عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ: انسانی حقوق کی ضرورت

دنیا 25 نومبر کو عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن کا مقصد عورتوں کو دنیا بھر میں جس نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کے بارے میں آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ عورتوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کو انسانی حقوق کی ایک ضرورت قرار دیتا ہے۔ تشدد عورتوں اور لڑکیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور یہ اُن کی خوشحالی اور قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیتیں بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

محکمہ خارجہ، “وائسز اگینسٹ وائلنس کنسورشیم” (تشدد کے خلاف آوازوں کی تنظیم) کی حمایت کرتا ہے۔ سرکاری اور نجی شراکت کاری کی یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کو، بالخصوص جنگ زدہ علاقوں میں طبی سہولتیں، روزگار اور قانونی خدمات فراہم کرتی ہے۔

 دنیا بھر تشدد کا سامنے کرنے والی عورتوں سے متعلق اعداد و شمار (State Dept./Buck Insley)

تشدد کرنے والوں کوعموماً اُن کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا اور تشدد کا شکار ہونے والی بہت سی عورتوں کو وہ مدد نہیں ملتی جن کی انہیں اس صورت حال سے نکلنے میں ضرورت ہوتی ہے۔

جنگ سے پہلے، جنگ کے دوران اور بعد میں عورتوں پر کیے جانے والے تشدد سے امن قائم کرنے میں مخصوص قسم کی مشکلات سامنے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی عورتوں، امن اور سلامتی کی پالیسی کے مقاصد میں دیگر نکات کے علاوہ، تحفظ کو مضبوط بنانا، قائدانہ مہارتیں پیدا کرنا، اور عورتوں کی وسائل تک رسائی میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔

اس حکمت عملی میں عورتوں کے با اختیار بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے اور کامیابی کے لیے درکار مہارتیں اور مدد حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس سال کے اوائل میں محکمہ خارجہ نے اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے کا ایک منصوبہ جاری کیا اور اسے ایک ترجیح بنایا۔

اقوام متحدہ میں امریکی مشن اور امریکی وزیر خارجہ کے عورتوں کے عالمی مسائل کے دفتر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، “جنگ میں جنسی تشدد کو روکا جا سکتا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا کے لیے کام کر رہے ہیں جس میں (عورتوں) کے خلاف کیے جانے والے (جنسی) جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایسے میں ہم (جنسی تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں) کے ساتھ کھڑے ہیں۔”