عورتوں کی معاشی با اختیاری کی راہ پر امریکہ کی عالمگیر قیادت

عورتوں کو دنیا کے اقتصادی مستقبل اور کووڈ-19 کی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہی بات 23 اکتوبر کو دستخط کیے جانے والے امریکی سربراہی میں عورتوں کی معاشی با اختیاری  کے لیے متحرک ہونے کے مطالبے میں کہی گئی ہے۔

متحرک ہونے کے مطالبے پر دنیا کے ہر ایک خطے سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے جن 31 رکن ممالک نے دستخط کیے ہیں اُن میں افغانستان، بھوٹان، ایستونیا، اور روانڈا بھی شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ عورتیں آزادانہ اور مکمل طور پر عالمی معیشت میں شرکت کر سکیں۔

متحرک ہونے کے مطالبے کی لنچ کی ایک تقریب میں صدر کی مشیر، ایوانکا ٹرمپ نے کہا، کہ یہ معاہدہ "امریکہ اور 31 ممالک پر مشتمل مرکزی گروپ کے دنیا بھر کی عورتوں کو معاشی مواقع مہیا کرنے کے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے۔”

انہوں نے آخر میں کہا، "ہم اس حمایت میں اضافے کو جاری رکھنے کے متمنی ہیں۔”

متحرک ہونے کے مطا لبے کے 12 وعدوں میں عورتوں کی تعلیم، معاشی مواقع، اور اُن کے ملکوں کی معیشتوں میں عورتوں کی مکمل شرکت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں عورتوں کے گھریلو کام کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور یہ وضاحت کی گئی ہے کہ خاندان کی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم، عورتوں کی معاشی با اختیاری کے لیے کس طرح ماحول تیار کرتی ہے۔

23 اکتوبر کے لنچ میں، وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نےاس بات کا خاص طور پر ذکر کیا، "ہمارے ملک کی بنیاد اس کھلی سچائی پر رکھی گئی ہے کہ ہر ایک مرد اور عورت کو خاص قسم کے ناقابل تنسیخ حقوق حاصل ہیں، اور  وہ  خدا کی عطا کردہ اپنی صلاحیتون کو بروئے کار لانے کے مواقع کے مستحق ہیں۔”

محترک ہونے کا مطالبہ دنیا بھر میں معاشی طور پر عورتوں کو با اختیار بنانے کے محکمہ خارجہ کے آزمودہ  پروگراموں کے کام کو آگے لے کر چلتا ہے۔ اِن میں سے ایک "عورتوں کی عالگیر ترقی و خوشحالی” (ڈبلیو- جی ڈی پی) کا پروگرام بھی ہے۔

مثال کے طور پر پیرو سے تعلق رکھنے والی میگالی ہوالپا، محکمہ خارجہ کے ڈبلیو- جی ڈی پی پروگرام کے تحت کام کرنے والی کاروباری نظامت کار عورتوں کی اکیڈمی کی گریجوایٹ ہیں۔ اپنی اس تربیت کے نتیجے میں انہوں نے چاکلیٹ کا ذاتی کاروبار شروع کیا اور پیرو کے شہر کوزکا میں بہترین چاکلیٹ بنانے والوں کا ایوارڈ جیتا۔

پومپیو نے متحرک ہونے کے مطالبے کے لنچ میں اُن کی کامیابیوں کی تعریف کی اور بتایا کہ اُن کی محنت کی وجہ سے کس طرح اُن کا خاندان، کاروبار اور کمیونٹی مستفید ہوئے۔

پومپیو نے کہا، "اُن ( میگالی ہوالپا) کی کہانی اُن اثرات کی جہتوں کو بیان کرتی ہے جو تعلیم اور معاشی آزادی سے پورے معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔”