہ سربراہ اولاڈیلی اموڈا کا کہنا ہے، “صنفی توازن کا فروغ ہماری کمپنی کی بنیادی قدر ہے۔ پہلے سے ہی ہماری کمپنی میں چھ اعلٰی عہدوں میں سے چار پر خواتین فائز ہیں۔”

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب زیادہ سے زیادہ عورتیں فیصلہ سازی اور قائدانہ کاموں میں شامل ہوتی ہیں تو کمپنیاں زیادہ موثر بلکہ بعض حالات میں زیادہ منافع بخش بن جاتی ہیں۔ جب عورتوں کو اِن کاموں میں شامل کیا جاتا ہے تو عالمی، قومی اور مقامی معیشتیں سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔

یہ مضمون یو ایس ایڈ کے الیگزینڈدر ویسٹ نے تحریر کیا۔ مفصل شکل میں یہ مضمون یو ایس ایڈ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔